Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہر دلعزیز شخصیت مکھی مومین شاہ کی یاد میں ۔۔۔۔محمد افضل

شیئر کریں:

کچھ لوگ دنیا میں اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ وہ انفرادی لالچ سےبالا ترہوکر خلقِ خدا کی خدمت, معاشرہ میں تعمیری کردار, سماجی ہم آہنگی, اتحاد اور بھائی چارے کی فضاء کو پرواں چڑھانے میں اپنا حصہ ڈال سکیں- مکھی مومین شاہ ان میں سے ایک تھے- گرم چشمہ کی سرزمین اس حوالے سے کافی ذرخیز رہی ہے جو بےشمار نامور شخصیات کو اپنے دامن سے نشوونما بخشی- مختلف معاملات میں علاقے کے لوگوں کو یکجا رکھنا انہی کا خاصا تھا- ان اہم چند اہم شخصیات سے چند کے خوبصورت چہرے اس وقت ذہن میں گردش کررہے ہیں ان میں خلیفہ مطائب شاہ, حاجی عبدالمراد, ممبر رستم شاہ,  گلطنت شاہ چارویو,  درباری چارویلو, ممبر میرجہان شاہ, پہلوان چئیرمین, ممبر دولت بیگ, المعروف ہندوستانی لال, تکبیرخان, خدا بخش اور مکھی مومین شاہ وغیرہ شامل ہیں- مکھی مومین شاہ گاؤں کندوجال گرمچشمہ میں پیدا ہوئے اور انہوں نے غالباً 1958 سے اپنے رضاکارانہ خدمات کا آغاز کیا جو انہیں اپنے والد گرامی کاؤسال میرزامان شاہ سے ورثے میں ملی تھی- جب ہم نے ہوش سنبھالا تو انہیں سماجی اور فلاحی کاموں میں مشغول دیکھا – علاقے کے مسائل چاہے وہ صحت, تعلیم اور دیگر شعبے سے ہو کی فراہمی کیلئے ہراول دستے کا کردار ادا کرتے دیکھا-  وہ لوگوں کی صحت اور تعلیم بالخصوص بچیوں کی تعلیم کے بڑے داعی تھے- جب آغاخان ہیلتھ سنٹر گرم چشمہ کے قیام کا فیصلہ ہوا تو اس کی تعمیر کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بحیثیت کنونئیر انہی کا انتخاب کیا گیا تو دن رات ایک کرکے   کمیونٹی کی شراکت سے اس اہم پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کیلئے جدوجہد کی- نیز گرم چشمہ سے اویرک, کندوجال تک لنک روڈ کی تعمیر اور آغاخان گرلز ہائی اسکول کے خواب کو ممکن بنانے میں ہر وقت پیش پیش رہے- یہ سب کچھ کمیونٹی کی شراکت کے بغیر ناممکن تھا اس لئے لوگوں کو ان مسائل کے حوالے سے آگاہی دینے اور ان کو موبیلائز کرنے میں انتہائی متحرک رہے- نہ صرف علاقے کے بچوں بلکہ اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو اچھی تعلیم دلوائی جو مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں- ان کا بڑا فرزند الوائظ مبارک شاہ کئی عشرے اطرب پاکستان میں خدمات انجام دینے کے بعد اب فیملی سمیت امریکہ میں رہائش پذیر ہیں اور دوسرا بیٹا سلیم خان سیاسی میدان میں صف آراء ہیں- وہ دو بار صوبائی اسمبلی کے ممبر اور وزیر رہے- ان کی ہمیشہ خواہش اور کوشش رہی کہ کوئی بھی فرد تعلیم کی نعمت سے محروم نہ رہے اور علاقے کی تعمیرو ترقی ہمیشہ ان کی زندگی بھر کے ترجیحات میں شامل رہے- آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک خلقِ خدا کیلئے پیش کئے گئے ان کے تمام سروسز قبول فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی انہی کی طرح لوگوں کی بے لوث خدمات کرنے کا توفیق عطا فرمائے , آمین


شیئر کریں: