Chitral Times

Apr 16, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یوم استحصال، کشمیرپرپاک بھارت مذاکرات کا تاریخی جائزہ….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

جنوبی ایشیاء میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ جنوبی ایشیاء کی دو ایٹمی طاقتیں عرصہ دراز سے مسائل کوجنگوں کے بعد مذاکرات کے زریعے حل کرنے کی کوششں کر تی چلی آئی ہیں مگر ہر بار بھارت کی جانب سے نہ صرف معائدوں کی خلاف ورزی کی جاتی ہے بلکہ مختلف حیلوں بہانوں سے امن مذاکرات کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا تی رہی ہیں۔ بھارت کو امن ایک آنکھ نہیں بہاتا، بات صرف پاکستان کی نہیں، بھارت کو اپنے کسی بھی پڑوسی کے ساتھ امن سے رہنا گوارہ نہیں ہے۔ چین ہو یا بنگلہ دیش، نیپال ہو یا پاکستان، بھارت ہر ملک کے ساتھ اپنے مذموم مقاصد کے لیے کشیدگی پیدا کر تا آیا ہے۔ 1947میں ہندوریاست کے قیام کے بعد لاکھوں مسلمانوں کو زبردستی نکال کر پاکستان کی طرف دھکیل دیا تا کہ پاکستان کی مشکلا ت میں اضافہ ہو۔ ہندو ریاست نے قائم ہوتے ہی اپنی ہندو مسلمان دشمنی کا ثبوت دینا شروع کر دیا۔

لاکھوں مسلمانوں کوبے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ بھارت نے پاکستان کے حصے میں آنے والے بہت سارے علاقوں پر زبردستی قبضہ کر لیا جس میں کشمیر بھی شامل تھا۔ مسلہ کشمیر پر دونوں ممالک کے مابین بے نتیجہ جنگ ہوئی جو اقوام متحدہ کی مداخلت پر یکم جنوری 1949کو معائدے کے بعد ختم ہو گئی۔ دونوں ممالک رائے شماری پر متفق ہوئے مگر ہندو بنیا بعد میں مکر گیا۔اقوام متحدہ بھی بھارت کے سامنے کٹھ پتلی کی حیثیت رکھتا ہے اور بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دنیاکے نام نہاد امن کے علمبرداروں کے فیصلوں کو روندتا چلا آیا ہے۔ 1954میں بھارت نے اس کی توثیق کی۔1957میں بھارتی اسمبلی نے ایک آئین پاس کیا جس کے زریعے بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیا۔ 1962کی سنو بھارت جنگ کے بعد1963میں پاک بھارت وزرائے خارجہ جناب ذولفقار علی بھٹو اور سوارن سنگ کے درمیان مذاکرات ہوئے جو بے نتیجہ رہے۔ بھارت رائے شماری کے علاوہ کسی اور حل کی بات کر رہا تھا جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خود ارادیت کے اصولی موقف سے پیچھے نہ ہٹا۔ 

1963 کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان 1964میں مسلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں لے گیا۔ 1965میں بھارت نے بین الا اقوامی سرحد کی خلاف ورزی کر تے ہوئے پاکستان پر حملہ کر دیا۔ سیالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی۔یہ جنگ بھی بے نتیجہ رہی اور دونوں ممالک 22ستمبر 1965کواقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی پر راضی ہو گے۔10جنوری 1966کو بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری اور صدر ایوب خان نے تاشقند معائدے پر دستخط کیے مگر یہ معائدہ بھی مسلہ کشمیر کو حل کرنے میں ناکام رہا۔ 1971

میں بھارت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان مخالف قوتوں سے مل کرجنگ مسلط کی اورمشرقی پاکستان کو الگ کر دیا گیا۔ 1971کی پاک بھارت جنگ 13دن تک جاری رہی اور اسے جدید تاریخ کی مختصرترین جنگ شمار کیا جا تا ہے۔ 28جون 1972 کو ذولفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی نے شملہ معائدے پر دستخط کیے اور دونوں ممالک نے مسائل کو جنگ کے بجائے بات چیت کے زریعے حل کر نے کا تحیہ کیا۔ شملہ معائدہ کے نتیجے میں کنٹرول لائن کو طے کیا گیا اور دونوں فریقین پر اس کا احترام لازمی قرار دیا گیا مگر بھارت نے ہر مرتبہ اس معائدے کی خلاف ورزی کی۔1974 میں بھارت  نے کشمیر کو اپنا آئینی حصہ قرار دینے کی ایک بار پھر کوشش کی اور پاکستان نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔

18مئی کو بھارت نے سمائلنگ بدھا کے نام سے ایک ایٹمی تجربہ پوکھران کے مقام پر کیا اور دعوی کیا کہ یہ تجربہ پرامن مقاصد کے لیے کیا گیا ہے۔ 1988 میں دونوں ممالک میں ایک معائدہ طے پایا کہ کوئی بھی ملک ایک دوسرے کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ نہیں کر ے گا۔ اس معائدے کے مطابق دونوں ممالک آپس میں ہر سال یکم جنوری کو معلومات کو تبادلہ بھی کر تے ہیں۔ 1989 میں کشمیر میں مسلح تحریک شرو ع ہوئی جس کی ایک وجہ 1987کے انتخابات میں دھاندلی بھی تھی۔

1980-1990 کی دہائیوں میں تحریک آزادی کشمیر زوروں پر رہی جس کی بڑی وجہ کشمیریوں کی بھارت کے قبضے سے آزادی حاصل کرنا ہے۔ 1991 میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معائدہ طے پایا جس کے مطابق دونوں ممالک فوجی نقل و حرکت اور فضائی حدود کے استعمال سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر یں گے۔ 1992 میں دونوں ممالک کے درمیان کیمیائی ہتھیار وں کے عدم استعمال سے متعلق نئی دہلی میں معائدہ ہوا۔ 1996 کے دوران دونوں ممالک کے اعلی افسران کنٹرول لائن پرتناو کو کم کرنے کے لیے ملاقاتیں کر تے رہے۔1998 میں بھارت نے 5 ایٹمی دھماکے کیے جن کے جواب میں پاکستان نے 6ایٹمی دھماکے کیے۔ 1999 میں بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے لاہور میں ملے اور لاہور اعلامیہ جاری ہوا۔لاہور علامیہ شملہ معائدے کے بعد دونوں ممالک میں ہونے والا دوسرا بڑا معائدہ تھا۔ دونوں ممالک نے شملہ معائدے پر عمل کرنے اور اعتماد کی بحالی کے لیے دونوں ممالک نے عملی اقدامات کیے تاہم کارگل جنگ کی وجہ سے ان میں سے اکثر پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ کارگل جنگ دونوں ممالک کی ایٹمی قوت بننے کے بعد پہلی جنگ تھی۔یہ جنگ بھی بے نتیجہ رہی۔

2001 کے دوران کنٹرول لائن پر حالات کشیدہ رہے۔جولائی میں جنرل پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی کی نئی دہلی میں ملاقات ہوئی اور آگرہ اعلامیہ کشمیر کے بنیادی مسلہ پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے جوں کا توں رہ گیا۔ بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے حملے کیوجہ سے مذکرات ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔سال 2002 میں پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور کشمیر کو اپنا حصہ قرار دینے کا ایک بار پھر اعلان کیا گیا۔

2003 میں دونوں ممالک نے ایک مرتبہ پھرحالات کو معمول پر لانے کی کوشش کی۔ 2004 میں سارک کے بارہویں اجلا س میں جنرل مشرف اور واجپائی میں ایک بار پھر بالواسطہ بات چیت ہوئی اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پراتفاق ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگ نے کشمیر سے اپنی فوج کم کر نے کا اعلان کیا جس نے ایک مرتبہ پھر مسلہ کشمیر کے حل کی طرف راہ ہموار کی مگر بھارت کی جانب سے آٹھ لاکھ فوج میں سے صرف 5000 فوجیوں کو واپس بلایا گیا۔ جنرل مشرف اور من موہن سنگ نے دہشت گردی کے خلاف لڑنے پر اتفاق کیا مگر مسلہ کشمیر جوں کا توں رہا۔ سمجھوتہ ایکسپریس اور دیگر حملوں کی وجہ سے مذکرات ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔

2008 میں ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کے درمیان گیس پائپ لائن معائدہ کافی مثبت پیش رفت سمجھی گئی مگر کابل میں بھارتی ایمبیسی پر ہونے والے حملے کو بہانہ بنا کر یہ موقعہ بھی بھارت نے ضائع کر دیا۔ ستمبر میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور مسٹر سنگ نے تجارت کوفروغ دینے پر اتفاق کیا۔ تاج محل ہوٹل پر ہونے والے حملے میں کی وجہ سے مذاکرات پھر تعطل کا شکار ہو گئے۔ پاکستان کی جانب سے امن مذاکرات کی کوششوں کے سبب 2010 میں ایک مرتبہ پھر سیکریٹری خارجہ کی سطح اور پھر وزراء خارجہ کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔

2013 میں دونوں ممالک کے وزراء اعظم ایک مرتب پھر نیو یارک میں ملے اور کشیدگی کو کم کرنے پر اتفاق کیا۔2014 میں جنرل راحیل شریف نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا اور پاکستان کے موقف کو دہرایا کہ کشمیریوں کو ان کی امنگوں کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری کا حق ملنا چاہیے۔ 2014 کو پاکستان نے ایک بار پھر امن کی بحالی کے لیے 151بھارتی مچھیروں کا آزاد کر دیا۔ اسی سال نئی دہلی میں نواز شریف اور مودی کے درمیان مذاکرات ہوئے اور مسائل کو مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق ہوا۔

2015 میں مودی نے لاہور کا دورہ کیا۔ 2016 میں ہندوستان نے سرجیکل سٹرائیک کا ڈھونگ رچایا اور دو ہفتوں کے اندر بھارتی کانوائی پر حملے میں 19 بھارتی فوج ہلاک ہو گئے۔2019 کے شروع میں 26فروری کو بھارت نے پاکستانی حدود میں حملہ کیا اور بہانہ بنایا کہ اس نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔اس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے اور ایک پائلٹ کو گرفتار کر لیا۔ دونوں ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے تھے مگر پاکستان نے ایک بار پھر امن کی خاطر بھارتی پائلٹ کو رہا کیا۔ 5اگست 2019کو بھارت نے کشمیر سے متعلق آئینی دفعات کو ختم کر کے اس کی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی اور تقریبا ایک سال سے کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے۔

پاکستان نے بھارت کے غیر آئینی اور غیر انسانی اقدام کو یکسر مستردکر تے ہوئے اسے ہر فورم پر اجاگر کیا ہے۔ پتہ نہیں کون سی طاقتیں ہیں جو دونوں ممالک میں امن نہیں چاہتی، ہر بار جیسے ہی مذاکرات کسی نہج پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں تو کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ہو جا تا ہے جس کی وجہ سے امن کی کوششیں رائیگاں ہو جاتی ہیں۔ ترقی اور امن کے لیے دونوں ممالک کو اپنے مسائل پرامن مذاکرات کے زریعے حل کرنا ہوں گے اور جب تک مسلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تب تک دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ منڈلاتا رہے گاجو نہ صرف ایشیاء بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو گا۔مسلہ کشمیر حل کیے بغیر ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور جب تک ایشیا میں امن قائم نہیں ہو گا دنیا میں کسی بھی صورت امن قائم نہیں ہو سکتا۔  


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
38528