Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزادکشمیرکے لیے سی پیک کے منصوبے اورحکومتی روش…پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

چین نے گزشتہ35 سالوں کے دوران انتظامی تبدیلیوں اور آزاد تجارتی پالیسیوں کے زریعے تاریخی معاشی کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔سی پیک امن کا منصوبہ ہے،یہ خوشحالی، ٹیکنالوجی میں نئی جہتوں،پاکستان کو مختلف ممالک اور تہذیبوں سے ملانے اور ان کے ساتھ تعاون کا منصوبہ ہے۔ سی پیک کو اگر ایشین ٹروجن ہارس کا نام دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔اکیسوی صدی عالمی تعاون اور معاشی ترقی کی صدی قرار دی جار ہی ہے، سی پیک دنیا کے 160ممالک کے درمیان ایک پل کا کام سر انجام دے گا جس میں بنیادی طور پر چین،سنٹرل یو رپ اور ایشیا  شامل ہیں۔ سی پیک تعمیرات، تجارتی تعاون، صنعتی روابط، مالی معاونت کے ساتھ ساتھ چین اور دیگر ممالک کی اقوام کو آپس میں ملانے میں اہم کردارادا کرے گا۔ سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان ایک بہت بڑامنصوبہ ہے جس کے زریعے چین 62 بلین ڈالرز سڑکوں، ریلوے، تونائی، فائبر اور بالخصوص معاشی شعبے پر خرچ کر رہا ہے۔ سی پیک امریکی ایجنڈے کی راہ میں ایک دیوار کا کام بھی سر انجام دے گا۔ آزادکشمیر پاکستان کی جی ڈی پی میں 2%شراکت کے ساتھ 1.59 فیصدآبادی پر مشتمل علاقہ ہے۔ آزادکشمیرمعاشی مسائل کی وجہ سے اپنے قدرتی وسائل کو پورے طریقے سے استعمال کرنے سے قاصر ہے۔بالخصوص آزاد کشمیرمیں تعمرات کی کمی، ناکافی صنعتوں، اور پانی کے ذخائر کو مثبت اور موثر انداز میں قابل استعمال لانے سے قاصر ہے۔ آزاد کشمیر اپنی دلکشی اور خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے اور کشمیر جنت نظیرکے نام سے مشہور ہے۔ ہر سال 1.5ملین سیاح آزادکشمیر کی سیر کو آتے ہیں اور 100سے زیادہ ثقافتی ورثہ کے مقامات اور آثار قدیمہ سے لطف اندوز ہو تے ہیں۔ آزاد کشمیر ڈوگرہ، سکھ، بدھ مت اور مغلیہ سلطنت کے تاریخی مقامات سے کی وجہ سے انفرادی حیثیت رکھتا ہے۔ سی پیک کے تحت آزادکشمیر کے خطوں کی سیاحت کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گاجو لاکھوں نوکریوں کے علاوہ حکومتی ریونیو میں بھی بے پناہ اضافے کا باعث بنے گا۔ سی پیک کے تحت آزاد کشمیر کے لیے 200کلومیٹر سڑک کا منصوبہ شامل ہے جو مانسہرہ کو مظفرآباد کے علاوہ دیگر اضلاح سے بھی جوڑے گا۔آزاد کشمیر میں سڑکوں کے علاوہ توانائی کے مختلف شعبے بھی سی پیک کا حصہ ہیں۔ کوٹلی، کروٹ ہائڈروپاور پروجیکٹ جس کی پیداواری صلاحیت 796میگاواٹ ہے اسے 2021تک مکمل کر لیا جائے گا۔کروٹ ہائیڈروپاور پراجیکٹ دو سال میں مکمل ہونے کی امید ہے جو ابھی تک امید تک ہی محدود ہے۔اس منصوبے پر 1.74ملین ڈالرز خرچ کیے جائیں گے اور اس منصوبے کی مدد سے بجلی کے بحران سے نجات حاصل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی ملے گی۔یہ منصوبہ سالانہ 3.2ملین کلوواٹ بجلی کا زریعہ ہو گا جو پاکستان میں ہائیڈروپاور پراجیکٹس سے پیدا ہو نے والی کل بجل کے دس فیصد کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ گل پر، آزاد پتن، مہال اور دودھنیال ہائیڈو پاور پراجیکٹس بھی شامل ہیں جن پر ابتدائی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔نیلم ویلی جاگراں کے مقام پر بھی منصوبے سی پیک کا حصہ ہیں۔ سی پیک کے تحت آزاد کشمیر کے حصے میں آنے والے ہائیڈروپاورپراجیکٹس سے مستقبل میں 6000میگاواٹ بجلی پیدا ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔آزادکشمیر میں درمیانی نوعیت کے 800 اور لمبے عرصے کے 18000میگاواٹ  کے ہائیڈروپاور پراجیکٹس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر کو مستقبل میں بجلی کے بحران سے نکالنے کے لیے ان منصوبوں پر کام کرنا نا گزیر ہے۔ آزادکشمیر میں بجلی کی کل کھپت 400میگاواٹ ہے۔ 2017میں پیٹرینڈ ہائیڈروپاور پراجیکٹ مکمل کیا گیا جس کی پیداواری صلاحیت 147میگاواٹ ہے۔ سال 2019میں نیلم جہلم پراجیکٹ نے کام شرو ع کیا جو 969میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ آزادکشمیر تقریبا 2616میگاواٹ بجلی پیدار کر رہا ہے۔ کو ہالہ ہائیڈوپاورپراجیکٹ جس کی پیداواری صلاحیت 1124میگاواٹ ہے وہ بھی ملکی معیشت اور بجلی کی ضرورت پوری کرنے میں شامل ہے۔ایک اندازے کے مطابق کوہالہ ہائیڈروپاور کی تکمیل پر آزادکشمیر سالانہ 19ملین کمائے گا۔ اس کے علاوہ ایک صنعتی زون کے قیام سے آزاد کشمیر کی اشیااء کو بیرون ممالک منڈیوں تک رسائی بھی ملے گی۔ اس صنعتی زون کی تکمیل کے لیے موٹروے M4 کو آزادکشمیر کے مختلف اضلاع سے ملایا جا ئے گاجس کی وجہ سے پنجاب اور آزادکشمیرکے درمیان فاصلے میں 50کلومیٹر ز کا فرق پڑے گا۔آزادکشمیر قیمتی اور نایاب پتھروں کا مرکز ہے جو معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے مگر یہ شعبہ حکومت کی معاشی بدحالی، ناقص منصوبہ بندی اور عدم توجہی کی وجہ سے زوال کا شکار ہے۔ سی پیک کے زریعے معدنیات کی صنعت کے قیام کے امکانات کافی زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ سی پیک کے تحت میر پور آزادکشمیر کے لیے ایک خصوصی معاشی زون قائم  کا قیام بھی طے پایا ہے جو خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر ے گا۔ متذکرہ بالا منصوبوں کے علاوہ بھی کئی اور منصوبے سی پیک میں شامل ہیں جو آزادکشمیر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر یں گے مگر حکومت سستی اور ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ان میں سے اکثر منصوبے ابھی تک شروع نہیں ہو سکے اور بیشتر کے لیے ابھی تک زمین تک حاصل نہیں کی جا سکی۔ اگر حکومت آزاد کشمیر اپنی روائیتی روش پر گامزن رہی توشاید ہم سی پیک کے بے شمار ثمرات سے فائد اٹھانے کا موقعہ گنوا دیں۔ اگر سی پیک میں آزادکشمیر کے لیے شامل منصوبوں پر توجہ دے کر ان کاترجہی بنیادوں پرآغاز اور تکمیل ممکن نہ بنائی گیا تو آزادکشمر خطے میں پہلے ہی بہت پس ماندہ ہے اس کوتاہی کی وجہ سے کئی دہائیاں مزید پیچھے دھکیل دیا جائیگا جس کی تلافی کرنا ناممکن ہو گا۔


شیئر کریں: