Chitral Times

Nov 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام نوکر شاہی …تقدیرہ اجمل رضاخیل

شیئر کریں:

بہت سے صحافی اور دانشور جو مختلف سیاسی جماعتوں کی ترجمانی کرتے ہیں اکثر سوال اُٹھاتے ہیں کہ بیرون ملک پاکستان کے متعلق اچھا تاثر نہیں جا رہا۔ یہی سوال ان اہل علم و قلم سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ اچھا تاثر علم و قلم کے ذریعے ہی پھیلایا جاتا ہے۔ جبکہ ہماری صحافت اور دانش کا بڑا حصہ ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے محض غلط تاثر دینے اور اپنے ہی ملک کی بدنامی کے لیے بڑی بڑی تنخوائیں لیتا ہے۔ بہت سے خود ساختہ دانشور رات آٹھ سے نو بجے کے دوران اپنے آقاؤں کے مفاد میں جو سخن وری کرتے ہیں بدلے میں پچاس سے ساٹھ لاکھ ماہانہ اور کروڑوں کی مراعات لیتے ہیں۔ پاکستان، اسلام، نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہر بولے اور لکھے جانے والے لفظ کی قیمت ہے۔ ہمارے اہل قلم و علم، خواتین و حضرات اپنے قلم اور علم کی قیمت جانتے ہیں اور کبھی سستے داموں نہیں بکتے۔


ہمارے شاعر اور ادیب بھی اس سلسلے میں کسی سے کم نہیں۔ جناب فیض احمد فیض اور جناب وارث میر کے بچوں نے پاکستان دشمن حسینہ واجد سے تمغے اور تحفے جن کی مالیت خفیہ رکھی گئی لے کر ثابت کردیا کہ پاکستان توڑنے والوں میں محض سیاستدانوں کا ہی نہیں بلکہ ہمارے نامور شاعروں اور ادیبوں کا بھی ہاتھ تھا۔یحییٰ خان محض بے اختیارصدارت کے چکر میں بھٹو اور مجیب کے ہاتھوں بلیک میل ہوا اور سیاستدانوں کے لگائے پھندے میں پھنس کر فوج کو بدنام کر گیا۔ جب تک اس ملک کا تعلیمی نظام بہتر نہیں ہوتا اور سیاست سے کرپشن کا ناسور ختم نہیں ہوتا اور افسر شاہی کی تعلیم، چناؤ اور تربیت کے ساتھ ان کے کام کی نگرانی نہیں ہوتی ریاست کا نظام درست سمت نہیں چل سکتا۔


سیاست میں بنیادی چیز نظریہ ہے۔ عوام کے عقیدے، نظریے، روایات، ثقافت اور ضروریات کو مدنظر رکھ کر ہی سیاسی نظریہ پیش کیا جاتا ہے اور پھر سیاستدان ان نظریات کی بنیاد پر عوام کی مرضی کے مطابق حکومت سازی کرتے ہیں اور پیش کردہ نظریے پر ہر حال میں عمل کرکے عوامی ضروریات اور خواہشات کے مطابق ملکی نظام چلاتے ہیں۔


پاکستان خالصتاً نظریہ اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا ہے جس میں کسی غیر اسلامی نظریے کی حامل سیاسی جماعت، گروہ یا تنظیم کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔ وہ دینی وسیاسی جماعتیں جنہوں نے کانگرس کی ہمنوائی کی اور مفاداتی سیاست کا جھنڈا اٹھا کر انگریزوں، ہندوؤں اور اپنے مطلب اور مسلک کی خاطر پاکستان کے وجود کی مخالفت کی انہیں بھی پاکستان کے اندر بیٹھ کر مفاداتی سیاست کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ جماعتیں آج بھی اپنے مسلک، مطلب، ذاتی و گروہی مقاصد پر قائم ملکی سلامتی کا سودا کرنے کو تیار بیٹھی ہیں۔


عبدالصمد اچکزائی اور باچا خان کی پاکستان مخالف تحریکیں آج بھی زندہ ہیں اور جی ایم سیّد کی تحریک پر ایم کیو ایم نے اپنا نظریہ تخلیق کیا اور ملک کا امن تباہ کر دیا۔ جنرل ضیأ الحق نے ایم کیو ایم کی بنیاد رکھی اور پھر جنرل مشرف کے طویل دور حکومت میں سیاست اور دہشت کا یہ پودا مضبوط اور گہری جڑوں والا خاردار درخت بن گیا۔ بھارت، برطانیہ، امریکہ اور افغانستان سمیت ساری دنیا کی پاکستان اور اسلام مخالف قوتوں نے اس درخت کی آبیاری کی تو جی ایم سیّد کے سندھو دیش فارمولے پر جناح پور کا نظریہ سامنے آگیا۔
پیپلز پارٹی پہلے سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریہ لے کر آئی اور بعد میں قوم کو چکما دینے کے لئے اسلامک سوشلزم کی اصطلاح اپنالی۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں کوئی سیاسی جماعت ایسی نہیں جس کا کوئی واضع نظریہ، اصول اور منشور ہو۔ ہر سیاسی جماعت لوٹ مار اور عوام دشمنی کے نظریے پر کاربند ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں مسلکی بنیادوں پر قائم ہیں اور ان کے مسلکی مراکز بھارت اور جزیرہ نما عرب کی ریاستوں میں ہیں۔ موجودہ دور میں دینی جماعتوں کے مسلکی اور نظریاتی مراکز امریکی بلاک کا اہم حصہ اور گریٹ گیم کا میدان ہیں۔ عرب بہار کے بعد یہ خطہ اُجڑا ہوا دیار ہے اور مستقبل قریب میں کسی بڑے اور ہلاکت خیز طوفان کا منتظر ہے۔


دیکھا جائے تو اس وقت مملکت خداداد نظریاتی، اخلاقی، سیاسی اور انتظامی بدحالی اور منتشرالخیالی کا شکا ہے۔ جس ملک کے ججوں، جرنیلوں، صحافیوں، دانشوروں، سیاستدانوں، حکمرانوں اور ہر سطح کے سرکاری اہلکاروں کے کرپشن، بددیانتی، عہدے اور طاقت کے غلط استعمال، رشوت اور غبن سے کمائے ہوئے اثاثے دوسرے ملکوں میں ہوں تو اس کا وجود قائم رہنا بھی ایک معجزہ ہے۔


اسلامی جموریہ پاکستان کا آئین اور قانون ان وطن دشمنوں کا محافظ اور مدد گار ہے اور عدلیہ کے سامنے کوئی ایسا قانون اور ثبوت نہیں جس کی بنیاد پر کسی ملزم کو مجرم ثابت کیا جائے۔ جس ملک میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں انسانوں کو سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کی ہدایت پر قتل کر دیا گیاہو اور قاتل اعتراف جرم کے باوجود رہائی کے منتظر یا پھر اعلیٰ سیاسی اور سرکاری عہدوں پر فائز افراد کے منظور نظر ہوں تو وہاں عدل، جمہوریت، انسانی مساوات اور دینی اقدار کی بات کرنا عدل اور انسانیت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔


عزیر بلوچ اور راؤ انوار میں کیا فرق ہے؟ شاید کسی قانون دان کو بھی پتہ نہیں۔ دونوں ایک ہی معنوی باپ کے بیٹے اور ایک جیسے کام کے ماہر ہیں۔ دونوں کا نظریاتی مرکز ایک ہی ہے مگر قانون اندھا اور عدلیہ خاموش ہے۔ بلدیہ فیکٹری، ماڈل ٹاؤن اور سائیوال ٹال پلازہ پر خون کی ہولی کھیلنے والے معزز اور معتبر ہیں۔ سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے باہم اشتراک نے جتنے گھر اجھاڑے، لوگوں کی عزتیں پامال کیں، غریبوں کی زمینیں اور جائیدادیں چھینیں، سرکاری املاک پر قبضے کیئے، جنگلات تباہ کیئے، غنڈہ گردی اور دہشت گردی کے مراکز قائم کیئے، عوام کو خوفزدہ کرکے ان سے ووٹ لئے اس کی مثال دنیا کے کسی ملک میں نہیں ملتی۔ دیکھا جائے تو یہ سب کرپٹ سیاسی نظام اور شتربے مہار نوکرشاہی کے باہمی اتحاد کا نتیجہ ہے اور عوام بے حسی اور بے یقینی کا شکار اب عقلی اور شعوری قوت سے عاری ہر ظلم و جبر برداشت کرنے کے عادی ہیں۔ چینیوں پر جنگ افیون مسلط کی گئی تو چینی قیادت نے عوام کو متحرک کیا اور طویل جدوجہد کے بعد یہ جنگ جیت لی۔ مگر مملکت خداداد قحط الرجال کا شکار ہے۔ یہاں مریم نواز، منظور پشتین، بلاول زرداری، اختر مینگل، شاہ زین بگٹی اور حمزہ شہباز تو پیدا ہوسکتے مگر سن یات سن، ماؤزے تنگ، چواین لائی اور ڈنگ ژیاؤپنگ جیسے لیڈروں کی کوئی گنجائش نہیں۔


ہمارے ملک کی بیوروکریسی اور سیاستدانوں کا باہم اتفاق ہے کہ کرپشن کو قانونی اور آئینی حیثیت دی جائے اور قومی احتساب بیوروکو ختم کردیا جائے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو احتساب کے نام پر سہولت کاری کا ادارہ ہے جو آج تک کسی بڑے کرپٹ کو سزا نہ دے سکا۔ واجد شمس الحسن نے دنیا کے سامنے سوئٹرز لینڈ سے زرداری اور بینظیر کی کرپشن کا ریکارڈ اٹھایا اور غیب کر دیا۔ سرے محل زرداری کی ملکیت تسلیم ہوا اور فروخت ہوگیا۔ قومی احتساب بیورو سے بھٹو زرداری کرپشن کی فائلیں گم ہوگئیں اور فوٹو کاپیوں پر سزا کا قانون نہ ہونے کی وجہ سے حکمران خاندان نہ صرف باعزت بری ہوا بلکہ مزید پانچ سال تک حکمران رہ کر بچا کھچا خزانہ بھی لوٹ لیا۔ شریف خاندان کی کہانی بھی مختلف نہیں۔ سرے محل کی جگہ ایون فیلڈز اپارٹمنٹ اور دنیا بھر کے بینکوں میں اربوں ڈالر جمع ہیں جن کا ریکارڈ جناب طاہر القادری کے سوا کسی کے پاس نہیں اور نہ کسی کو اس میں دلچسپی ہے۔ منی لانڈرنگ، کرپشن، قتل و غارت گری اور اندروں ملک شریف خاندان کی ملوں، فیکٹریوں، کاروبار اور اثاثوں کی کوئی حد نہیں۔ یہ سب کیسے بنا اور قانون اس پر کیوں خاموش رہا اس کا جواب نہ سیاستدانوں کے پاس ہے، نہ انتظامیہ کے پاس اور نہ ہی عدلیہ اس پر جواب طلبی کر سکتی ہے۔بہت سے معزز جج شریف خاندان کے وکیل رہ چکے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ میاں شریف کے لوہار خانے میں سونے کی کان کیسے نکل آئی۔


جناب ایس ایم ظفر اپنے کالم “کرپشن اور کریم آن دی سوسائٹی” میں لکھتے ہیں کہ بتائیے اس ملک میں کون کرپٹ نہیں؟ پٹواری کے سامنے ملک کا صدر بے بس ہے۔ پولیس ٹرانسپورٹ میں حصہ دار ہے، ہر سطح کا جرم تھانیدار سے پوچھ کر کیا جاتا ہے۔ آگے لکھتے ہیں کہ عدالتوں میں تاخیر تو پہلے سے تھی اب انصاف بکنے لگا ہے۔ انصاف کے سوداگر دن دیہاڑے اپنا مذموم کاروبار بے خوفی سے چلا رہے ہیں۔ صحافی اپنے قلم کا سودا بار بار کرتے ہیں اور وزیروں کی تو بات ہی انوکھی ہے۔ جس رقم کی انہیں گنتی نہیں آتی اس سے دگنی رقم انہوں نے کمیشن سے کما رکھی ہے۔ ملک کے قائدین کا سرمایہ بطور اندوختہ بیرون ملک رکھا ہے اور وہ مزید سرمایہ ملک سے باہر لے جارہے ہیں۔ مرکزی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر کرپشن کا الزام لگاتی ہیں مگر اندرون خانہ دونوں کرپشن پر متفق اور اسے جائز سمجھتی ہیں۔ عام آدمی پریشان ہے کہ آخر ان اداروں کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جمہوریت غنڈہ گردی اور لاقانونیت کو فروغ دیتی ہے۔ سرمایہ دار نودولیتے، سمگلر، چور اچکے، کارخانہ دار مفاد پرست جمہوریت کی آڑ میں ملک کا سرمایہ لوٹتے اور قانون کی پرواہ کیئے بغیر عام آدمی کا استحصال کرتے ہیں۔ مقننہ اور انتظامیہ ان ہی لوگوں پر مشتمل ہے یا پھر ان کی مرضی کے مطابق کام کرتی ہے۔ عدلیہ کے ہاتھ بندھے ہیں۔ چوٹی کے وکیل جرائم پیشہ عناصر کے مستقل کونسل اور تنخواہ دار ہیں۔ ہر مقدمے کے سو ڈیڑھ سو گواہ ہوتے ہیں اور سالوں بحث چلتی ہے۔ اب پولیس اور پریس کے اختیارات کو بھی امور مملکت کا حصہ سمجھ لیا گیا ہے اور عام شہریوں کی تکلیف سننا گناہ تصور ہوتا ہے۔


اپنے اسی کالم میں جناب ایس ایم ظفر لکھتے ہیں کہ جس طرح مچھلی پہلے سر سے گندہ ہونا شروع کرتی ہے ویسے ہی معاشرہ اوپر سے کرپٹ ہوتا ہے۔ آگے چل کر لکھتے ہیں کہ سب سے زیادہ برف پہاڑ کی چوٹی پر پڑتی ہے اور دودھ میں اگر زہر ہو تو اس کی زیادہ مقدار بلائی میں آجاتی ہے۔ سوال کرتے ہیں کہ کیا ہمارے ملک کے صدور، وزرائے اعظم، چاروں صوبوں کے وزیر اعلیٰ اور اہم قومی اداروں کے سربراہ بیان کردہ اصولوں کو مسترد کرتے ہیں؟؟؟


کیا بلائی میں زہر جمع نہیں ہوتا۔ مچھلی سرسے گندی نہیں ہوتی اور پہاڑ کی چوٹی پر سب سے زیادہ برف ہیں پڑتی؟ کیا صدر مملکت، وزیراعظم، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اہم قومی اور ملکی سلامتی کے سربراہان کریم آف سوسائٹی نہیں۔


“قائداعظم ؒکیا سوچتے ہونگے” کے عنوان سے لکھے گئے کالم کی دسویں شق میں لکھتے ہیں کہ زرداری اچانک امیر ہوجائے تو چور کہلائے۔ چوہدری ظہور الٰہی کا خاندان ایک ہی نسل کے درمیان آدھے پنجاب پر تسلط کرلے تو اچھا جہاندیدہ تاجر کہلائے۔ یہ کون سا انصاف ہے۔ جناب ایس ایم ظفر نے بوجہ شریف خاندان کا ذکر نہیں کیا اور شاید ایوبی دور حکومت میں شہرت حاصل کرنے کی وجہ سے یہ لکھنے سے قاصر رہے کہ ایوب خان کے والد صوبیدار میجر تھے تو پوتے فلیڈ مارشل کی زندگی میں ہی ارب پتی کیسے بن گئے۔
اشرف شریف اپنی تصنیف”آؤ پاکستان لوٹیں “میں لکھتے ہیں کہ 1990؁ء ارب پتی گوہر ایوب جو اپنی رنگین مزاجی کی وجہ سے کئی کہانیوں کے تخلیق کار ہیں نے صرف تین سو چھ روپے ٹیکس ادا کیا۔ ایوب خان کی زندگی میں ہی وزیر خزانہ ایم شعیب خان نے گوہر ایوب کو امریکہ کی مشہور فرم جنرل موٹرز کی ایجنسی دلوادی جو جلد ہی گندھارا انڈسٹریز میں تبدیل ہوگئی۔ گوہر ایوب اور ان کے سسر جنرل حبیب اللہ اس کمپنی کے مالک اور ملک کے امیر ترین افراد میں شامل تھے۔ جولائی 1968؁ء میں گوہر ایوب ان اداروں کے چیئرمین تھے جس میں اروبہ انوسٹمنٹ، ہاشمی کین کمپنی، گندھارا انڈسٹری، گوہرحبیب لمٹیڈ اور جانانہ ڈی مالوچہ ٹیکسٹائل ملز شامل تھیں۔ ان اداروں کی مجموعی ملکیت چالیس لاکھ ڈالر تھی مگر کبھی کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ یہ سب راتوں رات کیسے بن گیا۔ نہ ایوب خان کے والد کوئی جاگیردار، سرمایہ دار یا کارخانہ دار تھے اور نہ ہی ایوب خان کی ساری زندگی کی تنخواہ، جائز مراعات اور پنشن اتنی تھی کہ وہ کوئی معمولی کارخانہ لگا سکتے۔ فیلڈ مارشل کا گاؤں ریحانہ نواب آف امب اور راجگان خانپور کی جاگیروں کے درمیان واقع ہے۔ امب کی جاگیر تیموری دور اور خان پور کے راجگان سکندر اعظم کی آمد سے پہلے تخت کیان کی نشانیاں تھیں جو اب نہیں رہیں۔ باؤنڈری کمیشن کے ممبر کی حیثیت سے ایوب خان نے بلنڈر کئے جس کی وجہ سے کشمیر اور پنجاب کے اہم حصے بھارت میں شامل ہو گئے۔
سیکرٹری دفاع سکندر مرزا نے ایوب خان کو تو کورٹ مارشل سے بچا لیا مگر خود کو اور پاکستان کو نہ بچا سکے۔
“پاکستان بنام کرپشن عوام کی عدلات میں ” ایس ایم ظفر نے بڑے سنجیدہ سوال اٹھائے ہیں جس کا بنیادی نقطہ جاہل اور کرپٹ سیاسی نظام اور بے لگام بیوروکریسی ہے۔


وہ لکھتے ہیں کہ اسرائیل کی عدالت نے نازی جرمنی کے دور کے ایک اہم ملزم کو اس بنا پر چھوڑ دیا چونکہ عدالت اس نتیجہ پر نہ پہنچ سکی کہ جو شخص عدالت میں پیش ہوا کیا وہ واقعی “ایوان خوفناک” یعنی The terrible Ivan ہے یا نہیں۔ بعد میں ایک یہودی قانون دان نے اس بات کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ملزم بے شک بری ہوجائے لیکن مقدمہ ضرور چلنا چاہیے۔ اگر ملزم کو بغیر مقدمہ کے چھوڑ دیا جائے تو یقین جانو جرم جڑ پکڑے گا اور قانون سے زیادہ مضبوط ہوجائے گا۔


نازی جرمنی کے خوفناک مجرم تو روپوش ہوگئے تھے جنہیں ڈھونڈنا مشکل تھا۔ ہمارے قومی مجرم تو کسی سے چھپے ہوئے نہیں۔ 1947؁ء سے ہی حساب لگا لیا جائے تو ساری سیاسی اشرافیہ اور بیوروکریسی کے چہرے سامنے آجائے گے۔ سو سو گواہوں کی ضرورت ہی نہیں۔ صرف ایک عدد جسٹس کھڑک سنگھ اور کرنل مہان سنگھ کی ضرورت ہے باقی کام جلاد کا ہے۔


مشہور براڈ کاسٹر، دانشور اور صحافی جناب صفدر ہمدانی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کے ہر ادارے میں صرف پانچ لوگ کام کرتے ہیں اور پانچ ہزار صرف تنخواہ لیتے ہیں۔ وہ پانچ لوگ جو کام کرتے ہیں وہ نہ کرپٹ ہیں اور نہ بددیانت۔ صفدر ہمدانی کا تجزیہ بلکل درست ہے۔ سیاست اور نوکر شاہی میں پانچ فیصد کو چھوڑ کر باقی سب کچرا ہے جسے کچرا کنڈی میں ڈالے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔


سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے گا۔ سیاسی آلودگی کی صفائی الیکشن کمیشن اور بیوروکریسی کا صفایا پبلک سروس کمیشن کا کام ہے جبکہ دونوں ادارے مفلوج اور مفلوک الحال ہیں۔ سول سروس میں ایک چور دروازہ بھی ہے جس کی چابی سیاستدانوں کے پاس ہے۔ چھوٹے گریڈوں میں بھرتی ہونے والے لوگ ایدھر ادھر گھوم کر ڈپٹی کمشنر، کمشنر اور پھر اعلیٰ اور ہم اداروں کے سربراہ بن جاتے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کا سلیکشن اور پروموشن کا نظام ناقص اور غیر معیاری ہے۔ کارکردگی کا معیار اے سی آر ہے جو اکثر جھوٹ پر مبنی اور رشوت دے کر لکھوائی جاتی ہے۔


مشہور مزاح نگار اور دانشور جناب کرنل اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ میں نے فوج میں رہتے ہوئے بڑے عہدوں پر چھوٹے لوگ اور چھوٹے عہدوں پر بڑے لوگ دیکھے۔ کاش کرنل صاحب مرکزی سیکریٹریٹ اسلام آباد اور چاروں صوبائی سیکریٹریٹوں کا بھی دورہ کر لیتے تو ان کا مشاہدہ مختلف نہ ہوتا۔


شیخ سعدیؒ لکھتے ہیں کہ نوشیروان عادل شکار کے لیے گیا۔ شکار سے کباب بنانے کا وقت آیا تو نمک نہ تھا۔ کوئی شخص دوڑ کر قریبی بستی میں نمک لینے گیا تو نوشیروان نے کہا قیمت دے کر نمک لیا جائے۔ کسی نے کہا تھوڑے نمک کی قیمت نہ بھی دی جائے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ نوشیروان نے کہا،برائی تھوڑے سے شروع ہوتی ہے اگر ابتدأ میں خاتمہ نہ کیا جائے تو سارے معاشرے کو لپیٹ میں لے لیتی ہے جس کا خاتمہ مشکل ہوجاتا ہے۔


فرمایا کہ اگربادشاہ ایک انڈے کی کرپشن جائز سمجھے تو سپاہ ہزاروں مرغ سیخوں پر چڑھالے گی۔ بادشاہ رعایا کے باغ سے ایک سیب توڑنا جائز سمجھے تو اہلکار سارا باغ تباہ کر دیں گے۔ شیخ سعدیؒ کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے توپاکستان کے جمہوری اور آمر بادشاہوں نے سب کچھ جائز سمجھ رکھا اور اہلکار سارا ملک لوٹ کر کھا گئے ہیں۔


شیئر کریں: