Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود……جشنِ ٓازادی پہ قومی روئیہ …..شہزادی کوثر

شیئر کریں:

آذادی کا دن ٓانے والا ہے ہر طرف رنگ برنگے جھنڈے ،قمقمے اور جھنڈیاں نظر ٓاہیں گی ،چند دن تک ملک و قوم سے محبت کے نغمے گونجتے رہیں گے اس کے بعد وہی دھوکہ ،منافقت ،جھوٹ وقتل وغارت گری،اقربا پروری اور نہ جانے کون کون سے ہتھکنڈے جن سے مادرِوطن کو بے ٓابرو کیا جا رہا ہے ۔ گلی محلوں اور بازاروں میں جھنڈے لگانے سینے پر پرچم سجانے سے یا دل دل پاکستان کہ کر کیا ہم اس کا حق ادا کر رہے ہیں ؟کیا یہ ملک اس لیے بنا تھا کہ یکم سے چودہ اگست اس سے محبت کی جائے اور باقی دنوں میں اس کے جسم سے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑا جائے۔ کیا ماوں نے اپنے لختِ جگروں کی قربانی اس لیے دی تھی کہ ان کا خون رائگاں جائے؟  عورتوں نے اپنا سہاگ لُٹایا تھا کہ ان کی عزتیں پامال ہوں؟ بہنوں نے اپنی عصمتیں پاک دھرتی پہ وار دی تھیں کہ ہمارے بھائی بند اپنے ہاتھوں سے ہمیں نیلام کریں۔ اپنے قیام سے اب تک اس سر زمین کو راحت نصیب نہیں ہوئی، دشمنوں کی کاروائیاں اپنی جگہ ،اس کی مقدس مٹی میں پلنے والے لوگ ہی سنگ دلی و سفاکی میں برادرانِ یوسف سے پہچھے نہیں زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جو اس کے سامنے اپنی پاک دامنی کا ثبوت پیش کر سکے ۔لٹی پٹی عوام کو, ترقی ,,کی طرف لے جانے والے سیاست دان انتہائی بے دردی سے ٓاج تک اسے لوٹتے رہے ہیں اور گمان غالب یہی ہے کہ ٓائندہ بھی انکا یہی دستور ہو گا۔ذرا بھی دکھ ،شرمندگی کا احساس ان کے گھناونے چہروں کی موٹی کھال سے ظاہر نہیں ہوتا ،اور عوام ان کے سیاہ کرتوتوں کے باوجود پھول کی پتیاں نچھاور کرتے نہیں تھکتی۔ ملک کی کثیر ٓابادی دو وقت کی روٹی کو ترستی ہےاور یہ لوگ یورپ میں محلات تعمیر کرتے ہیں ،ہسپتالوں میں ابتدائی سہولیات میسر نہیں بعض علاقوں میں سرے سے کوئی ہسپتال ہی موجود نہیں،پینے کے صاف پانی سے محروم لوگ کسی شمار میں ہی نہیں ٓاتے جبھی تو بھینس،انسان اور کتے ایک ہی جوہڑ کا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ ابتدائی تعلیم سے محروم افراد کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور جنہیں یہ مواقع مل بھی جائیں وہ ساری زندگی اپنے اسناد کی فوٹو کاپی کرواتے بوڑھے ہو جاتے ہیں ۔دولت مندوں کا پیسہ کم ہونے میں نہیں ٓاتا جبکہ غریب کے گھر چولہا جلنے کی نوبت نہیں ٓاتی۔ حکومت کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تو مافیا من مانی پر اتر ٓاتا ہے اور دوسے ہی دن سرکار کو اپنی ,غلطی, کا احساس ہو جاتا ہے تو ایک روپے کمی کی جگہ پانچ روپے اضافے کا حکم نامہ جاری کرتی ہے ۔تعیش کی بات کون کرتا ہے اشیاء ضروریہ بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں،سبزیوں کو پر لگ گئے ہیں نان بائی کی روٹی پندرہ روپے تک پہنچ گئی ہےمحکوم عوام  دانہ گندم کی خوشبو سونگھنے سے بھی محروم ہوتی جا رہی ہے۔ رنگ برنگی سبزیاں اور ذائقے دار پھل بازار میں باافراط موجود ہیں غریب ٓادمی کو صرف سونگھنے اور چومنے کی اجازت ہے  کیونکہ خرید کر گھر لے جانے اپنے مفلوک الحال بیوی بچوں کے پیٹ کی ٓاگ بجھانے کا اجازت نامہ اس کے پاس نہیں ۔تعلیم کے شعبہ میں جو غبن ہو رہا ہے اس سے سب واقف ہیں وزیر وزرا سے لے کر چپڑاسی تک ہر کوئی اپنی حیثیت اور کمینگی کے مطابق کرپشن میں ملوث ہے۔ اور تو اور اس بار تعلیم کے لیے مختص رقم مضحکہ خیز حد تک کم ہیں ،غیر ضروری بلکہ انتہائی نا معقول پراجکٹس میں اربوں روپے لگا کر اپنی , اہلیت , کا ثبوت دیا گیا ہے۔ بائس کروڑ عوام کے نمائندے اپنے جعلی ڈگریوں اور مٹرک فیل کوالیفیکیشن کے ساتھ ملک کو ترقی کی دوڑ مین کامیاب کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ نصاب امیروں اور غریبوں کا الگ ہے، جن لوگوں کی تجوریاں زیادہ بھر گئی ہیں وہ ان دونوں نصابوں سے خود کو بچا کر بیرون ملک تعلیم حاصل کرتا ہے بھوکی اور ننگی عوام کا پیسہ اپنے مستقبل کو سنوارنے میں لگا دیتا ہے۔ قدرت کی طرف سے تمام نعمتیں اس ملک کے دامن میں بھری گئی ہیں ،جگہ جگہ معدنیات، گلیشئیر،ٓابی ذخائر ہماری ضرورت سے ذیادہ ہیں،زرعی زمین سونا اگلنے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اربابِ اختیار کی نا اہلی کی وجہ سے ہم ان سے فیض یاب ہونے سے محروم ہیں۔دوسروں کو قرضہ دینے کی صلاحیت کے باوجود کشکول بدست ٓائی ایم ایف کے در پہ حاضری دیتے ہیں ۔پاکستان بننے سے اب تک یہی ہمارا دستور ہے کہ اگست کے مہینے میں ملی نغموں کی گونج سے ہماری غیرت جاگ جاتی ہے اور رٹے رٹائے نغمے اور دھنیں سن کر جھومتے خود کو دھوکہ دیتے ہیں کہ  ہم اپنے ملک سے کس قدر وفا دار اور مخلص ہیں ۔اس کی طرف اٹھنے والی ہر بری نظر کو روکیں گے لیکن چودہ اگست کے بعد ساری غیرت افیون زدہ ہو کر سو جاتی ہے۔رہنما  اور عوام نئے عزم اور ولولے سے ملک  کولوٹنے  میں لگ جا تے ہیں جس کا جتنا اختیار ہوتا ہے وہ اسی دائرے  میں  بے ایمانی کرتا ہے، ہم صرف لیڈروں کو ہی مورد الزام نہیں ٹھرا سکتے عوام بھی اس میں برابر کی شریک ہے ۔۔ہونا تو یہ چاہیے کہ  ہر ایک اپنے اپنے کام میں سچائی اور ایمان داری کا مظاہرہ کرے  ہماری تمام وفا داریاں صرف ذاتی نہ ہوں بلکہ قوم کو مقدم رکھیں تب ہی ہم جان جان پاکستان کہنے کی لاج رکھ پائیں گے۔                                                                                       


شیئر کریں: