Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی…..گل عدن

شیئر کریں:

کچھ دن پہلے میں نے عورت کی حکمرانی اور مرد کی غلامی کے حوالے سے ایک تحریر لکھی جس پر میرے اندازے کے عین مطابق بہت ہی منفی ردعمل سامنے آیا ۔مجھے اچھا لگا کیونکہ معاشرے کے جس روشن خیال طبقے پر میں نے قلم اٹھانے کی جرآت کی تھی تو میں جانتی تھی مجھے بہت کچھ سننا اور سہنا ہو گا ۔افسوس اس بات پر ہے کہ ہم آج بھی اتنے میچور نہیں ہو ئے کہ ایک زرا سی سچ کو زبان سے نہ سہی دل میں ہی تسلیم کرسکیں ۔


پہلی بات تومیں یہ واضح کر دوں کہ میں نے اپنی پچھلی تحریر میں اسلام میں مرد وعورت کے حقوق پربات سرے سے کی ہی نہیں تھی ۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ نے عورت اور مرد کو برابر کے حقوق دئے ۔اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے عورت کو عزت و اکرام دیا ۔اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی مگر جنت میں داخلے کی ضمانت باپ کی رضا مندی سے مشروط کردی ۔اس برابری سے کسے انکار کی جرات ہے ؟مگر یہ بھی افسوس ناک حقیقت ہے ھمارے معاشرہ عورت کو وہ حقوق نہیں دے پا رہا جو اسلام نے اسے دئیے ۔بس یہی پر آکر کچھ لوگ کچھہ مہربان مرد مجاہد خواتین پر اتنے مہربان ہو ئے کے اپنا مقام بھی عورت کو دے بیٹھے اور خود عورتوں کی حقوق کی علمبردار بنے پھر رہے ہیں ۔اگرآپ عورت کی برابری کو مانتے ہیں تو برابر چلیں نا میرے بھائی ۔پیچھے کیوں چل رہے ہیں ۔محکومیت میں کیوں آگئے ہیں ؟آپ تسلیم کر لیں کے آپ ذہنی طور پر عورت کے غلام بن چکے ہیں ۔میں نے پچھلی تحریر میں لکھا کہ گھر کو سربراہ گھر کے مرد کو ہو ناچاھئے تو اس میں غلط کیا ہے ؟؟مردکی سربراہی کو عورت پر ظلم گرداننے والا یہ کونسا طبقہ ہے؟؟؟ مرد کی سربراہی کامطلب ہے گھر کے معاملات سے باخبر رھنا۔امور خانہ نبھانے والا ۔گھر کے بہترین فیصلہ کروانے والا ۔لیکن آپ نے سربراہی کے معنی کیا بنادئے ۔عورت پرہاتھ اٹھانے والے ظلم و زیادتی کرنے والے ۔مرد کی سربراہی کو القاعدہ سے ملانے والی روشن خیال طبقے کی خیالات پر مجھے حیرت اور افسوس ہے ۔
ہاں اسلام میں عورت کو پورے قبیلے کی سرداری بھی نصیب ہو ئی ۔اور وہ خاتون حضرت عائشہ حضرت خدیجہؓ اور حضرت فاطمہؓ جیسی خواتین تھیں جو بد دیانتی حسد نفرت بغض اور لالچ و ریاکاری سے سو فیصد پاک صاف تھیں ۔جن کے دامن پر چالبازی اور مکاریوں کے داغِ نہيں تھے۔جو شوہر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر انہیں ان کے بہن بھائیوں سے کاٹنے کے منصوبے نہيں بنتیں رہتی تھیں ۔اور اس وقت کے عظیم مرد اپنی بیوی کی آنکھوں سے نہیں دیکتھے تھے نا ہی بیوی کی کانوں سے سنتے تھے ۔وہ ماں بیوی بہن بیٹی کو عزت دیتے تھے انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے مگر دیکتھے اپنی آنکھوں سے تھے سنتے اپنی کانوں سے تھے اور سوچتے اپنی دماغ سے تھے ؟وہ تھی حقوق کی برابری کا دور۔اگر آپ بھی ایسے عظیم مرد ہیں اور آپ کے گھر میں ایسی عظیم الشان خواتین رہتی ہیں تو مجھے ایسی خواتین کی حکومت پر کوئی اعتراض نہیں ۔


مگر مسئلہ یہ ہے کے حقیقت وھی چل رہی ہے جو میں نے پچھلی تحریر میں لکھا جسکا ثبوت ابھی کچھ ہی دن پہلے ایک وائرل ہو نی والی ویڈیو ہے جس میں ایک بیٹا بیوی کے ساتھ ملکر اپنی ماں کو پیٹھ رہا تھا۔یہ واقعات ان لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہیں جو کہتے ہیں کےآج کا مرد محکوم نہیں ہے اور عورت حکمران نہیں ہے ۔


آخر میں میں ہمارے معاشرے کی سب سے مضحکہ خیز روئے کا ذکر کروں گی ۔جب جب کوئی بھی نماز روزہ داڑھی یا پردے کی بات کرےتو ایک ایسی مخلوق ہمارے درمیان ھر وقت موجود ہے جو ہمیں ذہنی مریض دہشت گرد اور طالبان جیسے خطابات سے ڈرا کر ہمیں خاموش کردینے کی بھرپور کو شش کرتی ہے ۔مجھے ان خطابات سے ڈرنے والوں کیساتھ ہمدردی ہے۔مگر ان خطابات کو بطورِ ہتھیار استعمال کرنے والوں پر مجھے رحم آتا ہے۔کاش اللہ تعالی ان کو اس حوصلہ سے نوازے کے یہ اپنی ذہنی پستی سے آشنا ہو سکیں ۔اس میری جسم میری مرضی والے قوم کو میرا جواب اتنا ہے کے میری قلم میری مرضی ۔
اور آج جو کچھ گنے چنے گھر ایسے آباد ہیں جہاں عورت اپنے مقام سے نہیں گری اور جہاں مرد اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے درمیان انصاف سے رہ رہا ہے اللہ ان گھروں کو تا قیامت آباد وشاداب رکھے ۔آمین


شیئر کریں: