Chitral Times

Dec 4, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شندور ہندراپ نیشنل پارک اور تاریخ کے تانے بانے ……خالد محمود ساحر

شیئر کریں:

تاریخ چترال (برٹش ریکارڈ کے باقی ماندہ دستاویزات) کیمطابق کوہ (ریشن سے سنوغر تک) شاہیداس سے سور لاسپور تک,مستوج سے کھوژ,  یارخون (بریپ سے بروغل تک) اور مضافات کے دیہات کو جوڑ کر وہ علاقے تھے جو خوش وقتی خاندان کے ماتحت تھے جس میں غذر اور یاسین بھی شامل تھے. اس وقت کے کٹور مہتر  شاہ امان المک نے یاسین کے حکمران مہتر کو معزول کیا اور غذر و یاسین کو چترال کے کٹور قلمرو میں شامل کیا مگر 1895ء میں برٹش حکمرانوں نے مستوج سے شندور تک مہاراجہ آف کشمیر کو دیدیا.1899ء کو مہتر شجاع الملک نے ہندوستان کے وائے سرائے کے سامنے ایک عریضہ دعوی پیش کیا جسے 1914 کو شرف قبولیت حاصل ہوئی اور مستوج کو چترال میں ضم کیا گیا.جب مہتر شاہ امان الملک نے یاسین کے حکمران مہتر پہلوان کو معزول کیا اور غذر اور یاسین کو چترال کے قلمرو میں ضم کیا تو وشرگوم اپنے بڑے بیٹے نظام الملک کو اور مستوج چھوٹے بیٹے افضل الملک کو دیا. جب انگریز اس علاقے پر نیم قابض ہوئے تو انھوں نے اس ملک کے حصے بخرے کئے.انہوں نے نرست اور نورستان افغانستان کے کو دیدیا اور یاسین و مستوج کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر ان جگہوں کیلئے گورنر مقرر کیا. حکومت کے حالیہ فیصلے کو اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو صاف ہے کہ شندور یاسین اور چترال دونوں کا حصہ اور الگ الگ حکمرانوں کے ماتحت رہا ہے لیکن پاکستان کے وجود سے پہلے شندور چترال کے کٹور قلمرو کا حصہ تھا. اسی طرح وشرگوم 1895ء تک ریاست چترال کا ایک حصہ تھا اور اس کے چترال کے ساتھ انتہائی قریبی لسانی, تاریخی,سیاسی,ثقافتی اور سماجی تعلقات تھےاگر ان واقعات کو بنیاد بنا کر سرحدوں اور علاقوں کی تقسیم نو ہوئی تو غذر(یاسین) اور وشرگوم بھی مہتر چترال کے آبائی وراثت کے حصے میں آتے ہیں اور ایک حد تک تاریخ کو شاہد بنا کر یہ مقدمہ آگے لے جایا جاسکتا ہے.اسی طرح نورستان کے اوپر بھی عریضہ دعوی پیش کیا جاسکتا ہے جو انگریزوں کی آمد سے پہلے ریاست چترال کا حصہ تھا. پاکستان کے وجود نے پرانی تاریخ اور پرانے فیصلوں کو  مسخ کرکے ایک نئی تاریخ کا بنیاد رکھا ہے  اور شندور کے  کا فیصلہ بھی وجود پاکستان کے بعد کے حقائق کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہئیے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد اب تک شندور چترال کا حصہ رہا ہے.گلگت کا پاکستان کے ساتھ انضمام کا تعلق بھی وجود پاکستان سے ہے.مہتروں کے زمانے میں علاقوں کی تسخیر و شکست کو مدنظر رکھ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی ایسا فیصلہ کسی صورت قابل قبول ہوسکتا ہے. اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکومت نے کسی چیز کو بنیاد بنا کر شندور ہندراپ کو نیشل پارک کا درجہ دے کر گلگت کا حصہ قرار دیا ہے؟کیا حکومت کو زمینی حقائق سے ناواقف رکھا گیا؟یا حکومت نے زمینی حقائق اور تاریخ کو نظر انداز کرکے محض ملکی سیاحت کے فروع کیلئے یہ فیصلہ لیا ہے؟اگر حکومت کو اصل حقائق سے ناقف رکھا گیا ہے تو حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں. اگر حکومت کا یہ فیصلہ سیاحت کے فروغ کیلئے ہے (کیونکہ آنے والے وقت میں شندور ہندراپ نیشنل پارک کا نام دنیا کے بہترین نیشنل پارکوں میں شمار ہوگا ) تو ہم اس فیصلے پر شاید اس وقت حامی بھر سکتے ہیں جب شندور کو چترال کا حصہ قرار دیا جائے اور اس فیصلے کو واپس لیکر موجودہ علاقائی تقسیم کو بحال کیا جائے. شندور چترال کا تعارف ہے شندور چترال ہے اگر چترال کے نقشے سے شندور کو ہٹا دیا جائے تو چترال نامکمل ہے. چترال خیبرپختونخوا کا وہ ضلع ہے جو اکثر صرف نظر کیا جاتا ہے چترال کی ترقی کو لیکر اکثر سمجھوتے کئے جاتے ہیں اور چترال میں جو بھی ترقی ہوئی ہے وہ سیاحت کے بدولت ہے اور شندور خیبر پختونخوا اور چترال کے سیاحت کا مرکز ہے.شندور میلا چترال کی رونق ہے اور شندور پولو گراؤنڈ چترال کے سر کا تاج . چترال کی ترقی میں شندور کے کردار کو کسی صورت جھٹلایا نہیں جاسکتا.شندور چترال کا حق ہے اور حق حقدار کو ملنی چاہئیے. حکومت کو چاہئیے کہ وہ اپنے اس فیصلے پر جلد نظر ثانی کریں. 


شیئر کریں: