Chitral Times

Jan 30, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سنوغر: وادی چترال کی ایک حسین گاؤں۔۔۔(پہلا حصہّ)۔۔۔۔تحریر: سردارعلی سردار اپر چترال

شیئر کریں:

وادی چترال کے دیدہ زیب علاقوں میں سنوغرایک   خوبصورت ترین  گاؤں ہے جو چترال مرکز سے 90 کلومیڑ کے فاصلے پر پرواک کےبالمقابل بونی زوم کے مشرقی دامن میں اپنے بلندو بالا پہاڑوں اور دیوہیکل گلیشرز کے ساتھ واقع ہے ۔جس کے جنوب میں دریائے چترال موسم گرما میں  اپنی پوری آب و تاب  کے ساتھ بہتا ہے جبکہ شمال میں مستوج کا  خوبصورت اور  تاریخی قلعہ وادی یارخون کے گلیشرز کے ساتھ اپنی رعنائی اور دلکشی کی وجہ سےسب کو  دعوتِ نظارہ  دیتا ہے ۔

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ روزنامہ آج پشاور کے  کالم “داد بیداد “جولائی (2007ء) میں  رقمطراز ہیں کہ”سنوغر کا گاؤں عام دیہات کی طرح نہیں تھا انگریزوں نے کہا” اگر زمین کے کسی ٹکڑے کو اٹھاکر ولایت لے جانا ممکن ہوتا تو وہ سنوغر کو ولایت منتقل کردیتے”۔ برٹش سرکار نے سنوغر کو چترال سکاؤٹس کا گرمائی ٹریننگ ایریا بھی قرار دیا تھا۔برٹش افیسرزگرمیاں گزارنے سنوغر آتے تھے۔سنوغر کا ڈاک بنگلہ ان کی پسندیدہ جگہ تھی۔انگریزوں کی طرف سے سنوغر کو اس قدر پسند کرنے کی ٹھوس وجوہات تھیں۔کیونکہ سنوغر پھلدار درختوں کے لئے مشہور ہے۔یہاں کے توت،خوبانی،چیری،ناشپاتی،سیب،انگوراور اخروٹ مشہور ہیں۔ یہاں توت اور اخروٹ کے 500 سو سال پورانے درخت  موجودتھے اور (2007ء) تک  پھل دیتے تھے”۔

یہ سنوغر پر اللہ تعالیٰ کا  خصوصی کرم اور نوازش ہے جہاں کی ذرہ ذرہ  سرسبز اور شاداب باغات مخمل اور نرم قالینوں کی طرح اپنے دیکھنے والوں کوہر وقت  متحیر کرتے ہیں۔ کوئی بھی انجان مسافر موسمِ گرما میں اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے سنوغر کی خوبصورتی اور یہاں کے میوؤں سے  لطف اندوز ہوئے بغیر  اپنا سفر جاری نہیں رکھتا۔چلتے چلتے راستے میں ہشاش بشاش چہرے والے لوگوں سے ملنا،حیرو عافیت پوچھنا اور مسکراہٹیں بکھرنا ہر راہگزر کا دلی آرمان اور تمنّا ہوتی تھی۔

سنوغر کی خوبصورتی اور دلکشی اپنی جگہ لیکن رئیس اور کٹور دورِ حکومت میں اس کی تاریخی اور سیاسی اہمیت بھی مسلمّہ رہی  ہے۔ برٹش حکومت کے زمانے میں سنوغر کا ڈاک بنگلہ اور چترال سکاوٹس کا گرمائی ٹریننگ  ایریا ہونا اس کی اہمیت کو اور بھی اجاگر کرتی ہے۔ یہاں سیاہ گوش اور اُس کے اجداد کے مقابر بھی موجود ہیں جو رئیس اور  کٹور دورِ حکومت میں اتالیق رہ چکے ہیں۔

سنوغر کی اہمیت اس وجہ سے بھی  زیادہ ہے  کہ یہاں  مشہور بزرگ محمد رضائے ولی کا مقبرہ موجود ہے جہاں بہت سے عقیدت مند بزرگ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے  زیارت کا طواف کرتے ہیں۔مورخین نے انہیں سید شاہ رضا ئے ولی کے نام سے یاد کرتے ہیں جبکہ عوام میں وہ زندہ پیر کے نام سے زیادہ مشہور ہیں۔

تاریخِ چترال کے مصنف مرزہ محمد غفران کے مطابق محمد رضائے ولی خراسان کے سادات خاندان سے تعلق رکھتے تھے،  شاہ طاہر رئیس (1520ء) کے زمانے میں وہاں سے ہجرت کرکے چترال آئے اور سنوغر میں سکونت اختیار کی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سنوغر میں اس وقت ایک جنّ رہا کرتا تھا جو اس کے مکینوں کو بہت تنگ کرتا تھا ۔ محمد رضا ولی نے اس کو اپنی کرامات  اور روحانی طاقت سے  ایسا گرویدہ بنایا کہ وہ  زندگی بھر اُس کا غلام بن  گیا جس کی وجہ سے سنوغر کے لوگ اس کے مرید ہوگئے۔

مختصر یہ کہ سرزمینِ سنوغر  اپنی بےپناہ دلکشی اور رعنائی کی وجہ سے پورے وادی چترال میں شہرت کا حامل رہا ہے۔جہاں کی خوبصورتی  ہر دور میں خصوصی توجہ کا مرکز رہا ہے۔معلوم نہیں کہ اس خوبصورت گاؤں کو کس کی نظر ِبد  لگ گئی کہ 28 جون 2007ءکو  گلیشیر کے اچانک پھٹنے سے سیلابی ریلا کی صورت اختیار کی اور دیکھا دیکھی اس خوبصورت گاؤں کا نقشہ ہی بدل دیا ۔اور  سنوغر کے مکینوں کے اثاثہ جات،میوے،مال مویشی اور دیگر اشیاء بہاکر لے گیا ۔جس کے نتیجے میں لوگ اپنی جانیں بچاتے ہوئے  ملحقہ گاؤں  پرواک جاکر  زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔خیر یہ تو تھی قدرت کی طرف سے ایک عظیم امتحان جو کسی بھی وقت اس کے بندوں پرآتا  رہتا ہے۔ خدا جب کسی کو مستقبل میں بہتر زندگی کی طرف لے جانا چاہتا ہے تو  امتحان طوفان کی صورت میں نازل کرتا ہے ۔ کیا خوب فرمایا  علامہ محمد اقبال ؒنے:

خدا تجھے کسی طوفان سے اشنا کردے       کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں۔

 اُس وقت سنوغر کی ناگفتہ بہ حالت کو دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ سنوغر میں زندگی کی رونقیں  دوبارہ  بحال ہوں گی۔لیکن آج کے  حالات پہلے سے بہت مختلف ہیں بلکہ  سنوغر پہلے سے کہیں زیادہ آباد اور سرسبز وشاداب نظر آرہا ہے۔اپنی حالت بدلنے کے لئے لوگوں نے شب وروز محنت کی۔ یہ مسلسل کوشش اور محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ سنوغر اپنی سابقہ خوبصورتی کی طرف دوبارہ لوٹ آرہی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ نوجوان ماضی کی طرح  دوبارہ سست روی اور کاہلی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ سنوغر کے مکینوں کی آزاد روی اور تن آسانی  لوگوں میں بہت  مشہور ہے جس کو دیکھ کر علامہ محمد اقبال  ؒ کا یہ شعر  یاد  آتا ہے:

تیرے صوفے ہیں افرانگی تیرے قالین ہیں  ایرانی                          لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن  آسانی

جیسا کہ سطورِ بالا میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس گاؤں پر بہت زیادہ مہربان ہے جس نے مختلف قسم کے پھلدار درختوں اور میوؤں کی مہربانی کے ساتھ ساتھ نہروں اور چشموں کے صاف پانی کی نعمتیں بھی نازل کی ہیں۔ دنیوی جنّت کی یہ نعمتیں عقل والوں کے لئے نشانیاں  ہی نشانیاں ہیں۔ جس سے لطف اندوز ہوکر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کو جی چاہتا ہے۔

سنوغر کی خوبصورتی  قدرت کے حسین نظاروں اور میوؤں کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ یہاں کے ہشاش بشاش اور زندہ دل لوگوں کے خوبصورت چہروں اور مسکراہٹوں کی وجہ سے نمایاں ہے۔امیر ہو یا غریب،توانا ہو یا مفلس،آقا ہو یا خادم  سب کے سب” ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود و آیاز۔۔نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز “کے مصداق سورج ڈھلتے ہی سنوغر جنالی کے عین وسط میں دنیا و مافیھا سے بےخبر اپنی دنیا میں مست سرور اور غزل کی محفلوں میں سرشار یہ لوگ اپنے غم اور خوشی کے حسین لمحات ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہوئے زندگی گزارنا ان کی پرانی  روایات کا ایک اٹوٹ حصہ ّرہا ہے ۔ جس سے ان کی زندگیوں میں ہمیشہ خوشی ہی خوشی اور طمانیت قلبی کا سرور واضح ہے۔گویا سنوغر کا یہ جنالی (پولوگراونڈ)یہاں کے باسیوں کے درمیان محبت،دوستی اور ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھنے کا  موقع  فراہم کرکے  مرکزی کردار ادا کرتا  رہا ہے بیشک ان کا ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ،اپنے خیالات ایک دوسرے سے باٹنا ان کی متنوع  زندگی کا بین ثبوت ہے۔اور یہ سلسلہ زندہ دلانِ سنوغرمیں  تا ہنوز باقی ہے۔

باہر کے لوگوں میں سنوغر کی خوبصورتی اور دلکشی کی اصل وجہ وہاں کے مکینوں  کی مہمان نوازی  بھی ہے۔غریب ہو یا توانگر سب کی نگاہوں میں مہمان نوازی صدیوں سے ایک مضبوط روایت چلی آرہی ہے۔مہمان نوازی کی یہ روایت گویا  ان کی اصل پہچان ہے۔ مہمان گھر آئے تو اس کو خدا کی رحمت اور اپنے لئے سعادت مندی تصوّر کی جاتی ہے۔اور خندہ پیشانی سے اپنی حیثیت کے مطابق اس کا  استقبال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہمان خوشی خوشی سے ان کے گھر  آتے جاتے ہیں۔گھر میں جو کچھ  بھی پکا ہو  مہمان کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔اور یہ خصوصیت سنوغر کے مکینوں کو دوسرے علاقے کے لوگوں سے ممیز کرتی ہے۔

 خوبصورت اور رومانوی گاؤںسنوغر کے ساتھ لوگوں کی دلچسپی  اور محبت کی ایک وجہ وہاں بننے والی ستھار سازی  بھی ہے ۔جہاں احمد خان کے خاندان میں اس کے پردادا محمد آمین بدخشانی سے شروع ہوکر تا ہنوز جاری ہے ۔مرورِ زمانہ کے ساتھ ستھار سازی کی اہمیت یہاں بڑھتی گئی اور دوسرے لوگ بھی اس فن میں نام پیدا کیا ۔کیونکہ سنوغر کے لوگ موسیقی کے بہت زیادہ  دلدادہ ہیں۔ اس لئے وہاں ستھار سننے اور ستھار بجانے کا رواج عام ہے ۔لوگ دور دور سے  خوبصورت ڈیزائین میں بنائے ہوئے ستھار خریدنے  کے لئے سنوغر کا رخ کرتے ہیں۔اور ایک خوبصورت ستھار خرید کر نہ صرف پاکستان کے اندر  بلکہ پاکستان سے باہر بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔

مختصر یہ کہ سنوغر کے مکینوں کی ستھار کے ساتھ محبت  موسیقی سے خصوصی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے جو صدیوں سے ان لوگوں کو ہشاش بشاش  اور خوش و حرّم  رکھنے کا واحد ذریعہ ہے۔گویا سنوغر کے زندہ دل لوگوں کی زندہ دلی کو اجاگر کرنے میں ستھار بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہا ہے۔

سنوغر: وادی چترال کی ایک حسین گاؤں۔۔۔(پہلا حصہّ)۔۔۔۔تحریر: سردارعلی سردار اپر چترال

شیئر کریں: