Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جادوٹونہ…….گل عدن

شیئر کریں:

کہنے کو تو دنیا بہت ترقی کرچکی ہے ہر دوسرا شخص اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔چاند پر پہنچنے کی بات بھی بہت پرانی ھوگئی ہے لیکن باوجود اتنی ترقی کے انسان آج بھی اندر سےوحشی اور جاہل ہے ۔
اس نفسا نفسی کے دور میں جہاں معاشرہ ہر طرح کی برائیوں کا شکار ہے وہیں جادو گروں کی نحوست ایک وبا کی طرح مشرق تا مغرب پھیلی ہوئی ہے ۔

یہودیوں اور کافروں کا تو جادو اور سفلی اعمال پر ازل سے اعتقاد رہا لیکن رونا تو مسلمانوں کے بڑھتے ھو ئے یقین کو دیکھ کر آرہا ہے ۔کیا بحثیت مسلمان ہمیں ذیب دیتاہے کے ھم پیسے کی ہوس میں غیب جاننےکادعوا کریں ۔اور کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ہم ان ملعون اور غلیظ پیروں کو نغوذ باللہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھرایئں ۔ان پیروں پر تو اللہ کی لعنت ہے ہی۔مگر ان کے مرید ؟جنہوں نے ان گٹھیا پیروں کو اپنا خدا بنا بیٹھے ہیں ‘ کیا یہ خود کو مسلمان سمجھتے ہیں ؟۔حد تو یہ کے جب آپ ان لوگوں کو روکنے کی کوشش کر یں تو یہ آپ سے ناراض ہو جاتےہیں ۔اور ان کے پاس اپنی دفاع میں بہترین دلائل ہوتےہیں ۔انہیں رسول ﷺ پاک پر جادو کا اثرات ہونا تو یاد رہ گیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کیسے اپنی حفاظت فرمایئ ‘یہ بھول گئے ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے 4 قل پڑھ کر اپنی حفاظت کی ۔جسکا واحد مقصد یہ تھا کہ امت اچھی طرح سے جان لے کے تمامترش شیطانی اثرات کا توڑ اور انکا حل صرف قرآن کریم ہے ۔آپؐ تو یہاں تک فرمایا ہے کے ایک نجومی کو ھاتھ دکھا نے پر اللہ تعالی اتنا ناراض ہوتاہے کے اگلے 40دن تک اس شخص کی عبادت قبول نہیں ہو تی پھر جادو تو کفر ہے۔جو لوگ جادو کرواتے ہیں ، یہ پیر اور ان کے مرید دونوں اسلام سے خارج ہو چکےہیں ۔


آئے روز ملک میں ان جادوگروں کے بد ترین واقعات ہورہے ہیں مگر آفرین ھے اس جہالت پر کہ مریدوں میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔کبھی آپکو ان بیمار ذہینیت لوگوں کے ساتھ بیٹھنا نصیب ہو تو آپکو شدید ڈپریشن ھوجائے گا ۔ںقول انکے ‘ان کے گھروں میں خوش حالی انکے کئےگئے تعویز گنڈوں کی وجہ سے آتی ہے ۔نعوذ باللہ


بیماری بھی کسی کے جادو کروانے کی وجہ سے آئی ہے۔حتیٰ موت بھی دشمنوں کی جادو ٹونے سے واقع ھو ئی ہے ۔انکے گہرے اعتماد کو دیکتھے ہو ئے اللہ تعالی بھی ان کےایمان کو مزید پختہ کردیتا ہے ان کے گھولے ہو ئے تعویزوں میں تاثیر پیدا کر کے اور یہی ان کی سزا ہے


بعض اوقات یہ مرید ہنساتے بھی بہت ہیں مثلاً کرکٹ یا فٹبال کھیلنے سے پہلے جیت کے لیے تعویذ بنانا اور پھر جیت کا جشن منانا۔، کیا واقعی جیت ایسے بھی ہو تی ہے ۔شوہر کو تعویذ گھول گھول کر پلانا اور اپنا وفا دار رکھنا۔واہ۔۔۔کیا وفاداری یوں بھی ہو تی ہے ؟؟


بیٹے کے سامنے اسکے من پسند جگہ شادی کروانے کے لیے راضی ہو نا اور پیٹھ پیچھے رشتہ نہ ہو نے کی تعویذ بنوانا بیٹے کے دل کو لڑکی سے متنفر کرنے والی تعویزپلانا ۔کیا ماں ایسی ہوتی ہے؟

کیا انہوں نے کبھی نہیں سوچا کے جس دن ان تعویزوں کے اثرات ختم ہوںگے اس دن نا کوئی تابعدار رہے گا نا ہی وفا دار۔


ایک غریب اور جاہل کا اس راہ پر چلنا تو سمجھ آتا ہے مگر راز کی بات یہ ہے کہ ان مریدوں میں اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ بظاھر بڑے دیندار اور مہذب لوگوں کی ہے ۔ان لوگوں کے لیے اک شعر یاد آتا ہے’


کعبہ کس منہ سے جاؤگے غالب
شرم تم کو مگرنہیں آتی۔۔


ھمارا مسلمان پیدا ہو نے میں ہمارا اپنا کوئی کمال نیہیں
۔لیکن اپنے بدگمانی اور نفرت وبغض کے سبب اس دنیا سے ایمان کے بغیر رخصت ہو نا ںڑی بدبختی ہوگی ۔خوف خدا رکھنے والا کوئی شخص یہ کبھی نہیں بھول سکتا کے اللہ تعالی ھر گناہ معاف کرےگا سوائے شرک کے۔


اس تحریر کو اگر کوئی مرید اس وقت اپنی خوش قسمتی سے پڑھ رہا/ رہی ہے۔ تو میرا انکو پرخلوص مشورہ ہے کے جب آپکے تمام مسائل ایک عامل حل کر رہا ہے حتیٰ کے اپنی اولاد کو ڈاکٹر انجنیئر بنانے کےلئے بھی آپ کو ان عاملوں سے تعویز بنوانا پڑتا ہے تو کیا یہ بہتر نہيں کے آپ اپنی اولاد کو بھی ایک بہت بڑا عامل بنائیں ۔تاکہ آپکو شوھر کی حلال کمائی چرا کر شہر کےشہر خاک نہ چھاننا پڑے۔


شیئر کریں: