Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جنرل ضیاء کا ایک اچھا ورثہ…..(پروفیسر ممتاز حسین)

شیئر کریں:

Gen Ziaul Haq

   17  اگست جنرل ضیاء الحق کا یوم وفات ہے۔ وہ ایک فوجی دکتیٹر تھے جس نے ملک میں جمہوریت کی بساط برسوں تک لپیٹے رکھی۔ ان کے عہد حکومت میں بہت سے ایسے رجحانا ت شروع ہوئے جن کی وجہ سے ملک کو شدید نقصان اُٹھانا پڑا۔ ان چیزوں کو عموماً ضیاء الحق کا ورثہ کہا جاتا ہے۔

لیکن دنیا میں کوئی شخص مجسم شر نہیں ہوتا۔ ضیاء الحق نے بھی کچھ کام کام ایسے کیے تھے جنہیں ہم ان کا  اچھا ورثہ کہہ سکتے ہیں۔ ایسے کاموں مِیں ایک زکواۃ و عشر کے نظام کا قیام ہے۔

زکواۃ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ہے۔ قران مجید میں اس کی بڑی تاکید آئی ہے۔  زکواۃ مالداروں سے وصول کرنا اور اسے مقرر کردہ مدوں پر صرف کرنا اسلامی مملکت کی بنیادی ذمے داریوں میں سے ہے۔ زکواۃ  ٹیکس نہیں بلکہ سوشل سیکیورٹی کا ایک مکمل ادارہ ہے۔ اس ادارے کو اگر صحیح خطوط پر استوار کیا جائے تو معاشرے میں بھوک اور افلاس کا نام و نشان نہیں رہے گا۔ اس کے تحت سال بھر کسی شخص کی ملکیت میں رہنے والی ایک خاص حد سے زیادہ دولت پر مقررہ شرح سے وصولی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ ایک مکمل ادارہ ہے اس لیے ادارے کے مصارف بھی زکواۃ ہی سے ادا کیے جاتے ہیں۔ یعنی یہ دوسرے اداروں کی طرح سرکاری خزانے پر کوئی بوجھ نہیں ڈالتا۔

1980 میں اس مقصد کے لیے جو قانون بنایا گیا تھا اس کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر زکواۃ کونسلیں اور ضلعی اور مقامی سطح پر منتخب کمیٹیاں بنائی گئیں۔ زکواۃ کی وصولی کے لیے ابتدائی طور پر طے پایا کہ صرف بنکوں میں رکھی گئی رقم اور زرعی پیداوار سے زکواۃ/عشر وصول کیا جائے گا۔ اُس وقت کہا گیا کہ باقی اموال جیسے مویشیوں، سونا چاندی، اموال تجارت وغیرہ سے زکواۃ کی وصولی کے لیے بعد میں کوئی مناسب انتظام کیا جائے گا۔ یہ نظام  تمام فرقوں کے علماء کے مشورے اور ان کی نگرانی میں بنایا گیا۔ اُس وقت اس بارے میں کوئی اختلافی رائے نہیں آئی۔

جب بنکوں سے زکواۃ کاٹنے کا عمل شروع ہوا تو شیعہ فرقے کی طرف سے اعتراض ہوا کہ ہمارا زکواۃ نکالنے کا طریقہ کچھ مختلف ہے، اس لیے بنکوں میں ہم سے زکواۃ نہ کاٹی جائے۔ اسی قضیے کے نتیجے میں “تحریک نفاذ فقہ جعفریہ” وجود میں آئی۔ جب یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا تو حکومت نے فیصلہ کیا کہ شیعوں سے زکواۃ نہ کاٹی جائے اور وہ اس مضمون کا ایک بیان حلفی اپنے بنک میں جمع کرادیں۔ اس طرح شیعہ لازمی کٹوتی سے مثتسنیٰ ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ غیر شیعہ لوگ بھی بکثرت اسی طرح کے بیان حلفی جمع کرا کر خود کو زکواۃ سے مثتسنیٰ کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اہلسنت کے رہنماء نے مطابہ کیا کہ انہیں بھی اسی قسم کا اثتسنیٰ دیا جائے۔ چنانچہ اہلسنت کو بھی اجازت دی گئی کہ وہ اس مضمون کا ابیان حلفی جمع کرادیں کہ میں اپنی زکواۃ انفرادی طور پر دینا چاہتا ہوں اس لیے میرے اکاونٹ سے زکواۃ نہ کاٹی جائے۔ اس سے پہلے بنکوں کی طرف سے یہ شکایت آئی تھی کہ رمضان کے آغاز میں زکواۃ کاٹنے سے پہلے لوگ بڑی مقدار میں پیسہ بنکوں سے نکالتے ہیں جس سے بنکوں کو کیش کے مسائل ہوتے ہیں۔

شروع میں زکواۃ سے متعلقہ ادارے جیسے مرکزی اور صوبائی زکواۃ کونسلوں نیز کمیٹیوں کی تشکیل اور ان کے کام کرنے میں کافی با قاعدگی تھی۔ رفتہ رفتہ ان کی طرف بھی توجہ کم ہوتی گئی۔ آخر میں یہ حالت ہوگئی کہ ان کے انتخاب اور نامزدگیوں  کا عمل ہی رک گیا۔ بنکوں میں کٹوتیاں کم ہونے سے ان اداروں کو رقوم کی ترسیل بھی متاثر ہوئی اور ان کے روزمرہ کے اخراجات کے لیے ہی پیسے نہ رہے۔ زکواۃ کے نطام کی تابوت میں آخری کیل اس وقت ٹھونکی گئی جب اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں زکواۃ کا محکمہ وفاق سے نکال کر صوبوں کو دیا گیا۔ ضیاء کا بنایا ہوا قانون اس نئے انتظام کے بارے میں خاموش تھا۔ اس بارے میں نئی قانون سازی کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی۔ اور یوں یہ سارا نظام غیر قانونی  ہوگیا۔ کئی سال بعد صوبوں کو خیال آیا تو نیم دلی سے اقدامات شروع کیے لیکن تب تک نظام بری طرح بیٹھ چکا تھا۔

یہ ایک بہت خوش آئیند اور مفید پروگرام تھا۔ اس کے تحت نہ صرف نادار لوگوں کی مالی مدد ہوتی تھی بلکہ غریب طالبعلموں کی تعلیم  اور مریضوں کے علاج کے لیے بھی وسائل دستیاب ہوتے تھے۔ اس کو کامیابی سے چلایا جاتا تو غربت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اسلام کے فلاحی نظام کا بہت عمدہ نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملتا۔ لیکن افسوس کہ کسی نے اس کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کی۔ اس کی ناکامی میں سیاستدانوں، بیوروکریسی، مختلف فرقوں کے رہنماؤں اور عوام ، العرض سب کا برابر حصہ ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ کسی نے اس نظام کو بچانے اور اس کی بحالی کے لیے آواز نہیں اُٹھائی۔ وہ لوگ بھی جو خود کو اسلامی نظام کا علمبردار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا تھا کہ اس نظام میں خرابیاں یا کمزوریاں تھیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

قیامت کے دن جنرل ضیاء شاید اس عمل کو خدا کے سامنے پیش کرکے اپنی بخشش کرانے کی کوشش کرے گا۔ اُس وقت ہم سے ضرور یہ سوال ہوگا کہ تم نے اس نظام کو کیوں ناکام کیا؟


شیئر کریں: