Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دعوت و سیاست ایک ہی نیام میں ۔۔۔۔۔ فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو الگ سے اپنا پورا ایک نظام رکھتا ہے. یہی اصل میں وجہ بھی ہے کہ لفظ شریعت مغربی دنیا کو کھٹکتی ہے کیو نکہ یہ نظام ان کے ان مدر پدر آزاد قوانین سے متصادم ہے. دیگر مذاہب میں سے اگر کوئی نظام رکھتا ہے بھی تو اس نے اپنے ادھورے پن کو دور کرنے کے لیے کسی انسانی ذہین کی اختراع سے مدد لی ہے. نظام سیاست کسی بھی سماج کا بہت اہم شعبہ ہے، اگر اس میں خرابی پیدا ہو جائے تو پورا سماج خرابیوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے. اور اسلام نے اس شعبے کے حوالے سے بھی بےخبری نہیں برتی بلکہ ٹھیک ٹھیک راہنمائی فراہم کی.اسلام کے نالائق طالب ہونے کے ناطے میری معلومات تک اسلام نے حکومت حاصل کرنے کے لیے چند اصول ہی دیے ہیں.

باقی وقت، حالات اور سماج پر چھوڑ دیا ہے، وہ اپنی سہولت کے مطابق فیصلہ کریں کہ حکومت کی مسند تک کیسا پہنچا جائے. چاروں خلفاء راشدین کے مختلف طریقوں سے انتخاب اس کی بہترین مثال ہے.جماعت اسلامی برصغیر کی پرانی دینی اور سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے لیکن آج تک اس کو سیاسی میدان کے اندر کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی. ہر کسی کے نزدیک اس کی مختلف جوہات ہیں. اور ہر ایک نے اس کو بیان بھی کیا ہے. مسئلہ ایک ہی ہے. جس کے ممکنہ دو حل ہیں. پاکستانی معاشرہ ایک تو مذہبی ہے اور دوسرا ملٹی ڈائی مینشینل. یہاں پر آپ کو مذہب کے حوالے سے ہر ایک تعبیر مل جائے گی اور یہی وجہ ہے کہ جب وہ جماعت اسلامی کی تعبیر کو اپنی مذہبی تعبیر سے کمپیئر کرتے ہیں تو شدید اختلاف پاتے ہیں.جب عام آدمی ن لیگ پی ٹی آئی یا پی پی کو ووٹ دیتا ہے تو ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچتا کہ یہ ووٹ مانگنے والا سنی ہے، شیعہ ہے، بریلوی ہے، اہل حدیث ہے، اغاخوانی، حیاتی ہے، یا پھر مماتی، لیکن وہی عام آدمی جب مذہبی جماعت کو ووٹ کے لیے سوچتا ہے تو یہ سوال اس کے آڑے آجاتے ہیں.

سیاست کے نابالغ طالب علم کی حیثیت سے ہماری سوچ یہ ہے. کہ جماعت اسلامی اس معاشرہ کی اصلاح کرے جو وہ پہلے سے کر رہی ہے اور پورے معاشرہ کی مذہبی تعبیر اپنی تعبیر سے ہم آہنگ کرے. یا پھر تیونس کی اسلامی تحریک اور طیب اردگان کی طرح کی راہ اختیار کرے اور الگ سیاسی پلیٹ فارم بنا کر عام آدمی کی الجھن دور کرے.جماعت اسلامی بظاہر  پیپلز پارٹی پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ کی طرح خالص سیاسی جماعت بن سکی اور نہ اس طرح کی دعوتی جماعت رہ سکی جس طرح کہ مولانا مودودی نے ابتدا میں اسے بنایا تھا۔ یہ جماعت اب بھی سیاست اور دعوت کو ساتھ ساتھ چلانے کی کوشش کررہی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سواری ہے۔

معلوم ہے کہ دعوت بغیر کسی صلے کے مخاطب کی خیرخواہی کے جذبے کا تقاضا کرتی ہے جبکہ سیاست حریفانہ کشمکش کا نام ہے۔ دعوت مخاطب سے کہتی ہے کہ تم اپنی جگہ رہو لیکن ٹھیک ہوجاو سدھر جاو جبکہ سیاست مخاطب کو ہٹا کر اس کی جگہ خود کو بٹھانے کی کوشش کا عمل ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کے بعد اب سراج الحق صاحب بھی بھرپور کوشش کررہے ہیں کہ جماعت اسلامی کو زیادہ سے زیادہ عوامی بنالیں لیکن جب تک دعوت اور سیاست کی اس دوئی کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، تب تک جماعت اسلامی نہ تو دعوتی بن سکتی ہے اورنہ مکمل سیاسی۔دوسری بات یہ کہ جماعت اسلامی کے اندر تخلیقی اور تنقیدی سوچ کو پروان نہیں چڑھایا جارہا۔ پہلے سے موجود لٹریچر اور سخت تنظیمی ڈھانچے کے جہاں بہت سارے فوائد ہیں، وہاں اس کا نقصان یہ ہے کہ تقلید کی ایک غیرمحسوس روش پروان چڑھ گئی ہے۔ کئی حوالوں سے سالوں سے لگے لپٹے راستے پر جماعت گامزن ہے جبکہ روزمرہ کے معاملات میں قیادت جو فیصلہ کرلیتی ہے، اسے بلاسوچے سمجھے من وعن قبول کرلیا جاتا ہے۔

اسی طرح گزشتہ عشرے کے دوران میڈیا اور ٹیکنالوجی کی غیرمعمولی ترقی کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ جس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوگیا، جماعت اسلامی اسی حساب سے اپنے آپ کو تبدیل نہ کرسکی۔تیسری بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے آپ کو دیگر مذہبی اور مسلکی جماعتوں کے ساتھ نتھی کرلیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کی نظروں میں جماعت اسلامی بھی ایک روایتی مذہبی جماعت بنتی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی پہلے دفاع افغانستان کونسل کا حصہ رہی اور جس کی قیادت مولانا سمیع الحق کے پاس تھی۔ پھر ایم ایم اے کا حصہ بنی اور ظاہر ہے کہ وہاں بھی ڈرائیونگ سیٹ پر مولانا فضل الرحمان صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی طرح جماعت اسلامی دفاع پاکستان کونسل کا بھی حصہ ہے جو دراصل اسٹیبلشمنٹ کے مذہبی مہروں کا فورم ہے۔ دوسری طرح وہ ملی یکجہتی کونسل کا بھی حصہ ہے جس میں فرقہ پرست تنظیمیں براجماں ہیں۔ یوں جماعت اسلامی کا اپنا تشخص برقرار نہیں رہا اور نئی نسل اس کو بھی روایتی مذہبی اور فرقہ پرست جماعتوں کی طرح ایک جماعت سمجھنے لگی جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا میں بعض اوقات اچھے بھلے صحافی بھی سراج الحق کو مولانا کہہ کر پکارلیتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ مودودی صاحب کی زندگی ميں سنہ انیس سو ستتر وہ کربناک سال گزرا جس ميں سب سے زيادہ ان کو دکھ اور مايوسی جماعت اسلامی کی قيادت نے فوجی آمر جنرل ضياالحق کا ساتھ دے کر پہنچائی۔جماعت کے اندر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ اس دن سے جماعت اسلامی کی پسپائی اور رسوائی کا ایک نہ رکنے والا سفر شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔جنرل ضيا الحق کے مارشل لا سے قبل جماعت اسلامی کا کارکن انتہائی فعال، مُنظم اور حالات حاضرہ پہ نظر رکھنے والا اور اپنی بستی ميں احترام پانے والا ہوا کرتا تھا۔ضيا الحق نے بظاہر دينی رُحجان رکھ کر جماعت اسلامی کے کارکن کو سياسی جدوجہد سے دور کرنے کی سازش کی جس ميں اسے بے حد کاميابی ہوئی۔ نوجوان کارکن ’جہاد افغانستان‘ کی بھينٹ چڑھا دیے گئے اور بقيہ ’جہاد کشمير‘ کے نام پر اپنی جانوں پہ کھيل گئے۔ آخر میں الخدمت جو کہ ھمیں معلوم ہے کہ جماعت اسلامی کا ایک ذیلی رضاکار ادارہ ہے. ان کے کارکنان کو سیلیوٹ پیش کرنے کو دل کرتا ہے کہ جن حالات میں انھوں نے لوگوں کی جس جانفشانی اورجوان مردی کے ساتھ مدد کی ہے. نہایت ہی قابل ستائش ہے. چترال کے دورافتادہ علاقے ہوں یا حالیہ کراچی کے صورتحال یہ مجاہدین ہر جگہ فرشتوں کی طرح بغیر رنگ ونسل کی تمیز کے بغیر انسانی ہمدردی کا تاج سر پہ سجائے حاضر ہوتے ہیں. اللہ ان کی کاوشوں کو قبول فرمائے. آمین 


شیئر کریں: