Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

معدنی ذخائر کی موجودگی کا پتہ لگانے کیلئےاب تک 35 فیصد رقبہ کی جیالوجیکل میپنگ ہوئی۔۔عارف

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) صوبہ خیبرپختونخوا میں بیش قیمت معدنی ذخائر کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لئے اب تک 35 فیصد رقبہ کی جیالوجیکل میپنگ ہوئی ہے جس میں سابق بندوبستی اضلاع کا 29 فیصد اور سابقہ فاٹا یعنی قبائلی اضلاع کا 6 فیصد رقبہ شامل ہے، وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر صوبہ کے زیادہ سے زیادہ رقبے کی جیالوجیکل میپنگ کے لئے محکمہ معدنیات نے وفاقی حکومت کے ادارہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان سے رابطہ کرلیا ہے، اس بات کا انکشاف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے معدنیات عارف احمدزئی نے پی ٹی وی کے کرنٹ افیئرز کے پروگرام ہندارہ میں بات چیت کے دوران کیا پروگرام کے میزبان بخت زمان یوسفزئی کے مختلف سوالوں کے جواب میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے معدنیات نے کہا کہ ہمارا صوبہ دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ معدنیات کی بیش بہا دولت سے مالامال ہے جس کا بہترین استعمال نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور معاشی استحکام کا باعث ہوگا لیکن بدقسمتی سے ماضی میں اس شعبہ کو یا تو بری طرح نظرانداز کیا گیا اور یا اسے بے رحمانہ طریقہ سے ضائع کیا جاتارہا یہی وجہ ہے کہ بے پناہ قیمتی وسائل کے حامل ان علاقوں کے باسی غربت، پسماندگی اور افلاس کا شکار رہے، عارف احمد زئی نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان دیگر قدرتی وسائل کی طرح خیبرپختونخوا کی معدنی دولت کے بہترین استعمال کے متعلق منفرد سوچ کے حامل ہیں، ان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کی گذشتہ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ صوبہ خیبر پختونخوا کو معدنیات کی پالیسی دی اور وزیراعلیٰ محمود خان کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق معدنیات سے استفادہ کے لئے جامع عملی اقدامات کر رہی ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ معدنیات کے ذخائر بلاکس کی صورت میں کھلی بولی کے ذریعے شفاف طریقہ سے نیلام کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاہم کورونا وائرس کی وباء کے باعث اسے مؤخر کرنا پڑا، انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے چار معدنی بلاک تیار کئے گئے ہیں جن میں فاسفیٹ کے ذخائر کے ساتھ ساتھ اٹک کے قریب دریائے سندھ کے کناروں پر سونے کے ڈیپازٹس بھی شامل تھے انہوں نے کہا کہ شفاف طریقے سے کھلی نیلامی کے لئے مخصوص ان چار بلاکس میں سے فاسفیٹ کے ایک بلاک کی ریزرو پرائس 125 ارب روپے رکھی گئی ہے جبکہ نیلامی کے نتیجہ میں اس سے کہیں زیادہ رقم حاصل ہونے کی توقع ہے، عارف احمد زئی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبہ میں غیرقانونی مائننگ کے خلاف بڑی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے جس کے دوران چترال کے دشوار گزار علاقوں میں بھی معدنیات کی دولت چرانے والوں کے خلاف مقدمات درج کرکے گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں اس کے ساتھ معدنیات کی لیزیں لے کر ایگریمنٹ کے مطابق معدنیات پر کام نہ کرنے والے لیز ہولڈرز پر بھی واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ میعاد کے اندر کان کنی نہ کرنے والے لیزہولڈرز کے خلاف قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ کرپشن اور احتساب وزیراعظم عمران خان کا اولین ایجنڈا ہے یہی وجہ ہے کہ محکمہ کی کالی بھیڑوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فرائض کی ادائیگی میں غفلت اور بے قاعدگی کے مرتکب متعدد اہلکاروں کو معطل کیا گیا، عارف احمدزئی نے کہا کہ ایک جانب کان کنی کے دوران حادثات کی روک تھام اور محفوظ کان کنی کے لئے ضروری شرائط اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کیا جارہا ہے تو دوسری جانب کان کنی کے دوران معدنیات کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنا نے اور اس قدرتی دولت سے بہتر انداز میں استفادہ کی بھی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے، اس مقصد کے لئے نئی معدنیاتی پالیسی کے تحت کان کنی کے فرسودہ طریقے ترک کرکے اس شعبہ میں میکنائزیشن کے ذریعے جدید مشینری اور آلات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ خام معدنیات کی برآمد کی بجائے معدنیات والے علاقوں میں مقامی طور پر صنعتوں کے قیام کی تجاویز مرتب کی جارہی ہیں تاکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد سے زیادہ زرمبادلہ حاصل ہونے کے ساتھ مقامی لوگوں کو ان کی دہلیز پر روزگار کے مواقع بھی حاصل ہوں محکمہ معدنیات اس ضمن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ اندرون اور بیرون ملک سے سرمایہ کاروں کو یہاں سرمایہ کاری کے مواقع میسر ہوں، انہوں نے کہا کہ معدنیات سے متعلق تنازعات کو نمٹانے کے لئے مقامی سطح پر کمیٹیوں کے قیام کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں، معاون معدنیات نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کی بیش بہا قدرتی معدنی دولت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک صوبہ کے صرف 35 فیصد رقبہ پر معدنیات کی جیالوجیکل میپنگ کی گئی ہے جس میں صوبہ کے بندوبستی اضلاع کا 29 فیصد رقبہ جبکہ سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع کا صرف 6 فیصد رقبہ شامل ہے اور صوبے کی قدرتی دولت کو صوبہ اور اس کے عوام کے مفاد میں بہترین انداز میں بروئے کار لانے کے لئے محکمہ معدنیات نے وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر جیالوجیکل سروے آف پاکستان سے بھی رابطہ کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ رقبے کی جیالوجیکل میپنگ کی جائے تاکہ صوبے کے طول و عرض میں معدنیات سے متعلق زیادہ تفصیلی معلومات حاصل ہوں۔


شیئر کریں: