Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قائد اعظم کی اسلام پسندی اور قیام پاکستان۔۔۔۔۔۔۔۔ضیاء ذاہد

شیئر کریں:

قائداعظم محمد علی جناح رحمہ اللہ کی ذات برصغیر کے مسلمانوں کےلیے ایک نجات دہندہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ نے ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کیا تو اس وقت اس مقصد کے حصول کےلیے ان کی نظر قائداعظمؒ پر جا رکی کہ یہی ایک ایسی شخصیت ہے جو قانونی باریکیوں، انگریزوں اور ہندو بنیوں کی چالوں سے واقفِ حال ہے۔ چنانچہ شاعرِ مشرقؒ نے قائداعظمؒ کو ایک خط لکھا اور انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی راہنمائی کے لیے بلایا۔ قائداعظمؒ نے الگ وطن کا مطالبہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ مسلمان ہر لحاظ سے ایک علیحدہ قوم ہیں اور ان کا مذہب، کلچر، تاریخ، معاشرت اور اندازِ فکر ہندوؤں سے بالکل مختلف ہے۔

قائد اعظم ہر قسم کی مذہبی منافرت کے خلاف تھے، جس کا اظہار انہوں نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں اس وقت کیا جب 1946ء میں شیعہ علماء کے ایک وفد نے قائد اعظم محمد علی جناحٌ سے دہلی میں ملاقات کی اور ان سے مذہبی فرقے کے بارے میں سوال کیا کہ ہم شیعہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ یقیناََ شیعہ ہیں تو قائد اعظم نے برجستہ جواب دیا No I am only Muslim (نہیں میں صرف مسلمان ہوں).

قائد اعظمٌ کی اسلام سے محبت سے کون ہے جو واقف نہیں؟ اس کا اظہار انہوں نے اپنے اقوال و افعال سے بارہا کیا۔ وہ ایک کھرے اور سچے مسلمان تھے اور اسلام کی تعلیمات پہ یقین رکھتے تھے۔ قائداعظم کی مذہبی تربیت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ہدایت پران کے ساتھیوں اور بھانجوں نے کی، جن کی قائداعظم سے طویل ملاقاتیں ہوتی رہیں، ان ملاقاتوں کا نتیجہ تھا کہ انگلستان سے واپسی کے بعد قائداعظم کی تقریروں پر واضح مذہبی رنگ نظر آتا ہے، ان کی تقریروں میں جا بجا اسلام کے حوالے ملتے ہیں۔

1936 کے اوائل میں تحریک پاکستان کے لیے مولانا اشرف علی تھانویؒ نے قائد اعظم ٌ کا ساتھ دینے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ اپنے تمام شاگردوں کو بھی ان کا مکمل ساتھ دینے کی ہدایات جاری کیں، جن پر عمل بھی ہوا۔ چنانچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کے حکم پر جید علماء قائدِ اعظم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ مولانا عبدالباری فرنگی محلی، مفتی عنایت اﷲ دہلوی، مولانا عبدالحامد بدایونی، مولانا سعید احمد دہلوی، مولانا ثناء اﷲ امرتسری، مولانا آزاد سبحانی، مولانا محمد اکرم، مو لانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا سید سلمان ندوی، مولانامفتی محمد شفیع، مولانا جمیل احمد تھانوی، مولانا خیر محمد جا لندھری وغیرہ۔ یہ وہ علمائے کرام تھے جن کی صحبت میں قائد اعظم محمد علی جناحٌ ایک سچے مسلمان بن کر برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کے رہبر و رہنما بن کر سامنے آئے اور مسلمانانِ ہند کی آزادی کی کشتی کو پار لگا دیا۔

مولانا شبیر علی تھانوی کی ”روئیداد تبلیغ“ کا حوالہ دیتے ہوئے منشی عبد الرحمن مرحوم نے لکھا ہے ”حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ دوپہر کا کھانا نوش فرما کر قیلولہ کے لیے خانقاہ میں تشریف لائے اور مجھے آواز دی۔ حاضر ہوا تو حضرت متفکر تشریف فرما تھے۔ (یہ مئی 1938کا واقعہ ہے) اس زمانہ تک قرارداد پاکستان منظور نہیں ہوئی تھی، مگر کانگرس اور ہندوؤں کی ذہنیت بے نقاب ہوچکی تھی. حضرت نے دو تین منٹ کے بعد سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا، میاں شبیر علی ہوا کا رخ بتا رہا ہے کہ لیگ والے کامیاب ہو جاویں گے اور بھائی جو سلطنت ملے گی، وہ ان ہی لوگوں کو ملے گی، جن کو آج ہم فاسق فاجر کہتے ہیں، مولویوں کو تو ملنے سے رہی۔ لہٰذا ہم کو یہ کوشش کرنا چاہیے کہ یہی لوگ دین دار بن جاویں۔ آج کل کے حالات میں اگر سلطنت مولویوں کو مل بھی جاوے تو شاید چلا نہ سکیں گے… ہم کو تو صرف یہ مقصد ہے کہ جو سلطنت قائم ہو، وہ دیندار اور دیانتدار لوگوں کے ہاتھ میں ہو اور بس…“۔

چنانچہ جب حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے محسوس کیا کہ انگریزوں کی رخصتی کے بعد اقتدار مغربی تعلیم یافتہ لیڈران کو ملے گا، توانہوں نے ان کی مذہبی تربیت کا پروگرام بنایا اور اس ضمن میں قائداعظم محمد علی جناحٌ سے ملاقات کے لیے ایک وفد ترتیب دیا، جس کے سربراہ مولانا مرتضیٰ حسن تھے اور اس وفد میں مولانا شبیر علی تھانوی، مولانا عبد الجبار، مولانا عبد الغنی، مولانا معظم حسنین اور مولانا ظفر احمد عثمانی شامل تھے۔ 25دسمبر 1938ء کو یہ وفد قائداعظم سے ملا۔ ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی، جس کی تفصیل مولانا شبیر علی تھانوی کی ”روئیداد“ میں موجود ہے اور اس کا ذکر منشی عبد الرحمن کی کتاب کے صفحات 61-62 میں بھی ملتا ہے۔ وفد کے تاثرات ان الفاظ میں جھلکتے ہیں ”ہم ان کے (قائداعظم ) کے جوابات سے متاثر ہوئے۔ یہ صرف حضرت تھانوی کا روحانی فیض کام کر رہا تھا ورنہ جناح صاحب کسی بڑے سے بڑے کا اثر بھی قبول نہ کرتے تھے“۔ تفصیل اس ملاقات کی دلچسپ اور فکر انگیز ہے جس میں قائداعظم نے کہا ”میں گناہگار ہوں. وعدہ کرتا ہوں، آئندہ نماز پڑھا کروں گا.“ (بحوالہ منشی عبد الرحمن صفحہ26).

چنانچہ اس وفد نے پٹنہ میں مسلم لیگ کے سالانہ جلسے میں شرکت کی، جہاں مولانا اشرف تھانویٌ کا تاریخی بیان پڑھا گیا۔ اس وفد کی قائداعظم سے دوسری ملاقات 12 فروری 1939ء کو دہلی میں ہوئی۔ اڑھائی گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد قائداعظم نے کہا کہ ”میری سمجھ میں آگیا ہے کہ اسلام میں سیاست مذہب سے الگ نہیں بلکہ مذہب کے تابع ہے.“ (بحوالہ روائیداد از مولانا شبیر علی تھانوی، صفحہ نمبر7)۔

اس ملاقات میں مولانا شبیر علی تھانوی کے ساتھ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب بھی تھے، جن کا ذکر قیام پاکستان کے بعد آئین سازی اور علماء کے اتفاق رائے کے حوالے سے ملتا ہے۔ مختصر یہ کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے نمائندے مئی 1947ء تک قائداعظم سے ملتے رہے اور ان کی دینی تربیت کرتے رہے، جس کے نتیجے کے طور پر قائداعظمٌ کا مولانا تھانوی کے گھرانے سے ایک پائیدار تعلق قائم ہوگیا۔

مولانا ظفر احمد عثمانی اپنی روائیداد میں لکھتے ہیں ”ایک مجلس میں قائداعظم سے کہا گیا کہ علماء کانگرس میں زیادہ ہیں اور مسلم لیگ میں کم۔ قائداعظم نے فرمایا، تم کن کو علماء کہتے ہو۔ جواباً مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ اور مولانا ابوالکلام کا نام لیا گیا۔ قائداعظم نے جواب دیا، مسلم لیگ کے ساتھ ایک بہت بڑا عالم ہے، جس کا علم و تقدس و تقویٰ سب سے بھاری ہے اور وہ ہیں مولانا اشرف تھانوی، جو چھوٹے سے قصبے میں رہتے ہیں، مسلم لیگ کو ان کی حمایت کافی ہے۔“

چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی کی کاوشوں کے نتیجہ میں قائداعظم نے اپنے طور پر اسلامی نظام، سیرت نبوی اور قرآن حکیم کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ ان کی 1934ء سے لے کر 1948ء تک کی تقاریر پڑھی جائیں تو ان پر قرآنی تعلیمات کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔ انہوں نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کے آئینی ڈھانچہ اور نظام کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔

حتیٰ کہ اسٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اقتصادی نظام تشکیل دینے کی آرزو کا اظہار کیا۔ مجموعی طور پر قائداعظم پاکستان کو اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اسلام مخالف اور دین بیزار حضرات قائداعظم کو سیکولر ثابت کرنے کے جھوٹے دعوے کرتے رہتے ہیں اور یہاں تک کہہ جاتے ہیں کہ قائداعظم نے کبھی پاکستان کو اسلامی مملکت بنانے کا اعلان نہیں کیا۔

قائداعظم نے فروری 1948ء میں امریکی عوام کے نام براڈ کاسٹ میں پاکستان کو ”پریمیئر اسلامک اسٹیٹ“ قرار دیا تھا۔ (بحوالہ قائداعظم کی تقاریر جلد چہارم صفحہ 1064تدوین خورشید یوسفی)۔ اللہ انہیں قائداعظم کی تقاریر پڑھنے کی توفیق دے جو قائداعظمٌ پر سیکولرزم کی چھاپ لگانا چاہتے ہیں ۔ قائد اعظم نے یہ ملک اُن لوگوں کے لیے بنایا تھا، جن کا نعرہ ہی یہ تھا کہ ‘پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اﷲ الااﷲ ۔

برطانوی شہری محترمہ سلینہ نے ”سیکولر جناح اینڈ پاکستان“ نامی کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں قرآنی آیات کے حوالے دے کر تحقیق اور عرق ریزی کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ جناح کے اکثر تصورات اور افکار قرآن حکیم سے ماخوذ تھے۔

محمد شریف طوسی ”پاکستان اینڈ مسلم انڈیا“ اور ”نیشنلزم کنفلیکٹ ان انڈیا“ جیسی معرکۃ الاراء کتابوں کے مصنف 6 ماہ قائداعظم کے ساتھ رہے۔ انہوں نے اپنی 6 ماہ کے قیام کی یاداشتوں میں لکھا ہے کہ قائداعظم ہر روز صبح علامہ یوسف علی کے قرآن حکیم کے انگریزی ترجمے کا مطالعہ کیا کرتے تھے اور سید امیر علی کی کتاب ”سپرٹ آف اسلام“ پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے شبلی نعمانی کی کتاب ”الفاروق“ کے انگریزی ترجمے کو بغور پڑھ رکھا تھا۔ یہ ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا تھا۔ ان کی لائبریری میں سیرت نبوی، اسلامی تاریخ اور قرآن حکیم کے تراجم پر بہت سی کتابیں موجود تھیں جو ان کے زیر مطالعہ رہتی تھیں۔

چوہدری فضل حق نے اپنے دہلی کے قیام کی یاد داشتوں میں کہا کہ ان دنوں وہ کبھی کبھی قائد اعظمٌ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ وہیں ان کی ملاقات علامہ شبیر احمد عثمانی سے ہوئی، اُن کا کہنا تھا کہ علامہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ وہ جب چاہیں وقت لیے بغیر قائد اعظم سے مل سکتے تھے۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائد اعظم کی وفات کے بعد کہا کہ ‘ قائد اعظم نے انہیں ایک نشست میں بتایا تھا کہ جب وہ لندن میں مقیم تھے تو ایک خواب میں انھیں رسول اکرم ﷺ کی زیارت ہوئی جس میں آپﷺ نے فرمایا کہ محمد علی واپس ہندوستان جاؤ اور وہاں مسلمانوں کی قیادت کرو. قائد اعظم نے یہ خواب سنا کر مولانا شبیر احمد عثمانی کو تاکید فرمائی کہ یہ خواب میری زندگی میں کسی پر آشکارا مت کرنا۔ یہی وجہ ہے کہ قائد اعظمٌ نے پاکستان کے نظام میں مغربی جمہوریت کی کئی بار نہیں بلکہ بار بار نفی فرمائی۔ قائد اعظم کی تقاریر اٹھا کر دیکھ لیں ہمیں ہر بیان میں اسلام اور قرآنی نظام کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

چنانچہ یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک اصول پرست، پکے اور سچے مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علمائے حق کا ایک خاص طبقہ ان کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہوا۔ چنانچہ قائد اعظم بھی علماء کی قدر کیا کرتے تھے۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں قیام پاکستان کے وقت جب 15 اگست 1947ء کو پاکستان کے پرچم کی پہلی رسم کشائی ہوئی تو قائداعظم خاص طور پر مولانا شبیر احمد عثمانی کو ساتھ لے کر گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے تلاوت اور دعا کی اور پھر پاکستان کا جھنڈا لہرایا، جسے پاکستانی فوج نے سلامی دی۔ یہ رسم کراچی میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں ادا کی گئی جبکہ مشرقی پاکستان کے صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ میں مولانا شبیر احمد عثمانی کے بھائی اور مولانا اشرف تھانوی کے بھانجے مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔


شیئر کریں: