Chitral Times

Sep 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایجوکشن ڈیویلپمنٹ فوروم اوی کے زیر اہتمام مقابلہ حسنِ قرآت و نعت خوانی

شیئر کریں:

اپر چترال (چترال ٹائمز رپورٹ ) ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم آوی کے زیراہتمام گزشتہ روز مقامی سکول میں ایک شاندار پروگرا م کا انعقاد کیا۔ پروگرام میں حسنِ قرآت،نعت خوانی، کوئیز کمپیٹیشن،ڈرائینگ، اردو اور انگریزی تقریرکے مقابلے بچے اور بچیوں کے دررمیان کرائے گئے۔پروگرام کا دورانیہ دو دنوں پر مشتمل تھا۔

آخری مرحلے کے لیے کئی ایک بچے اور بچیاں مقابلے کے لیے کوالیفائی کر چکے تھے۔ ان کے درمیاں شاندار مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ ججز کے فرائض نوجوان شاعر،ادیب و لکھاری عبد اللہ شہابؔ اور ٹہنی کے مصنف،شاعر ادیب ظریف منور زمان انجام دے رہے تھے۔پروگرام میں کثیر تعداد میں مرد و خواتین موجود تھے۔

علاقے کے معتبرات میں سابق ضلعی سربراہ محکمہ صحت ڈاکٹر شیر قیوم،سابق ہیڈ ماسٹر اور ثقافتی شخصیت علی جبار، سابق پرنسپل اغا خان سکول عزت ولی شاہ،سابق ہیڈ ماسٹر شیر وزیر بھی پروگرام کو رونق بخش رہے تھے۔مہانِ خصوصی کے طور پر ذاکر محمد زخمیؔ کو مدعو کیا گیا تھا۔جبکہ اسٹیج کے فرائض ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم کے بانی رکن، ذاہد حسین خراسانیؔ نے انجام دی۔

خورشید علی نے فوروم کی اعراض و مقاص بیان کی جبکہ افگن رضا مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔فرحت عالم رضا اور الفت درانی مختلف سوالات کے جواب دینے کے لیے حاضر رہے۔مقابلے میں شرکت کرنے والے پرائمری اور ہائی پورشین کے علحیدہ علحیدہ گروپ پر مشتمل تھے۔ان میں حسنِ قرآت میں اریشہ عظم اول،نعت میں شہنیلہ زیب، انگریزی تقریر میں گل نامہ، اوردو دتقریر میں مناہل اسرار اول ائیے۔کوئیز میں زوہیب حسن اورالہام نظامی، ڈرائینگ میں مصباح رضااورمہک رضا ٹائٹیل کے حقدار ٹھیرے۔کریٹیو رائیٹنگ مہک ریال اوردو مہر شباب انگریزی میں اول اکر شیلڈ حاصل کی۔

مقابلے کی اختیتام پر مہمانِ خصوصی و دیگر معززین نے جیتنے والوں اور شراکا میں شیلڈ، اور سرٹیفکیٹ تقسیم کی۔ معززین میں ڈاکٹر شیر قیوم، عزت والیشاہ، استاد علی جبار، اور شیر وزیر نے پروگرام کے بارے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اسے کامیاب اور معیاری قرار دی اور مزید اس میں نکھار پیدا کرنے اور موثر بنانے کے لیے مخلف تجاویز بھی پیش کی۔مہمانِ خصوصی ذاکر محمد زخمیؔ نے شاندار پرگرام منعقد کرنے پر ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم اوی کو خراجِ تحسین پیش کی۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مثبت پروگرامات معاشرے میں دورس اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اور بدلتے ہوئے صورتحال میں اس طرح کے پروگرامات کی اشد ضرورت ہے۔انھوں نے خصوصاً خواتین کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری عزت،عظمت مینار قدیم الایام سے اپ سے وابستہ رہی ہے۔ چترال کو جو عزت ملی ہے وہ صرف چترال کی باعظمت ماوں،بہنوں اور بیٹیوں کی مرہون منت ہے۔ اور اس وقت بھی اپ کی کردار پہلے سے بڑھ کر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی اقدار کی پاسداری بھی آپ ہی کے زمے ہیں۔یقین ہے کہ آپ اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہینگے۔۔ یاد رہے ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم اس سے پہلے مختلف مرحلوں پر اسلام اباد اور اوی میں شاندار پروگرامات منعقد کرنے کے اعزاز رکھتے ہیں۔

یادرہے کہ ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم آوی وجود میں انے کے بعد عرصہ تین سالوں سے علاقے میں مثبت سرگرمیوں کو اگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ فورم کا کام نوجوان نسل میں مثبت سوچ پیدا کرنا،تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کرنا،ماحولیاتی الودگی سے پاک معاشرہ قائم کرنا،خود کشی کے خلاف اگاہی مہیم چلانا، منشیات کی لعنت کے خلاف آواز بلند کرنے کے علاوہ علاقائی روایات اور دوسرے صحت مند سرگرمیوں کو فروع دینااورطالب علموں کی بہتر راہنمائی کرنا ہے۔ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ فوروم کا قیام اوی کے چند باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں نے عمل میں لائے ہیں۔ اور بعد میں دوسروں کی شراکت سے ایک منظم فورو م کی صورت اختیار کرچکی ہے۔


شیئر کریں: