Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سنوغر: وادی چترال کی ایک حسین گاؤں…. تحریر: سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

(دوسرا حصہّ)

ان کی مثالی  زندگی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سنوغر میں دو مسلک کے لوگ یعنی اسماعیلی اور اہلِ سنت والجماعت دونوں قدیم الآیام سے ہی ایک دوسرے کی عزت و احترام ،رواداری، مساوات،بھائی چارہ ، قوتِ برداشت اور نظم و ضبط جیسے اسلام کے زرّین، آفاقی اور عالمگیر آصولوں پر عمل کرتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔یہ وہ خصوصیات ہیں جن  پر عمل کرنے کی وجہ سے یہاں کے لوگ صدیوں سے آباد، زندہ  و پائندہ ہیں۔اور دیگر لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ اس خوبصورت گاؤں میں مختلف قومیت کے لوگ جیسے سادات، زوندرے، رضاخیل، اچھانجے،داشمنے،یخشیئے،غولومے،رئیسے وغیرہ  آباد ہیں۔گوکہ نفسِ واحدہ سے ہم سب کی پیدائش ہونے کی وجہ سے ہم سب آدم کی اولاد ہیں ۔آولادِ آدم ہونے کی حیثیت سے کوئی کسی پر فضیلت کا دعوے دار نہیں ہوسکتا ۔ البتہ الہامی کتاب قرآن کےمطابق تقویٰ ہی معیارِ فضیلت ہے جس کا فیصلہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے اور ہمیں قدرت کے اس اہم فیصلے کو قبول کرتے ہوئے ایک دوسرے کی عزت و احترام ، محبت،امن و اشتی،رواداری،عدل وانصاف ،باہمی ہمدردی اور تعاون کے لئے بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔یہی ہے معیارِ انسانیت ہے   اور اسی کو معیار بنانے کے لئے دینِ اسلام ہم سے  ہر وقت تقاضا کرتا ہے جس پر ہمیں ہر حالت میں عمل کرنا چاہئے۔چھوٹی موٹی باتیں تو ہر معاشرے میں ہوتی رہتی  ہیں ۔ جس کی وجہ سے مختلف نظریات میں اپس میں اختلافات کا ہونا فطری بات  ہے۔میرے خیال میں ہر معاشرے میں  اچھے اور معزز لوگوں کی موجودگی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے جو ہمیشہ ہم اہنگی کے لئے لوگوں کے درمیان اصلاحی کاموں میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں۔انہیں کی محنت اور کاوش سے معاشرے میں امن بحال ہوتا ہے ۔فضل الرحمن شاہدؔ نے کیا خوب شعر کہا ہے۔

زمین  سلامت بہچیکو  ای  وجہ  ہیہ                محترم  انسان  دنیائی کم نوما بونی۔

محترم اور معزز  انسانوں سے میری  گزارش ہوگی کہ وہ اس خوبصورت بستی کو کسی کی چشمِ بد  نہ لگنے دیں۔تعلیم یافتہ نوجوانوں  پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ  ناپسندیدہ سرگرمیوں سے اپنا دامن بچاتے ہوئے تعلیم کے لئے سخت محنت کریں اور باوقار زندگی گزارنے کے لئے لوگوں میں ہم اہنگی پیدا کرنے کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں تاکہ یہ خوبصورت سنوغر آئندہ نسلوں کے لئے  دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی منزلیں طے کرتے ہوئے آگے بڑھے اور اپنے حسنِ سیرت کو کبھی بھی دغدار نہ ہونے دیں۔

مختصر یہ کہ یہ تمام خصوصیات اپنی جگہ مسلّمہ ہیں لیکن ادب کی دنیا میں شعرو شاعری بھی کسی کی خوبیوں کو بیان کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سنوغر کی اہمیت اور اس کی خوبصورتی کو اجاگر کرنے میں  شعراء نے بہت زیادہ کام کیا ہے ۔ کیونکہ شاعری  ادب کی دنیا میں حقیقت کی اصل ترجمان ہوتی  ہے۔جب بھی شاعر کی نگاہ فطرت کی کسی  حسین شاہکار پر پڑتی ہے تو دل ہی دل سے  اس کی تعریف و توصیف  میں شاعر کی زبان سے الفاظ  بےساختہ  نکلتے ہیں ۔دورِ جدید کےایک  اہم شاعر،قلم کار ،ادیب، مصنف ، استاذ الاساتذہ اور ماہرِ تعلیم شیر ولی خان اسیرؔ سنوغر کی دلکشی اور  اس کے حسن و جمال سے متاثر ہوکر چپ رہ  نہ سکے اور ایک خوبصورت نظم لکھی جس کے چند خوبصورت بند یہ ہیں۔

اے  میرے  اجداد کی سرزمین  سنوغر                               سب سے خوبصورت سب سے حسین سنوغر

تیرے سینے سے پھوٹا ہے میرے نسب کا شجر                    ہے خاک  اسلاف  کا  تو  آمین  سنوغر

زیرک کی جنّت  کو جس نے دیکھا ، بولا                      ہے یہی بہشت بر روئے زمین سنوغر

جگر سوزاں ہے  دل لہو لہان ہے  میرا                           لہو رورہے ہیں اسیرؔ کے نین  سنوغر

ایک اور اہم شاعر  اقبال الدین سحرؔ جب پہلی دفعہ سنوغر وارد ہوئے تو سنوغر کے نوجوانوں کے ساتھ  غزل کی محفل سجاتے ہوئے سنوغر کی خوبصورتی اور اس کی دلکشی سےمتاثر ہوکر  ایک پوری گیت رقم کی جو آج بھی وہاں کے نوجوانوں میں زدِّعام ہے  جس کا ایک بند یہ ہے ۔

کہ پاشیم تہ دیدارو  تہ صفاتان کوراک           کندوری بو اسونی  تہ نامو خوش داراک

ہے خوش داراک موژا سحر دی مقابل            سنوغرو نوجوان نوجوانان محفل

اس طرح حال ہی کے ایک نوجوان  شاعر محمد اسرار سرحدی ؔ نے زیارت خان زیرک پر ایک چھوٹی سی کتاب(زیارت خان زیرک سنوغرو ملنگ) تصنیف کرکے ملنگ کے مقام کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت نظم سنوغر کی دلکشی پر لکھ کر اپنی قابلیت اور ہنر کا مظاہرہ کیا ہے۔جیسا کہ آپ لکھتے ہیں۔

اے سنوغر ! دامن میں تیرے کیا نہیں ہے    کس کو ثبات  یاں کسے فنا نہیں ہے

  تجھے بھول  جاؤں  ممکن  نہیں  شاید        تجھ سے دور سہی تو دل سے جدا نہیں ہے۔

گر سلطنت کا قائل ہے تو اسرارؔ                  سو یہ محبتوّں کے سوا نہیں ہے

 باقی شعراءبھی  کسی نہ کسی طرح سنوغر کی مدح سرائی وقتاََ فوقتاََ کرتے رہتے ہیں۔لیکن سنوغر کی تعریف و توصیف  کے اصل بانی اور کہوار کلاسیکل شاعری کی عظیم شخصیت  سنوغر کے ملنگ زیارت خان زیرک ؔہیں جنہوں نے  سنوغر کی خوبصورتی اور اس کے حسن و دلکشی کو اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے دنیا کے سامنے ایسا  متعارف کیا  کہ سنوغر کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی اور محبت  روز بروز  بڑھتی  گئی اور آج بھی اسی طرح جاری و ساری ہے۔گویا سنوغر کی خوبصورتی  زیرک ؔ کی خوبصورت اور دلکش  شاعری کی وجہ سے پردہء اخفا سے منظرِ عام پہ اکر شہرت دوام حاصل کی۔گوکہ زیارت خان زیرک ؔ سنوغر ہی کا اصل باشندہ تھا جو 1880ء سے 1890ءکے عشرے میں پیدا ہوئے ہونگے۔بہت ہی ذہین اور سمجھدار انسان تھے اور اپنی شاعری  میں بھی مشکل اور دقیق خیالات کا اظہار فرماتے تھے  ۔اسی مناسبت سے اپنا تخلص بھی زیرک ؔہی رکھا تھا۔انہوں نے سرزمین سنوغر کی  اپنی شاعری میں بہت تعریف کی ہے  اور اس کو جنتّ کا نمونہ قرار دیا ہے جیسا کہ ملنگ کا یہ شعر  سب کے ذہنوں میں ورد عام ہے۔

       جنتّ سنوغر تہ  نام  باغِ  گلے                مائینہ  چولینیان  یور دیکو  بلبلے

القیاس سنوغر کی دلکشی اور خوبصورتی شعراء، گلوکاروں، سیاحوں، ادیبوں اور چترال کے تمام باسیوں کے دلوں میں رچی بسی ہے۔ یہ وادی اور اس میں بسنے والے زندہ دل لوگوں کی داستان سے تاریخ کے صفحات سیا ہ ہیں۔ امر اس بات کی ہے کہ اس وادی کی شہرت اور دلکشی آنے والی نسلوں پر  منحصر ہے کہ وہ  اپنے مثبت کردار سے اور حسنِ عمل سے  اس علاقے کے نام کو اور بھی روشن کریں۔

باقی اگلے شمارے میں ملاحظ فرمائیں


شیئر کریں: