Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔ملکوں کی تنظیمیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

ملکوں کے درمیاں تعاون کے لئے بنا ئی گئی علا قائی تنظیموں پر گرما گرم بحث جار ی ہے خبروں میں یہ بھی آرہا ہے کہ سعو دی عرب نے پاکستان سے قرضوں کی واپسی کا مطا لبہ کر کے اچھا نہیں کیا خبروں کی رو سے پا کستان کو اسلا می ملکوں کی تنظیم او آئی سی (OIC) سے بھی شکا یات ہیں یہ خبر بھی آئی ہے کہ وزیر خار جہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر کے مسئلے پر سعو دی عرب سے جواب طلبی کی تھی کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو اس جواب طلبی پر ہمارے جذ باتی قوم کو سابق امریکی صدر جارج واکر بُش کا وہ جملہ یا د آیا جو انہوں نے نا ئن الیون کے مو قع پر پا کستان کو مخا طب کر کے کہا تھا کہ تم اگر ہمارے ساتھ نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم ہمارے دشمن کا ساتھ دے رہے ہو یہ جملہ سن کر ہمارے حکمران کے ہاتھ پاوں پھول گئے اور دل و دما غ پر لرزہ طا ری ہو اتھا ہمارے وزیر خارجہ نے رانگ نمبر کا خیال کئے بغیر اس نو عیت کا جملہ سعودی عرب اور او آئی سی کی طرف پھینک دیا نتیجہ ظا ہر ہے جو آنا تھا وہی آگیا کورٹ کچہری جا نے والوں میں ایک لطیفہ بہت مشہور ہے کہتے ہیں ایک آدمی وکیل کے پاس آیا اور وکیل کو بتا یا کہ میں اپنے مقدمے کا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہو ں میرے پا س اپنے دفاع میں کہنے کو کچھ بھی نہیں وکیل نے کہا تم ہر سوال کے جواب میں پنچ کہو باقی کام مجھ پہ چھوڑو حر بہ کامیاب ہوا ملزم سے جو بات پو چھی جا تی وہ کہتا ”پنچ“ پو لیس کے سامنے پنچ، عدالت میں پنچ، مجسٹریٹ کے سامنے پنچ، سر کاری وکیل کے جر ح کے جواب میں پنچ 4سال بعد ملزم کو فاتر العقل ثا بت کر کے الزام سے بری قرار دیا گیا جیل سے رہا ئی کے بعد وکیل نے اپنی فیس ما نگی تو ملزم نے کہا ”پنچ“ اس پر وکیل چکرا گیا تا ہم وہ کوئی عام آد می نہیں تھا آخر وکیل تھا اُس نے پہلے ملزم کو زور دار تھپڑ رسید کیا جب اس کے حواس ٹھکا نے آگئے تو وکیل بولا ”دیکھو تمہارا پنچ دوسری جگہوں پر چل سکتا تھا استاد کے سامنے یہ پنچ نہیں چلے گا بو لو پیسے کب لاو گے؟“ملزم نے کہا ابھی دے دیتا ہوں چنا نچہ فیس وصول ہوئی بُش نے ہمارے حکمرا نوں کو دھمکی دی تھی تو وجہ یہ تھی کہ ہمارے حکمران امریکہ کے مقروض تھے اس طرح کی دھمکی ہم سعودی عرب کو نہیں دے سکتے کیونکہ اُس نے ہم کو قرض دیا ہوا ہے اوآئی سی کا معا ملہ بھی ایسا ہی ہے افغا نستان میں سویت فو جوں کی مد اخلت پر او آئی سی نے اس لئے آواز اُٹھا ئی کہ امریکہ کا یہی منشا تھا کمشیر میں بھارت کی فو جی مداخلت پر او آئی سی اس لئے خا موش ہے کہ امریکہ خا مو ش ہے یہ صر ف او آئی سی کا حال نہیں آزاد ملکوں کے درمیان علا قا ئی تعان کی دیگر تنظیموں کا بھی ایسا ہی حال ہے جنو بی ایشیا کے ملکوں کی تنظیم سارک (SAARC) بھی خا موش ہے بلکہ نیم مر دہ حا لت میں ہے یا غنود گی والی ایسی حا لت میں ہے جس کو انگریزی میں ہائبرینشن (Hibernation) کہا جا تا ہے 1969میں مر اکش کے شہر رباط میں او آئی سی کی بنیاد رکھی گئی تو 28اسلا می مما لک کی اس تنظیم سے کئی تو قعات وابستہ کی گئیں وقت کے ساتھ ممبر ملکوں کی تعداد میں اضا فہ ہوتا رہا اب یہ 57ملکوں کی تنظیم ہے مگر کہیں نظر نہیں آرہی بقول غالب ”ہر چند کہتے ہیں کہ ہے پر ہمیں منظور نہیں“ اسی طرح 1985ء میں بنگلہ دیش کے دارلخلا فہ ڈھا کہ میں سارک (SAARC) کی بنیاد رکھی گئی تو یہ 7ملکوں کی تنظیم تھی بنگلہ دیش، پا کستان، بھارت، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اورسری لنکا اس کے بانیوں میں شا مل تھے بعد میں افغا نستان کی شمو لیت سے ممبر ملکوں کی تعداد 8ہو گئی 2016میں اس کا انیسواں سربرا ہی اجلاس اسلام اباد میں بلا یا گیا تھا جو بھارت کے بائیکا ٹ کی وجہ سے منسوخ ہوا 4سال بعد 2020ء میں پھر یہ اجلاس منعقد ہونا تھا لیکن بھارت کا رویہ 2016کے سال سے مختلف نہیں ہے چنا نچہ 2014کا کٹھمنڈو سر براہ اجلا س اس کا آخری اجلا س ثا بت ہونے والا ہے اسی طرح شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) 8ملکوں کی علا قا ئی تنظیم ہے چین اور روس کے علا وہ بھارت بھی اس کا ممبر ہے دیگر ممبروں میں پاکستان، کزاقستان، قرغز ستان، ازبکستان اور تا جکستان اس کے ممبر ہیں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا دائرہ کار کا فی وسعت رکھتا ہے اس میں علاقائی تجا رت کے وسیع مواقع مو جو د ہیں لیکن اس پر عنود گی طاری ہے ایک اہم تنظیم کی بنیا د 1955ء میں انڈو نیشیا کے شہر بنڈونگ میں رکھی گئی تھی پا کستان اور بھارت سمیت اس کے ممبروں کی تعداد 120تھی 1961میں یو گو سلا ویہ کے دارلحکومت بلغراد میں اس کا با قاعدہ تنظیمی ڈھا نچہ قائم کر کے اس کو غیر وا بستہ مما لک کی تحریک (نا ن الاینڈ مو منٹ NAM) کا نام دیا گیا سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور سویت یو نین کے دائرہ اثر سے الگ رہ کر ممبر ملکوں کے مفاد میں کام کرنے کا عہد کیا گیا مگر ایسا نہیں ہوا مثلا ً کیو با، یو گو سلاویہ اور بھارت وغیرہ نے سویت یو نین کا ساتھ دیا، پاکستان، ایران اور تر کی سمیت بے شما ر ملکوں نے امریکہ کے کیمپ میں رہنے کو تر جیح دی چنا نچہ غیر وابستگی کے خواب سے سب کے سب غیر وابستہ ہو گئے اب کشمیر کے مسئلے پر سعو دی عرب اور او آئی سی کا خا موش ہونا اچھنبے کی بات ہر گز نہیں ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کا موں میں“


شیئر کریں: