Chitral Times

Jan 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات…تحریر :صباحت رحیم بیگ

شیئر کریں:

آج کل دیکھا جائے تو چترال میں خودکشی عام ہوتا جا رہا ہے لوگ جان بوجھ کر اپنے آپ کو موت کے حوالے کر رہے ہیں انسان کا جسم اور زندگی اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے اور دین اسلام میں خودکشی حرام ہے آخر لوگ یہ گناہ کبیرہ کرنے پر کیوں مجبور ہو جاتے ہیں

ا س کی سب سے بڑی وجہ ہم لوگوں کی اسلام اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے. ہم میں صبر و تحمل کی کمی ہے، ہمارے خواہشات کا بے بہا ہونا اور وسائل کا کم ہونا چترال میں زیادہ تر خودکشی کی وجوہات گھریلو جھگڑے، پسند کی شادی کا نہ ہونا اور امتحان میں ناکامی ہیں اس وجہ سے لوگ خودکشی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کوئی دروازہ بند نہیں کرتا جب تک دوسرا دروازہ کھول نہ دے  اور یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وقت گزر جائے گا اور زندگی سے لڑنے میں جو مزا ہے وہ بھاگنے میں نہیں اچھے وقت کے لئے برے وقت سے لڑنا پڑتا ہے کیونکہ زندگی آسان نہیں ہوتی اسے آسان بنایا جاتا ہے

 کچھ صبر کرکے، کچھ برداشت کرکے اور بہت کچھ نظر انداز کر کےاگر جان دینے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو ملک کے لئے جان دو مذہب کے لئے جان دو ایسا کام کرو جہاں شہادت نصیب ہو

چترال میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر غور کرنے اور ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے ہر تحصیل میں ماہر نفسیات ہونا چاہیے اور تعلیمی نصاب میں زہنی امراض کے بارے میں آگاہی ہونا چاہیے اسلامی تعلیمات پر عمل اس کا بہترین حل ہے اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کریں.


شیئر کریں: