Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جنرل ضیاء کا ایک اچھا ورثہ (حصہ دوم)…..(پروفیسر ممتاز حسین)

شیئر کریں:

Gen Ziaul Haq

جنرل ضیاء کے قائم کردہ نظام زکواۃ  پر کل جو کچھ لکھا اس کے جواب میں کچھ نکات اُٹھائے گئے ہیں۔ ان کا مختصر جواب حاضر ہے۔

ایک نکتہ یہ ہے کہ زکواۃ حکومت کو دینے سے تسلی نہیں ہوتی کہ آیا یہ صحیح مصرف پر خرچ ہوئی ہے یا نہیں۔ اس لیے خود کسی مستحق کو دینا بہتر ہے۔


اس سلسلے میں یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ زکواۃ نہ صرف عبادت ہے بلکہ اسلامی ریاست کی ایک ذمے داری بھی۔ ریاست پر لازم ہے کہ وہ مالداروں سے زکواۃ وصول کرے اور غریبوں پر خرچ کرے۔ یہ کوئی رضاکارانہ کام نہیں بلکہ ریاست کا فرض ہے کہ  قانون اور طاقت کے ذریعے وصولی کرے۔ یہ مسئلہ شریعت میں طے شدہ ہے اور اس پر کوئی اختلاف نہیں۔ قران اور سنت میں اس کے واضح احکام موجود ہیں۔ عملی طور پر اس کی مثال خلیفہ اولؓ کے زمانے کی ہے، جب کچھ علاقوں میں لوگوں نے زکواۃ حکومت کو دینے سے انکار کیا تو ان کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف جہاد کیا گیا۔ یہ لوگ اسلام کے باقی احکام سے نہیں پھرے تھے۔ بلکہ زکواۃ سے بھی منکر نہیں تھے۔صرف  اسے ریاست کو ادا کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں سے ایک قبائلی سردار کا قول نقل ہوا ہے کہ ہم زکواۃ خدا کے رسول کو دیتے تھے، ابو قحافہ کے بیٹے کو کیوں دیں۔ حضور ابوبکرؓ سے ان لوگوں کے ساتھ نرمی کرنے کی درخواست کی گئی تو آپ نے فرمایا کہ میں ان سے ایک رسی کا ٹکڑا بھی حاصل کیے بغیر نہیں رہوں گا۔ چنانچہ جنگ کرکے ان سب کو مغلوب کیا گیا اور زکواۃ کی وصولی یقینی بنائی گئی۔

یہاں پر یہ اعتراض ہوسکتا ہے کہ خلافت راشدہ اسلامی ریاست تھی اس لیے اس کو زکواۃ وصول کرنے کا حق حاصل تھا۔ یہ درست ہے کہ خلفائے راشدین تقویٰ کے بلند ترین درجے پر فائز تھے اور آج کل کوئی ان کے پائے کو نہیں پہنچ سکتا۔ آج صدیقؓ کا پیدا ہونا ممکن نہیں، لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم دین کے اجتماعی نظم کو قائم کرنے کی کوشش ترک کر دیں۔ درست طرز عمل یہ ہے کہ دین کے جتنے حصے کو نافذ کرنا ممکن ہوا اسے نافذ کریں اور باقی کی کوشش جاری رکھیں۔ اس طرح مکمل اسلامی نظام کی طرف پیش رفت ممکن ہوگی۔ اگر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے مکمل اسلامی نظام کے انتظار میں بیٹھے رہیں گے تو وہ کبھی نہیں آئے گا۔ یہ تو اس سردار جی کی مثال ہوگی جو تیرتے ہوئے ڈوب گیا تھا۔ جب اسے بچایا گیا تو قسم کھا لی کہ جب تک ماہر تیراک نہ بن جاؤں، پانی میں پاؤں نہیں رکھوں گا۔

فقہا کا اس پر اتفاق ہے کہ اسلامی ریاست کی موجودگی میں انفرادی طور پر زکواۃ ادا نہیں ہوتی۔ تاہم کچھ کی رائے ہے کہ اموال باطنہ کی زکواۃ انفرادی طور پر دینے سے بھی ادا ہوجاتی ہے اگرچہ بہتر حکومت کو دینا ہی ہے۔ اموال باطنہ سے وہ دولت مراد ہے جو خفیہ ہوتی ہے، مثلاً گھر میں رکھا ہوا سونا یا کیش۔ اس کے مقابلے میں زمین کی پیداوار، مال مویشی اور بنک اکاؤنٹ وغیرہ اموال ظاہرہ ہیں اور ان کی زکواۃ ریاست کو دیے بغیر ادا نہیں ہوتی۔ اسی لیے جنرل ضیاء کو علماء نے  مشورہ دیا تھا کہ بنک اکاونٹ اور زمین کی پیداوار سے زکواۃ کی وصولی کی جائے۔ تاہم کچھ فقہاء کی رائے یہ بھی ہے کہ ہر قسم کے اموال پر زکواۃ ریاست کو وصول کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے دور میں اموال باطنہ کی زکواۃ وصول نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ زکواۃ کی آمدنی بہت بڑھ گئی تھی اور لینے والے کم تھے۔

کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ موجودہ حکومتیں اسلامی نہیں اس لیے ان کو نہ تو زکواۃ وصول کرنے کا حق ہے اور نہ ان کو دینے سے زکواۃ ادا ہوجاتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ملک قرارداد مقاصد کے تحت ایک اسلامی مملکت ہے۔ اس کے آئین کی بنیاد اسلامی اصولوں پر ہے۔ ہم نے اس آئین کو قبول کرکے مملکت کو اسلامی مان لیا ہے۔ ہم دیگر معاملات میں اسے اسلامی مملکت کہتے ہیں اور اس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اسلام کے اصولوں کے مطابق چلے۔ اس کے حکمران ہم پر کسی نے مسلط نہیں کیے ہیں بلکہ پاکستان کے مسلمانوں نے اکثریت کی بنیاد پر انہیں منتخب کیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے اس لیے یہاں یہ ہونا چاہیے، وہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن جہاں دو پیسے جیب سے نکلنے کی بات اتی ہے تو ہمیں یاد اتا ہے کہ یہ تو ایک طاغوتی نظام ہے۔ بھائی طاغوتی نظام ہے تو تم اس کا حصہ کیوں بن بیٹھے ہو۔ اس کی اسمبلیوں، وزارتوں اور دیگر بے شمار ادروں میں بیٹھ کر لوگوں کے ٹیکس کا پیسہ اُڑانے کے لیے یہ تو دنیا کی واحد اسلامی ریاست ہے جو کلمے کی بنیاد پو وجود میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ بھی جہاں اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو سوٹ کرتا  ہو وہاں آئین اور قانون کی اسلامی دفعات فر فر سناتے ہو۔

ایک اعتراض یہ ہے کہ سرکاری طور پر وصول شدہ زکواۃ صحیح مصارف پر خرچ نہیں ہوتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ زکواۃ کے اداروں میں خامیاں ہیں اور کرپشن بھی ضرور ہوتی ہوگی۔ لیکن ذکواۃ کے اداروں میں ہے کون؟ مرکزی زکواۃ کونسل وصول شدہ فنڈ صوبائی کونسلوں کو ٹرانسفر کرتی تھی۔ یہاں سے رقم ضلعی سطح پر قائم کمیٹیوں اور پھر مقامی کمیٹیوں کے ذریعت تقسیم ہوتی تھی۔ یہ کمیٹیاں لوگ مسجدوں میں بیٹھ کر منتخب کرتے تھے اور کوشش ہوتی تھی کہ ان میں دیندار لوگ آجائیں۔ مقامی لوگوں خصوصاً مذہبی رہنمأؤں کا فرض تھا کہ ان کی کڑی نگرانی کرکے یقینی بناتے کہ رقم مستحقین تک پہنچ رہی ہے۔ جہاں تک صوبائی اور مرکزی کونسلوں کا تعلق ہے تو ان میں بھی علماء شامل ہوتے تھے۔ نیز زکواۃ و عشر کے محکمے کی وزارت بھی ہمیشہ مذہبی طبقے کے پاس رہی ہے۔ خصوصآً دینی جماعتوں کے وزیر ان کے نگران رہے ہیں۔ ان سب نے نہ صرف یہ کہ اس نظام کی خامیوں کو دور کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی بلکہ اس کے بگاڑ میں پوری طرح حصہ دار رہے ہیں۔ اس تمام بد انتظامی کے باوجود بھی زکواۃ کا نظام ختم کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ کیا وزارت حج میں ہونے والی بد عنوانیوں کی وجہ سے حج کا نظام ساقط ہوسکتا ہے، یا رویت ہلال کے جھگڑوں کے سبب کوئی کہہ سکتا ہے کہ عید کے اجتماعات بند کرکے لوگ انفرادی نماز پڑھ لیں؟ سب سے عجیب طرز عمل ہماری دینی جماعتوں کا ہے۔ اس نظام کو قائم کرنے میں ان کی پوری حمایت جنرل ضیاء کو حاصل تھی۔ لیکن اس کو بچانے کے لیے ان کی طرف سے کوئی کوشش تو دور کی بات، زبانی کلامی بھی کچھ کبھی سنائی نہیں دی۔ یہ ایران توران کی کہانیاں تو سناتے ہیں اور ساری دنیا میں اسلام نافذ کرنے کی بات کرتے ہِیں، لیکن اپنی ناک کے نیچے اتنے بڑے ایشو پر ان کی نظر کبھی نہیں پڑی۔

در اصل اس سارے معاملے کی بنیاد میں مالی مفادات کار فرما ہیں۔ اس نظام کے قائم ہونے سے بہت سے لوگوں کے مفادات کو خطرہ پیدا ہوگیا۔ ایک فرقے کے رہنماؤں کی طرف سے احتجاج کا سبب یہی مالی مفاد تھا۔ اس سے دوسرے فرقوں کو بھی شہہ ملی اور انہوں نے اپنے نقاصانات کے ازالے کے لیے کوششیں کیں۔ خود زکواۃ دینے والوں کے اپنے مفادات تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اپنے ہاتھ سے کسی کو زکواۃ دیں تاکہ اس کی فیاضی اور  دینداری شہرت ہو۔ بہت سے لوگ اپنے اردگرد کے لوگوں کو زکواۃ دے کر اپنا احسان مند بناتے ہیں اور ان کی اپنی سماجی حیثیت بڑھتی ہے۔ سرکار کو زکواۃ دے کر وہ ان تمام فواید سے محروم ہوگئے۔

آخری بات یہ ہے کہ اس ملک میں اگر آئیندہ بھی کوئی اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کرے گا، اسے آغاز نظام زکواۃ سے کرنا ہوگا۔ اس سے لوگوں کا اعتماد نظام پر بڑھے گا۔ لیکن اس بار اس کی سخت مخالفت ہوگی، مفادات جو بڑھ گئے ہیں


شیئر کریں: