Chitral Times

Dec 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کی آمد کے موقع پرریشن میں احتجاجی مظاہرہ

شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے دورہ کے موقع پر ریشن میں اپرچترال کے لوگوں نے زبردست احتجا جی مظاہرہ کیا ۔ اور وزیر اعلی و صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ جس کی وجہ سے وزیر اعلی کو اپنی تقریب مختصر کرنا پڑا۔ اس موقع پر ریشن رمداس چوک میں منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین پرنس سلطان الملک ، امیراللہ ، عبدالولی خان ایڈوکیٹ،پرویز لال ودیگر نے کہا ۔ کہ سیلاب آئے بارہ دن گزر گئے ہیں ۔ متاثرین کیلئے حکومت کی طرف سے کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ لوگ اپنی مددآپ کے تحت اپنے سیلاب زدہ گھروں سمیت سڑکوں کی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں ۔ حکومت کے کانوں جوں تک نہیں رینگتی ۔ چترال سے امتیازی سلوک روا رکھا جارہا ہے ۔ یہاں کے مسائل کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا ۔ کہ افسوس کا مقام ہے ۔ کہ ایسے مواقع پر حکومت کی طرف سے پیکج کا اعلان کیا جاتا تھا ۔ لوگوں کی داد رسی کی جاتی تھی ۔ لیکن موجودہ حکومت میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ وزیر اعلی صرف پندرہ لاکھ روپے متاثرین میں تقسیم کرنے کیلئے بھاری پروٹوکول کے ساتھ تشریف لائے اور لوگوں کو ان کی سیکیورٹی کی خاطر چھ سات گھنٹوں تک یر غمال بنایا گیا ۔ اور مشکل میں گھرے سیلاب متاثرین اور مسافروں کو مزید مشکلات سے دو چار کر دیا گیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ سابقہ نواز شریف کی حکومت میں یہاں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے تیز ترین اقدامات اٹھائے گئے ۔ جبکہ موجودہ حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ۔ مسلسل لوگوں کے ساتھ جھوٹ بولا جا رہا ہے ۔ اوراشیاء خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہمیں عمران خان کا نہیں قائد اعظم کا پاکستان چاہئیے ۔ اور ہم نے معدنیات کے خزانوں کے ساتھ پاکستان سے الحاق کیا تھا ۔ مظاہرہن نے ایک مرتبہ پھر مطالبہ کیا ۔ کہ نہروں کی بحالی میں حکومت فوری تعاون کرے ۔ تاکہ کھڑی فصلوں کو بچایا جا سکے ۔ انہوں نے کہا ریشن کے متاثرہ گھر بار بار سیلاب کا شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے متاثرین کو محفوظ مقام پر مستقل بنیادوں پر بسانے کا انتظام کیا جائے ۔ مقررین نے سیکیورٹی کے نام پر پولیس کی طرف سے لوگوں کے ساتھ منفی رویہ اپنانے کی بھی پر زور مذمت کی ۔ درین اثنا وزیر اعلی کے پروگرام میں اپر چترال نے پی ٹی آئی کے ورکروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ۔ سابق صدر عبد اللطیف ، شہزادہ سکندر ، سردار حکیم ، آفتاب ایم طاہر ہی تقریب میں نظر آئے ۔ ان کو بھی کسی بھی قسم کی بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ۔ دیگر پارٹیوں کی طرح انتظامیہ کی طرف سے دعوت نہ دینے کے شکوے سنے گئے ۔

reshun protest

شیئر کریں: