Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔قرآن کی تعلیم۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

صو بائی حکومت نے قرآن کی تعلیم کو لا زمی قرار دیا ہے وفا قی حکومت نے بھی قرآن کی تعلیم کو لا زمی قرار دینے کا حکم جا ری کیا ہے لیکن پرائمیری سکولوں میں قرآن کی تعلیم کے لئے معلم دینیات کی کوئی آسامی نہیں دی گئی سوات دیر اور چترال کی سابق ریا ستوں میں قرآن کی تعلیم کے لئے ہر پرائمیری سکول میں معلم دینیات (TT) کی پوسٹ دی جاتی تھی جس کو عرف عام میں معلم استاذ کہا جاتا تھا معلم استاذ پا نچویں جما عت تک قرآن نا ظرہ تجوید کے اصو لوں کے مطا بق پڑ ھا تا تھا ایما نیات کا سبق دیتا تھا اور تیسری جما عت سے لیکر پانچویں جما عت تک طلباء اور طا لبات کو نماز پنجگا نہ کی تعلیم دیتا تھا ظہر کی نما ز سکول کے اوقات میں پڑ ھا تا تھا 1990ء میں میر افضل خا ن مر حوم کو وزیر اعلیٰ بنا یا گیا تو انہوں نے پرائمیری سکولوں سے معلم دینیات کی آسا میوں کو ختم کر نے کا حکم جاری کیا 1994ء میں آفتاب احمد خان شیر پاؤ وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے ہائی سکو لوں کے لئے معلم دینیات کی ایک پو سٹ کو نا کا فی قرار دیکر عربک ٹیچر (AT) اور قاری کی الگ الگ آسا میاں منظور کیں لیکن پرائمیری سکول میں معلم دینیات کی آسا می کو دوبارہ بحال کرنے پر ان کی توجہ مبذول نہیں کرائی گئی مو جودہ حا لات میں پرائمیری کی سطح پر قرآن پا ک کی لا زمی تعلیم پر عمل در آمد کا کم خر چ بالا نشین انتظام ہو سکتا ہے اور اس پر سر کاری خزا نے سے کوئی اضا فی بجٹ نہیں لگے گا سب سے پہلے اس بات کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن پا ک لازمی تعلیم صر ف پرائمیر ی سکولو ں میں دی جا سکتی ہے ہا ئی سکولوں میں اس کی کوئی گنجا ئش نہیں اور پرائمیری سکو لوں میں تجوید کے ساتھ قرآن پا ک کی لا زمی تعلیم کو ٹائم ٹیبل میں شامل کرنے کے لئے ہا ئی سکو لوں سے قاری اور اے ٹی کی دو آسا میوں کو پرائمیری سکو لوں میں تبدیل کرنا کا فی ہو گا جن لو گوں کو سکول کے نظم و نسق اور ٹائم ٹیبل کا علم یا تجربہ ہے وہ بخو بی جا نتے ہیں کہ سائنس، ڈرائنگ اور کمپیو ٹر کے مو جو دہ دور میں ہائی سکول کے اندر اسلا میات کے 5پیریڈ ہو تے ہیں 3اساتذہ میں سے دو کو دو، دو پیریڈ ایک استاذ کو ایک پیریڈ ملتے ہیں اور یہ اعلیٰ تعلیم یا فتہ افرادی قو ت کا ضیا ع ہے عربک ٹیچر،قاری اور ٹی ٹی کو کبھی اردو کے پیریڈ میں اور کبھی معاشرتی علوم کی کلا س میں بھیجا جا تا ہے قریب ہی پرائمیری سکول واقع ہے وہاں قرآن اور اسلا میات پڑ ھا نے والا کوئی استاذ ہی نہیں عجیب صورت حال یہ ہے کہ سب ڈویژنل ایجو کیشن افیسر یا ڈسٹرکٹ ایجو کیشن افیسر (زنا نہ) یا مر دانہ کی طرف سے اس کمی اور خا می کی رپورٹ اوپر بھیجی جا تی ہے تو کوئی جواب نہیں آتا، سوات اور چترال کی ریا ستوں میں معا ئنہ افیسر لا گ بک میں جس کمی یا خا می پر نوٹ لکھنا تھا اُس کی کا پی پیدل سفر کے زمانے میں ایک ہفتے کے اندر افیسر تعلیم کی میز پر آتی تھی اور 24گھنٹوں کے اندر اس کا ازالہ کیا جا تا تھا انگریزوں کے زما نے میں پشاور اور نو شہرہ یا دوسرے علا قوں میں بھی معائینہ افیسر کی رپورٹوں پر فوری کا روائی ہوتی تھی مجا ز افیسر ہر رپورٹ کی ایک ایک سطر کو غور سے پڑھتااُس کے قابل اعتراض حصو ں کو خط کشیدہ کر کے الگ کرتا اور اُن پر فوری کاروائی کا حکم دیتا تھا آج اگر کوئی محقق اس دور کے نظم و نسق پر تحقیقی مقا لہ لکھنے پر کام کر ے تو اس کو یہ پرانی فائلیں بڑی بڑی الماریوں میں مقفل حالت میں ملینگی اس وقت محکمہ تعلیم ابتدائی و ثا نوی شعبے سے لیکر اعلیٰ تعلیم کے شعبے تک دو قباحتیں عام ہو چکی ہیں پہلی قبا حت یہ ہے کہ پا لیسی بنا تے وقت فیلڈ میں ڈیو ٹی دینے والے افیسروں کی رائے نہیں لی جا تی پرائمیری اور ہائی سکول کے لئے پا لیسیاں وہ لو گ بنا تے ہیں جنہیں گذشتہ 30سالوں کے اندر کسی سکول کے اندر جھانکنے کسی استاذ یا ہیڈ ما سٹر یا پر نسپل کے ساتھ دو منٹ کے لئے مختصر تباد لہ خیا لات کا مو قع نہیں ملا یہ 1990کے ما ہ اگست کی بات ہے کہ سوات کے بڑے ہو ٹل میں فیصل اباد سے آنے والے ایک پرو فیسر سے ملا قات ہوئی پر وفیسر تعلیمی نفسیات پر 5کتا بوں کے مصنف تھے عالمی بینک کے ایک پرا جیکٹ میں کنسلٹنٹ لئے گئے تھے پا لیسی بنا نے کے لئے مختلف اضلا ع کا دورہ کر رہے تھے دوران گفتگو معلوم ہوا کہ مو صوف نے کا لا م اور میوڈ ھنڈ کی سیر کی، چترال میں وادی کا لا ش گئے آج ان کے دورے کا آخری دن تھا پا لیسی پیپر لکھ چکے تھے مو صوف نے کوئی سکول نہیں دیکھا محکمہ تعلیم کے کسی اہلکار سے ملا قات نہیں کی اُن کا خیال تھا کہ اس قسم کی ملا قا توں سے پا لیسی پیپر کا مد عا حا صل نہیں ہو گا وہ لو گ اپنی مر ضی لکھنے والے پر تھو پنے کی کو شش کرینگے چنانچہ مدین، بلا مبٹ اور چترال کے پرائمیری سکول کے لئے فیصل اباد کے ایک غیر متعلقہ شخص نے خوب صورت انگریزی میں پا لیسی تیار کرکے مشی گن یو نیورسٹی سے آئے ہوئے غیر متعلقہ افیسر کو تھما دیا ہے اور وہی ہمارے پرائمیر ی سکولوں کی پا لیسی ہے دوسری خا می یہ ہے کہ معا ئینہ افیسر کی رپورٹ کو پڑھنے کا رواج ختم ہوا اس لئے معا ئینہ کے لئے جا نے والے حکام کی دلچسپی بھی ختم ہو گئی قرآن کی لا زمی تعلیم کا حکم اس افرا تفری میں کہیں گم ہو گیا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہائی سکو ل سے قاری اور اے ٹی کی 7ہزار آسا میوں کو پرائمیری سکولوں میں منتقل کیا جائے اور قرآن کی لا زمی تعلیم پر ائمیری سکول سے شروع کی جائے۔


شیئر کریں: