Chitral Times

Sep 23, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چکدرہ چترال اور سوات موٹروے حوالے منفی پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔۔کامران بنگش

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ) چکدرہ ٹو چترال موٹروے کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے کے لیے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے پیر کو اطلاع سیل محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں خصوصی پریس بریفنگ سے خطاب کیا۔جس میں دیر سے منتخب ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ سوات موٹروے فیز ٹو کو کچھ لوگ متنازعہ بنا رہے ہیں۔ لیکن دیر کے عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے لیے سوات، دیر اور چترال کے شہری سب برابر ہیں اسی لیے کسی کا استحصال نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ترقی کے یکساں مواقع سب کو فراہم کیے جائیں گے۔ممبران صوبائی اسمبلی ملک لیاقت، شفیع اللہ خان، ہمایون خان، اعظم خان اور ایم این اے محبوب شاہ، صبغت اللہ اور بشیر خان کے ہمراہ معاون وزیراعلی کامران بنگش نے بتایا کہ ملاکنڈ ڈویژن سمیت پورے صوبے کی ترقی صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کچھ عناصر کی جانب سے سوات موٹروے فیز ٹو کے متعلق منفی پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے جو سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے عوام اس پر ہر گز کان نہ دھریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے چکدرہ ٹو دیر موٹروے کی منظوری بہت پہلے دی تھی۔ معاون اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعلی خیبرپختونخوا نے آج اصولی طور پر چکدرہ ٹو دیر موٹروے فیزیبلٹی کی منظوری دے دی ہے جو دیر و چترال کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف باتیں نہیں بلکہ کام کرکے دکھاتی ہے اسی لیے تین مہینے کے اندر اندر فیزیبلٹی رپورٹ پیش کی جائے گی۔اپوزیشن پارٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے ریمارکس دیئے کہ مسلم لیگ ن نے دیر کے عوام کے ساتھ چکدرہ ٹو دیر موٹروے کے نام پر ڈرامہ کیا ہے جو سب کے سامنے ہے۔ ایک اپوزیشن رہنما اسمبلی کے فلور پر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے جو انتہائی غیر معقول طرز سیاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ چکدرہ ٹو چترال موجودہ روڈ کی توسیع و بحالی پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی 230 کلومیٹر روڈ کی بحالی کا کام مکمل کرے گی۔دیر و چترال میں اپوزیشن کی جانب سے کئے جانے والی منفی پراپیگنڈا کو جواب دیتے ہوئے معاون خصوصی کامران بنگش نے کہا کہ چکدرہ ٹو دیر موٹروے کا سوات ایکسپریس وے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوات ایکسپریس وے/موٹروے اور چکدرہ ٹو دیر موٹروے دونوں الگ الگ منصوبے ہیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ ہماری حکومت نے دیر کے لیے مواصلات کے بڑے پراجیکٹس کی منظوری دی ہے۔چکدرہ سے چترال تک روڈ کی توسیع اور اسے مزید سہولیات سے آراستہ کرنے کے حوالے سے معاون اطلاعات و بلدیات کامران بنگش نے کہا کہ ایگزم بینک کے ساتھ مل کر 230 کلومیٹر روڈ کو بحال کر رہے ہیں۔ عوام کسی بھی منفی پراپیگنڈے میں نہ آئیں۔ کیونکہ کسی بھی علاقے کو پسماندہ نہیں رکھا جائے گا۔ کیونکہ وزیراعلی نے آج منتخب نمائندگان کے ساتھ مل کر چکدرہ ٹو دیر موٹروے کی اصولی منظوری دی ہے۔مذکورہ منصوبوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کامران بنگش نے مزید کہا کہ مواصلات و روڈ انفراسٹرکچر کے منصوبوں سے دیر میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ جبکہ یہ پراجیکٹس روزگار و سیاحت کا ایک نیا پیش خیمہ ثابت ہوگے۔


شیئر کریں: