Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انسان کو بیدار تو ہونے دو……محمدآمین:

شیئر کریں:

قرآن پاک جو اللہ سبحانہ تعالی کی اخری کتا ب ہے جو کہ خاتم النبین محمد ﷺ پر نازل ہوا تھا جس میں انسان کی دنیاوی و اخروی فلاح کے تمام نسخے موجود ہیں مزید برآن اس میں انسان کی تمام خواہشات اور ضروریات کے قوانین ہیں رب العزت اس مقدس کتاب میں فرماتا ہے کہ میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے تخلیق کیا ہوں اور و ہ شکر کریں اور زمین میں عدل قائم کریں۔اسلام کی بنیادی اصولوں میں سے ایک اہم اٰصول عدل ہے جس سے ایک فعال اور انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ممکن ہو سکتی ہے۔جن اقوام اور معاشروں میں انصاف کی کمی رہی وہاں ظلم و تشدد کا بول بالا رہا اور وہ ٹھس سے مس ہوئے۔جن ادوار میں ادعیان تشریف لائے ہیں ان کی تعلیمات میں انصاف کی یقینی اور ظلم کے خلاف اواز بلند کرنا شامل تھا اور یہی چیز نبی آخری الزمان (جس پر ہماری جان قربان ہو)کے تعلیمات میں بھی نہایت اہمت کے حامل تھا۔


امام حسین ؑ جو کہ نبی آخری الزمان محمدﷺ کا پیارا نواسا تھا جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ والہ والسلام نے فرمایا تھا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں،اس کے علاوہ امام علی مقام کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ جب نجران کے عیسائیون نے رسول اللہ سے مباہلہ کے بارے میں رائے قائم کیے اور قرآن پاک کا یہ ایت نازل ہوا،،کہ آپ اپنے بیٹون کو لے کر ایئں اور ہم اپنے بیٹوں کو لائیں گے اور دعا کریں کہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو،،یہ وہ مقام تھا جس میں اسلام کی سچائی کو ثابت ہونا تھا اس نازک موقع پرآپ صلی اللہ علیہ والہ والسلام نے بیٹوں کی جگہ امام حسن اور حسین کو ساتھ لے کر گیااور یہ ان نورانی چہروں میں سے تھا جس سے دیکھ کر عیسایؤں نے مباہلہ سے معذرت ظاہر کیے اور جزیہ دیکر جان چھڑائے۔اس کے علاوہ اپ حدیث کساء کا حصہ تھا۔


امام اعلی مقام کی بچپن اپنے نانا حضور صلی اللہ علیہ والہ والسلام کے گود میں گزرا اور ان سے تمام اعلی پیمانے کے اخلاق سکیھے اور آپﷺجناب حسین سے جان سے زیادہ پیار کرتا تھا جیسا کہ اپنے فرمایا کہ دنیا کے تمام لوگوں کی نسل بیٹوں سے چلتا ہے اور میرا نسل میرے بیٹی کے اولاد جناب حسنین کریمین سے چلے گا اور قیامت کے دن تمام نسب ختم ہو جائینگے لیکن میرا نصب برقرار رہے گا۔امام کی عظمت و کردار کا اندازہ اسے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ سرور کائینات کے چہتے نواسے اور جناب علی اور فاطمہ کے فرذند ارجمند تھا اگر اس کی پرورش ان بابرکت اور مقدس ہستیوں کے ہاتھوں ہو جائیں پھر ایسے کردار پر جان فدا اور یقینا ایسے ہی اعلی کردار کے ملک جنت کے جوانوں کے سردار ہو سکتا ہے۔


جب ہم واقعہ کربلہ کی طرف نظر دوڑاتے ہیں تو ہمارے سامنے دو قسم کے کردار اتے ہیں ایک وہ جو حق اور عدل پر مبنی تھا جس کے سامنے اپنے ناناجان کی دین کی بقا منزل مقصود تھا اور اپ کی ساتھیوں اور جان نثاروں میں اپکے خاندان کے علاوہ وہ لوگ شامل تھے جن کی کردار اور دین محمدی کے ساتھ تمسک سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے جن میں عباس علمدار،حبیب ابن مظاہر اور حر جیسے اعلی پیکر اور شجاعت کے مالک لوگ تھے جو خاندان نبوت کے پروانے تھے جن کے دلوں میں قرآن کی یہ آیت کوٹ کر بھرا ہو تھا،،کہ اے رسول آپ ان سے کہدے کہ میں اپنی تبلیغ کے سلسلے میں اپ لوگوں سے کوئی عوض نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اہل بیت سے مودت رکھیں،، اور مودت جو کہ محبت سے بڑھ کر ہوتا ہے،ا ن لوگوں کے دلوں میں اہل بیت سے مودت تھا اور وہ حق پر مرنا پسند کرتے تھے تاکہ اللہ تعالی کا قرب حاصل ہو اور نبی صلی اللہ علیہ والہ والسلام کی نیابت۔ ان آصحاب حسین کے نزدیک دنیا کی ذندگی ایک کھیل سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں تھا۔دوسری طرف وہ کردار تھا جو اللہ کے بتائے ہوئے اصولون سے منحرف تھا اور بقول علامہ جلال الدین سیوطی یزیدصلواۃ کا پابند نہیں تھا کثرت سے جسے چاہتا شادیان رچاتا،شراب پیتا اور موسیقی کا دلدادہ تھا۔تما م مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے اس بات پر متفق ہیں کہ امام حسین اور یزید دو مختلف کردار کے مالک تھے ایک اپنے ناناجان کے دین پر قائم تھا اور دوسرا اس کے بالکل مخالف کام کر تا تھا۔تو ایسے صورت میں کیا نبی کے نواسے یزید شرابی اور زانی کے ہاتھوں بیعت کرسکتا تھا نہیں اور کبھی نہیں۔اور خدا نخواستہ ایسے حالت میں دین اسلام کو بہت بڑا خطرہ لاحق تھا۔یزید اتنا بڑا ظالم اور خونخوار تھا کہ پیغمبر اسلام کے دنیا سے رخصت ہو کر صرف اڑتالیس سال ہی گزرا تھا کہ اس نے خانوادہ نبوت سے کیا سلوک کیا تھا ا س کو امام حسین کی عظمت اور فضلیت کا علم تھا لیکن اسکی دل و دماغ حرص اور برائیوں سے بھرا ہوا تھا اور اس کی حکومت میں دنیاوی مفادات کو اخروی مفادات پر ترجیح دی جاتی تھی۔


کربلہ میں امام اعلی مقام، اسکے آہل بیت اور رفقائے کار کی شہادت اس حقیقت کی عکسی کرتی ہے کہ ظلم کے سامنے حق کی بلادستی کے لیے انسان کو ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنی چاہئے اور حالات اور تعداد جیسے بھی ہو۔اجکل دنیا میں ظلم اور نا انصافی کے خلاف جتنی بھی تحریکین اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان میں کہیں نہ کہیں حسنیت ہمیں نظر اتی ہے۔کربلہ سے ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کسی بھی حالت میں عبد کو نماز سے غافل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ جس چیز کے لیے امام نے یزیدکے فوجوں سے مہلت مانگی وہ نماز تھا۔جناب اسماعیل کی قربانی کا معراج بھی نواسہ رسول تھا اور جب تک دنیا قائم ہے امام اعلی مقام کی قربانی ایک عظیم تحریک کے طور پر یاد کیا جائے گا جس سے انسانیت اور عدل و انصاف کے اصول پرواں چھڑیں گے اور مظلوموں کو یہ حوصلہ ملے گا کہ ظلم کے سامنے تعداد اور طاقت کوئی معنی نہیں رکھ سکتی اور ظلم دیر سے چل بھی نہیں سکتی جب انسان میں حق کی اواز بلند کرنے کی جرات ہو۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حسین اور یزید ایک دل میں کبھی بھی ایک ساتھ نہیں رہ سکتے جو دو الگ الگ ندیوں کی طرف بہہ سکتے ہیں ان کے راستے الگ ہیں اور منزلین تعین ہیں اور اللہ کو بھی یہی منظور ہو گا کہ ایک کا دوسر ے پر غلبہ حاصل ہو اور یہی وجہ ہے کہ اج ہر کوئی بغیر کسی مسلک،مذہب اور رنگ ونسل کے اپنے اپکو امام اعلی مقام کے فلسفہ شہادت سے جوڑتا ہے اور چاہتے ہوئے بھی کوئی یزید کا نام نہیں لے سکتا۔یہی ہے حق کی جیت اور ہر سال کروڑوں کی تعداد میں بنی نوع انسان امام اعلی مقام کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں اس لئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
انسان کو بیدار تو ہونے دو ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین


شیئر کریں: