Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دل فگار……اجمل الدیں

شیئر کریں:

کہتے ہیں عزت اور نام کمانا بڑا مشکل کام ہے لیکن اسکو برقرار رکھنا اسے بھی زیادہ مشکل. جبکہ اسی عزت و شہرت کو گنوانے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتے. یہی حال وادی اویر کا بھی ہے جسے چترال کے لوگ دین اسلام کا گڑھ سمجھتے تھے اور یہاں کے باشندوں کو مذہب پسند، دین اسلام کے مدعی اور مجاہد و غازی کے لقب سے پکارتے تھے. یہ القاب انکو گھر بیٹھے نہیں ملے تھے بلکہ یہاں کے بزرگانِ دین، صوفیا اور سادہ لوح انسانوں کی سعی نے ممکن بنایا تھا. پتہ نہیں کس کی بری نظر لگ گئی یا یہاں کے عوام شکر کی نعمت سے محروم ہوگئے جو آج صرف چترال کے لئے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں بدنامی کا باعث بنے ہوئے ہیں. وہ لوگ جن کی پہچان کے لیے صرف چترال کا نام ہی کافی تھا اب وہی لوگ یہ نام لینے میں بھی عار محسوس کرنے لگے ہیں. اللّٰہ تعالیٰ معاف کرے آجکل اویر کے عوام کے بارے میں جو باتیں سننے میں آ رہی ہیں وہ ذکر کرنے سے قاصر ہوں. سب کے سب نہیں تو اکثریت ہی ملوث ہوگی تبھی تو سب کو خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے. غلطی یا گناہ ناشکری کی ہوسکتی ہے، گالم گلوچ و بدزبانی کا ہوسکتا ہے، جھوٹ، فریب، چغل خوری اور بدعنوانی و بدکاری کا ہو سکتا ہے، بےحیائی و بےنمازی اور بداخلاقی کا بھی ہوسکتا ہے. بعض دفعہ برائی ہی عذاب خداوندی کا باعث نہیں ہوتا کبھی کبھار اللّٰہ پاک آزمائش کے طور پر بھی امتحان لیتے ہیں. خیر جو بھی ہو موجودہ حالت نہیں ہونی چاہیئے تھی.


پچھلے دو یا تین سالوں میں صرف وادی اویر میں قتل اور خود کشی کے کئی واردات رونما ہوئے. قتل جس کا بھی ہو وہ پوری انسانیت کا قتل ہے اور میں خود کشی کو بھی کسی قتل سے کم نہیں سمجھتا کیونکہ اسکے پیچھے بھی انکے اپنوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور بہت کم ایسے بھی ہوتے ہیں جو غیروں کے ہاتھوں خودکشی پر مجبور ہوجاتے ہیں. کیونکہ یہ بدبخت لوگ اس کو جینے کے لئے دنیا میں کوئی وجہ باقی نہیں چھوڑتے سوائے خودکشی اور موت کے. امن قائم کرنے والی قومی اداروں پر بھی کبھی کبھار ترس آنے لگتا ہے کیونکہ وہ کبھی معمولی مسئلہ کو اتنا بڑھا چڑھا کر پوچھ گچھ کرتے ہیں کہ بندہ بےگناہ ہوتے ہوئے بھی خود کو قاتل سے بھی بڑا گناہگار سمجھنے لگتا ہے اور کبھی تو بڑے بڑے قومی مسائل اور جرائم کو دیکھتے ہوئے بھی خود کو اندھا بنائے رکھتے ہیں.


اس وادی کے امن پسند عوام، اکابرین اور علماء کی باتوں کا اثر بھی ختم ہونے لگا ہے کیونکہ عموماً لوگ جرم اور برائی کے میدان میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ واپسی کا راستہ تک بھول چکے ہیں. مانتا ہوں ابھی بھی شریف النفس لوگ موجود ہیں جو کچھ بےغیرت اور بےحس لوگوں کی چکی میں پس رہے ہیں. لیکن حقیقت چھپانے کا کیا فائدہ تلخ تو ہے ہی. پہلے بھی کئی دفعہ مضامین میں لکھ چکا ہوں کہ جس معاشرے میں بھی برائیوں کا پلڑا اچھائیوں پر تھوڑا سا بھی حاوی ہو جائے تو اسی طرح کے انتشار پھیلنے لگتے ہیں. روز بروز ایسے واقعات دیکھنے اور سننے کو ملتی ہیں کہ انسانی سوچ اسکا احاطہ کرنے سے قاصر رہتا ہے.
قاتل اور خودکشی کے سبب بننے والوں کو ایسی عبرتناک سزا ملنی چاہیئے کہ آنے والی نسلوں کو بھی ایسا سوچنے کی ہمت نہ ہو. وگرنہ آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا.


اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حقیقی پہچان نصیب فرمائے اور آزمائشوں سے بچائے رکھے. آمین.

اجمل الدیں لیکچرر زرعی یونیورسٹی پشاور 


شیئر کریں: