Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد ۔۔۔۔۔تب اور اب۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

ایک معنی خیز اور عجیب خبر آئی ہے خبر یہ ہے کہ اپو زیشن نئی آئینی تر میم کے ذریعے نیشنل اکاونٹیبلیٹی بیورو (نیب) کے قوانین کو بدلنا چاہتی ہے 1990کی دہا ئی میں احتساب کے لئے نئے ادارے کی داغ بیل ڈالی گئی اس حوالے سے سیف الرحمن کو شہرت حا صل ہوئی 1999ء کے بعد نیب کے نام سے نیا ادارہ بنا یا گیا مقصد احتساب تھا اور احتساب کے ذریعے بد عنوانی کا خا تمہ تھا بد عنوانی کے لئے انگریزی کے لفظ کرپشن کو عام کیا گیا ہر طرف سے کرپشن کا نام سننے میں آیا کس نے کرپشن کیا اور کتنا کرپشن کیا اس گفتگو میں کرپشن کرنے والا بہت مقبول ہو جا تا ہے بات کڑوی ہے مگر حقیقت میں اس کو بے پنا ہ مقبو لیت ملتی ہے لو گ اس کی دولت، عزت اور ناموری پر رشک کر تے ہیں وہ نو جوانوں کا رول ما ڈل بن جا تا ہے اور یہ مو جودہ زمانے کے پرو پگینڈے کا لا زمی اثر ہے کیونکہ اس طرح کر پشن عام ہو جا تا ہے کرپشن کی حو صلہ شکنی نہیں ہو تی ہمارے گروپ میں سکو ل کے زمانے کے 20دوست ہیں ان میں سے ہر ایک نے سکول کے زمانے کا پا کستان دیکھا تھا اور اب ریٹائر منٹ کے بعد کا پا کستان دیکھ ررہے ہیں تب اور اب میں کتنا فرق ہے؟ دو مثا لوں سے یہ فرق نما یا ں ہو کر سامنے آجا تا ہے ہم دسویں میں پڑھتے تھے تو امتحا ن میں نقل کا تصور نہیں تھا اگر کوئی نقل میں پکڑا جا تا تو 3سالوں کے لئے اس پر پا بندی لگتی تھی لو گ حیران ہوتے تھے کہ طا لب علم ہوتے ہوئے نقل کرنے کی کو شش کی وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا تھا ہمارے کا لج کے زمانے میں شہر وں کے اندر نقل کی وبا آئی پھر یہ وبا اس قدر پھیل گئی کہ 50سالوں میں سکول، کا لج اور یو نیورسٹی میں اگر کسی نے نقل کے بغیر امتحا ن دیا تو لو گوں نے حیرت کا اظہار کیا نقل کے بغیر کس طرح امتحا ن دیدیتا ہے اساتذہ کرام کے ایک طبقے سے لیکر طلباء کی یو نین تک سب نے نقل کو بنیا د ی انسا نی حقوق میں شامل کیا کھلم کھلا یہ بات کہی جا نے لگی کہ آج کل نقل کے بغیر کوئی اچھے نمبر نہیں لے سکتا تب نقل کو برائی کا درجہ دیا جا تا تھا اب نقل کو چا بکدستی، ہو شیا ری اور چا لا کی کا نام دیا جا تا ہے ؎
خرد کو جنوں کا نام دیا جنوں کو خر د کہا
جو چاہے تیر ا حسن کر شمہ ساز کرے
ہم دسویں میں پڑھتے تھے تو ملا زمت کے لئے سفارش یا رشوت کا کوئی دستور نہیں تھا ہمارے گاوں اور سکول کے جتنے واقف لو گ ملا زمت پر جاتے تھے اپنی لیا قت اور قابلیت کے بل بو تے پر جا تے تھے 50سال گذر نے کے بعد ایسا زمانہ آیا کہ رشوت اور سفارش کے بغیر چو کیدار، ڈرائیوراور چپڑا سی کی نو کری نہیں ملتی ایم پی اے اور ایم این اے کو ملا زمتوں میں کوٹہ دیا جا تا ہے اور علی لاعلا ن سفارش کے ساتھ چائے پا نی کا مطا لبہ ہو تا ہے ہمارے استاد کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ میرے مخا لف شخص نے افیسر کو نیشنل پینا سا نک جا پا نی ریڈیو کا تحفہ دیکر 20کنال زمین کا مقدمہ جیت کر مجھے محروم کر دیا اس پر ہمارے استاد نے کا نوں کو ہاتھ لگا کر تو بہ کیا کہ افیسر ہوتے ہوئے رشوت لیتا ہے کتنا بے شرم اور بے حیا آدمی ہے؟ یہ وا قعہ بہت عجیب اور انہو نی لگتا تھا پھر ہم نے ایسا دور بھی دیکھا کہ سیا سی قائدین نے ایک افیسر کے خلاف با قاعدہ جلو س نکا ل کر اس کے دفتر کو تا لہ لگا دیا اور افیسر کو پا گل قرار دے کر حکومت سے مطا لبہ کیا اس پا گل کو فوراً یہاں سے تبدیل کیا جائے اور حکومت نے اس افیسر کو تبدیل کر کے کسی دور دراز سٹیشن پر بھیجدیا افیسر کا قصور یہ تھا کہ کمیشن نہیں لیتا تھا اور ٹھیکہ دار وں سے سو فیصد کام لیتا تھا یہ ٹھیکہ دار سیا سی پارٹیوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں اور یہ مل کر کسی بھی دیا نت دار افیسر کو پا گل قرار دے سکتے ہیں اُس کی تو ہین کر سکتے ہیں اور حکومت کو مجبور کر کے افیسر کو تبدیل کرا سکتے ہیں ہم سکول میں تھے تو قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو پھا نسی ہوتی تھی ہم لوگ عملی زند گی میں 40سال گذار نے کے بعد یہ حا لت ہوئی کہ قاتل کو عدالت سے باعزت بری کرنا سب سے آسان کام ٹھہرا قتل کے ایک مقدمے میں خون بہا دے کر قاتل کو چھڑا نے کے لئے جر گہ ہورہا تھا مقتول کی بیوہ نے خون بہا لینے سے انکار کیا تو قاتل کے باپ نے بھرے جر گے میں اعلان کیا ”میرا بیٹا اس خون بہا کی نصف سے بھی کم رقم خرچ کر کے قید سے رہا ہو جا ئے گا مگر بیوہ اپنے بچوں کو لیکر گاوں میں نہیں رہ سکیگی“ چنا نچہ ایسا ہی ہوا ملزم جیل سے رہا ہوا بیوہ دو بچوں کے ساتھ اغوا ہو گئی تب اور اب کا یہ فرق محض نا سٹلجیا نہیں یہ ما ضی پر ستی نہیں، یہ گئے وقتوں کا نو حہ نہیں یہ دور حا ضر میں اقتدارکی پا مالی کا ما تم ہے سب سے زیا دہ دکھ اس بات کا ہو تا ہے کہ سفا رش، رشوت اور دھونس دھا ندلی کے نئے رواج نے معا شرے کے اندر بے حسی پیدا کر دی برائی کو برائی سمجھنے کی حس ختم ہو گئی، قانون کا خوف جا تا رہا،پولیس، جیل، عدالت اور سز ا کا خوف نہیں ہو تا بد عنوانی کو برائی سمجھنے کا دستور نہیں رہا بلکہ لو گ بد عنوا نی کو بہادری، دلیری اور بڑائی کی علا مت قرار دیتے ہیں دیا نت دار سیا ستدان یا افیسر کو بز دل کا طعنہ دیا جا تا ہے جو چیز اچھی تھی، خو بی شمار ہو تی تھی اس کو اب برائی کا درجہ دیا گیا ہے اس تنزل کی وجہ کیا ہے؟ کہتے ہیں اسلا می تعلیمات سے دوری اس کی وجہ ہے گھر میں غلط تر بیت اس کی وجہ ہے دونوں وجو ہات درست ہو نگی مگر فوری وجو ہات اور ہیں فوری اثر کرنے والی ایک وجہ یہ ہے کہ اخبارات، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا میں بد عنو انی کا پر چار ہو رہا ہے دوسری فوری وجہ یہ ہے کہ قانون کو موم کی ناک بنا یا گیا ہے تب اور اب میں یہ فرق ہے۔


شیئر کریں: