Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ستمبر کی تلخ و شریں یادیں….. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


ستمبر کا مہینہ پاکستان کیلئے اہمیت کا حامل رہا ہے۔بہت سی تلخ یادیں اس مہینے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اسے ستم گر ستمبر بھی کہا جا تا ہے۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح بھی گیارہ ستمبر کو ہم سے بچھڑ گئے تھے۔ جس کے بعد پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور 72سال گذرنے کے باوجود اس سیاسی بحران سے ہم نکل نہیں پارہے۔ قائد اعظم کی وفات کے تین سال بعد قائد ملت لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔اس کے بعد نوزائیدہ ملک کا عنان اقتدار ابن الوقت اور موقع پرست قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا۔1954سے1958تک چار سالوں میں سات حکومتیں تبدیل ہوئیں جس پر بھارت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے یہ طنز کیا کہ پاکستان میں جس تیزی سے حکومتیں بدل رہی ہیں اتنے عرصے میں تو میں نے اپنے پاجامے بھی نہیں بدلے۔امریکہ میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ بھی گیارہ ستمبر کو ہوا تھا جس کے بعد دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا۔امریکی صدر بش نے امریکی مسافر طیاروں کو اغواء کرکے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کا الزام القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن پر لگاتے ہوئے افغانستان میں برسراقتدار طالبان حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا۔طالبان نے امریکہ سے حملے کا ثبوت مانگا تو اس نے طاقت کے نشے میں دھت ہوکر افغانستان پر یلغار کردی۔طالبان حکومت کا دھڑن تختہ کردیا تب سے اب تک افغانستان میں سیاسی استحکام نہیں آسکا، خانہ جنگی پر قابو پانے کے لئے امریکہ اور نیٹو کے فوجی افغانستان بھجوادیئے گئے۔پاکستان کو بھی طوعاً و کرہاً امریکی اتحاد میں شامل ہونا پڑا۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں ہمارے 80ہزار سویلین، فوجی اور پولیس کے جوان شہید ہوئے اربوں کھربوں کا مالی نقصان اٹھانا پڑا مگر امریکہ ہم سے پھر بھی ناراض ہی رہا اور ڈومور کا تقاضا کرتا رہا۔ اربوں ڈالر اس بے مصرف جنگ پر لٹانے کے بعد امریکی حکام کو ہوش آگیا اور انہیں اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا اور دوحہ میں امن معاہدہ طے ہوا۔ نائن الیون کے نتائج کا خمیازہ بہت سے ممالک کے ساتھ ہم بھی آج تک بھگت رہے ہیں۔امریکہ کی طرف سے جاپان کے شہر ناگاساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم اسی ستم گر مہینے میں گرائے گئے تھے۔جس کے بعد جوہری طاقت حاصل کرنے کا جنون دنیا کے بہت سے ملکوں کے سر پر سوار ہوا۔ اور تمام وسائل انسانوں کی ترقی کے بجائے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ہتھیاروں کی تیاری پر لٹادیئے گئے۔ یہ تباہ کن ہتھیار صرف دکھانے کے لئے ہوتے ہیں ان کا استعمال کرنے والے ملک کی اپنی بقاء بھی خطرے میں پڑسکتی ہے اس کے باوجود دنیا کے پندرہ ممالک نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ پاکستان 1947ء کواپنے قیام کے ایک ماہ بعد ستمبر کے مہینے میں ہی اقوام متحدہ کا رکن بن گیا۔ستمبر کے مہینے میں میجرعزیز بھٹی شہید ہوئے، معروف افسانہ نگار اشفاق احمد،مایہ ناز فن کار لہری، گلو کار اسد امانت علی، نامور قوال مقبول احمد صابری اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ غلام حیدر وائین بھی ستمبر کے مہینے میں وفات پاگئے۔پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کی بہت سی تلخ و شریں یادیں ستمبر کے مہینے سے وابستہ ہیں۔پیپلز پارٹی کے موجود شریک چیئر مین آصف علی زرداری نے 9ستمبر 2008ء کو صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔بے نظیر بھٹو شہید کی والدہ بیگم نصرت بھٹو 21ستمبر1929ء کوایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں ان کی 8ستمبر 1951ء کو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ شادی ہوئی۔ بھٹو کے بڑے فرزند میر مرتضیٰ بھٹو 18ستمبر 1954ء کو پیدا ہوئے۔ 20ستمبر 1996ء کو میر مرتضیٰ بھٹو کو کراچی میں فائرنگ کر کے قتل کردیا گیا۔16 ستمبر 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کو گرفتار کیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے فرزند اور پیپلز پارٹی کے موجودہ چیئر مین بلاول بھٹو 21ستمبر 1988ء کو پیدا ہوئے۔مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ موجودہ سال کا ستمبر پاکستان کے لئے بہتر رہے گا۔ کراچی میں طویل اور طوفانی بارشوں سے تباہی کے بعد مرکزی اور سندھ حکومت نے شہر کو بچانے کے لئے مل کر کام کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک میں سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار ہوگی جس کا ملک وقوم کی ترقی سے گہرا تعلق ہے۔


شیئر کریں: