Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

امریکہ چین تجارتی جنگ کے عالمی معیشت پر اثرات….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 چین نے سال 2015 میں اپنے Made in China 2025 منصوبے کا اعلان کیا جس سے امریکہ چین تجارتی جنگ کا آغاز ہوا۔ امریکہ نے چین کی بڑھتی ہوئی تجارت کو اپنی معاشی کنٹرول کی پالیسی کے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے اس کے خلاف تجارت جنگ شروع کر رکھی ہے۔چین کی اشیاء پر اضافی ڈیوٹی لگانے کے علاوہ امریکہ نے چین کی ٹیکنالوجی کی کمپنیوں پرپابندیاں مزید سخت کر دی ہیں جن میں ہواوی کمپنی سرفہرست ہے۔ تجارت جنگ کو ٹیکنالوجیکل جنگ میں بدلنے سے امریکہ اور چین دونوں کی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس بات کا خدشہ بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ دنیا دومعاشی بلاکس میں تقسیم ہو جائے۔مارچ 2018 میں امریکی تجارتی قانون کی دفعہ 301 کے مطابق چین پر لگائی جانے والی پابندیوں نے امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جیسا کر و گے ویسا بھر گے کے فارمولے کے تحت چین نے بھی اپنی پالیسی کے مطابق امریکی پابندیوں کا جواب دیا ہے۔ امریکہ چین تجارتی جنگ کی بڑی وجوہات میں چین اور امریکہ کے دو مختلف نظاموں کی وجہ سے ہے۔ چینی اور امریکی تجارت نظام یکسر مختلف ہیں۔ چین کی بڑھتی ہوئی تجارت اوردن بدن مضبوط ہوتی معیشت امریکہ کی معاشی کنٹرول کی پالیسی کے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ اس تجارتی جنگ کے نتیجے میں امریکہ نے چین سے متعلق اپنی پالیسی میں بھی تبدیلی لائی ہے جس کی وجہ سے چین کی تجارتی بہاؤ کو روکنے اور چین کی سرمایہ داری کو محدود کر نے کے اہداف کو شامل کیا گیا ہے۔ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے ترقیاتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی کی تجارت میں بھی نمایاں فرق آیا ہے۔ چین کی پالیسی کو روکنے کے لیے امریکہ نے چین تک ٹیکنالوجی کی رسائی کو روکنے یا کم سے کم کرنے کی پالیسی کو فوقیت دی ہے۔ امریکہ نے اپنی قومی سلامتی اور غیرملکی سرمایہ داری کی پالیسی پر نظر ثانی کر کے چین تک امریکی کمپنیوں کے زریعے جدید ٹیکنالوجی کا حصول کافی دشوار بنا دیا ہے۔ امریکی پابندیوں کے نتیجے میں چین میں عالمی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری محدود ہوجائے گی جس کے چینی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو ں گے۔ جب کہ دوسری جانب امریکہ کو چین کی مارکیٹ سے ملنے والی آمدن سے ہاتھ دھونے پڑیں گے بلکہ امریکہ کو چین کی نسبت زیادہ مہنگی اشیاء خریدنی پڑیں گی جو امریکی معیشت کی تنزلی کا باعث بنے گی۔ اگر چین امریکہ تجارت جنگ کو وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو یہ جنگ دنیا کے ممالک کو دو معاشی بلاکس میں تقسیم کر دے گی جس کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو ں گے۔ امریکہ چین کو عالمی تجارتی تنظم WTO کے مطابق تجارت نہ کرنے کا الزام لگاتا ہے جبکہ چین اس بات کی نفی کر تے ہوئے اپنی آزاد تجارتی پالیسی اور عالمی تجارتی نظام کا معاون ہونے کی بات کر تا ہے۔ امریکہ کو چین پر ایک اور اعتراض یہ ہے کہ چین وسائل کو حکومتی تحویل میں لے کر بلواسطہ یا بلا واسطہ طور پر کنٹرول کر تا ہے۔ امریکی چین کی ریاستی کنٹرول کی پالیسی کے خلاف ہے جو کہ چین کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ امریکی نقطہ نظر کے مطابق چین کا تجارتی قانون ریاست ہتھیار کے طور پر استعمال کر تی ہے اور ریاستی کنٹرول والی صنعتوں کو فائد ہ ہو تا ہے۔ امریکہ کا ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ چین اپنی مقامی صنعتوں کو غیر مقامی صنعتوں پر حاوی کر تا ہے جس کے زریعے وہ مختلف پالیسیوں اور قوانین کی مدمیں عالمی تجارت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ امریکہ کے بقول چین اپنے Made in China 2025 کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ چین پر لگائے جانے والے اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چین سبسڈی اور دیگر معاشی امداد کے منصوبوں کے زریعے مقرر کر دہ مقامی صنعت کو فائدہ پہنچاتا ہے جبکہ غیر ملکی کمپنیاں ان سہولیات سے محروم رکھی جاتی ہیں۔امریکہ کا چین پر لگایا جانے والا آخری اہم الزام یہ ہے کہ چین کی تجارتی پالیساں امریکی مفادات، دریافتوں، ایجادات، نئی جہتوں اور امریکہ کی ترقی کے لیے خطرہ ہیں۔چین کے Made in China 2025 منصوبے کے چند بنیادی دس نکات درجہ ذیل ہیں۔ مستقبل کی نسل کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا حصول،جدید ڈیجیٹل آلات اور ربوٹس کی تیاری،سمندری اور ہوائی آلات کو حصول اور تیاری،سمندری انجینرئنگ اور سمندری آلات کی تیاری اور حصول،جدید برقی ریلوے کے اوزار اور آلات،سستی اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیاں،توانائی کے آلات،زرعی مشینری،نئے اشیاء اور بائیوکیمیکل اور اعلی طبی آلات کی تیاری اور حصول شامل ہیں۔ امریکی چیمبر آف کامرس نے چین کے میڈان چائینہ 2025 منصوبہ پر سال 2017میں اپنی رپورٹ شائع کی جس کے مطابق چین اس منصوبے کے تحت آنے والے چند سالوں میں عالمی مارکیٹ کو کنٹرول کر لے گاجو امریکی مفادات کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ رپورٹ نے یہ بھی واضع کیا کے چین کے اس منصوبے پر کڑی نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔امریکہ کی جانب سے چین پر لگائے گئے الزامات اور اعتراضات پر چین کے نقطہ نظرکے مطابق چین امریکی معاشی کنڑول کی پالیسی کے خلاف سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے خوف زدہ ہو کر امریکہ اپنی بوکھلاہٹ چھپانے کے لیے ایسے اعتراضات کر رہا ہے۔ امریکی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو چین یکسر مسترد کر تا ہے اور اسے چین کی ترقی ک راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش قرار دیتا ہے۔ چین کے مطابق امریکہ کی تجارتی خارجہ پالیسی کے مطابق جب کسی ملک کی تجارت 60%سے تجاوز کر جاتی ہے تو وہ اسے امریکی مفادات کے لیے خطرہ گرانتے ہیں کیونکہ امریکہ نے تجارت میں 60% کا اصول متعین کر رکھا ہے جو چین کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ جس طرح ماضی میں امریکہ نے جاپان کی طاقتور معیشت سے خوفزدہ ہو کر اسے ہدف بنایا اب امریکہ وہی پالیسی چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ چین امریکہ کے لیے ایک طاقتور حریف بن چکا ہے جو معاشی میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔چین اپنی تیزی سے کرتی ترقی کے اعتبار سے امریکہ کے لیے روس اور جاپان سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ جو سفر روس، جاپان اور امریکہ نے صدیوں میں طے کیا تھا چین نے اسے دہایوں میں طے کر لیا ہے۔امریکہ چین تجارتی جنگ کا واحد مقصد امریکی تجارتی خسارے کو کم کر نا نہیں بلکہ اس کا مقصدتیزی سے ترقی کرتی ہوئی چینی تجارت کو روکنا ہے۔ امریکہ کا ہدف چین کو عالمی مارکیٹ، جدید ٹیکنالوجی کے حصول، عالمی بینکنگ کے علاوہ شاید امریکہ اور دیگر یورپی یونیورسٹیز سے بھی روکنا ہے۔ تاہم اگلے   20سے 25سالوں میں چین یا امریکہ میں سے کوئی ایک ملک عالمی کنڑول حاصل کر لے گا۔اگر چین اور امریکہ کے درمیان یہ تجارتی جنگ طول پکڑتی ہے تو اس سے عالمی معیشت میں شدید مندی دیکھنے کو ملے گی جوعالمی سطح پر غربت کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر ے گی۔ امریکی پالیسی کے مطابق امریکہ اپنی تجارت اور معیشت کو درست سمت میں رکھتے ہوئے چین کی تجارت اور معیشت کو نقصان پہنچا کر سبقت حاصل کرنا ہے۔ سابقہ امریکی انتظامیہ کے چین کے ساتھ تعلقات ٹرمپ انتظامیہ سے یکسر مختلف رہے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ معاشی پالیسی کو قومی سلامتی کی پالیسی قرار دے رہی ہے۔ اس ضمن میں چین اور روس کا روائیتی حریف سمجھتے ہوئے ان کی معشیت کی تنزلی امریکی مفادات کا تحفط سمجھتی ہے۔ امریکہ چین کی تجارتی جنگ محض تجارت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ چین کے نظام حکومت کی تبدیلی، مذہبی پالیسی، تائیوان اور خارجہ پالیسی کی جنگ بھی ہے۔امریکہ بھارت دفاعی معائدے بھی چین کے جنوبی ایشیا میں بڑھتے اثرورسوخ کو روکنے کی ایک کڑی ہے۔ امریکہ کو چین سے انٹی لیکچول پراپرٹی کے ہتھیانے کا ڈر بھی ڈراؤنا خواب بنا ہوا ہے۔چین کی تجارتی پالیسی نے عالمی سطح پر امریکی کمپنیوں کی مانگ اور ان کی کارکردگی بری طرح متاثر کی ہے۔ چین کی لائنسس کی پالیسی بھی امریکی کمپنیوں کی بارگینگ کو متاثر کر رہی ہے۔ظاہر ی طور پر یہ تجارتی جنگ جو بھی ملک جیتتا ہے اس کے عالمی معیشت پر اثرات ضرور مرتب ہو ں گے۔عالمی مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چین امریکہ تجارت جنگ میں افریقی ممالک کو فائدہ اٹھانا چاہیے کیوں کے دونوں ممالک اپنی معیشت کو مضبوط رکھنے اورایک دوسری کی معاشی پابندیوں سے ہونے والے مالی خسارے کو کم کرنے کے لیے انہیں دیگر بر اعظموں کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہو گا۔


شیئر کریں: