Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مستوج روڈ بلیک ٹاپ۔۔۔۔اپنی مددآپ۔۔۔۔۔پروفیسرڈاکٹر اسماعیل ولی

شیئر کریں:

کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے​

آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو​

پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ​

منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو​

مستوج کی جعرافیایی، سیاسی اور تاریخی اہمیت مسلمہ ہے- کیونکہ یہ ایک ایسے سنگم پر واقع ہے- یہاں سے گلگت ، مشرقی ترکستان وسط ایشیا اور جنوب کی طرف انڈیا کو راستے نکلتے ہیں – کسی زمانے میں ترک عازمین حج اور تجارتی قافلے یہاں سے گزرتے تھے- روسی انقلاب اور چین میں ثقافتی انقلاب کے بعد یہ سرگرمیاں کم ہوتی گییں- پاکستان بننے کے بعد یہاں پر بہت کم توجہ دی گیی- لیکن چند ایک تاریخی اہمیت والی باتوں کا حوالہ یہاں ضروری ہے-

محترم ذولفقار علی بھٹو پہلے وزیر اعظم ہیں- جو یہاں تشریف لاے- اور سید خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کا تعرہ ” پہلے عشر کی بات پھر بھٹو زندہ باد” کا نعرہ سن کر عشر کو ختم کیا- اسلیے یہاں کے لوگ اب بھی انتہائی اچھے الفاظ میں ان کو یاد کرتے ہیں- پھر بھٹو ہی تھے جنہوں نے یہاں کی غذائی قلت کو دور کرنے کیلیے باہر سے غلہ منگوایا- جس کا حوالہ چپاڑی کے ملنگ کے ایک گانے میں بھی پایا جاتا ہے- امریکہ شیراے بونیغان کشمان- اسی زمانے میں جیپ سنوغر تک پہنچ گیی- تاو کی سڑک بنی- اور اگے مستوج کے لوگوں نے اپنی مدد اپ کے ذریعے سڑک کو جیپ ایبل بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کیا-

دریائے لاسپور پر پل بنانے پر پہلی دفعہ جیپ مستوج پہنچ گیی- مستوج سکول کو اپگریڈ کرنے میں جناب سکندر خلیل کا کردار اہم ہے- اس کے بعد جو کچھ ہوا- وہ بھی سب کے سامنے ہے- اگر اے کے ار اسی پی اور ایس ار ایس پی  جیسے ادارے نہ ہوتے- تو حالات جوں کے توں رہتے- اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کے امکانات مدہم پڑ جاتے- لیکن ان دونوں اداروں نے کسی ایسے بڑے منصوبے کے لیے اپنے ڈونرز کو منانے   میں ناکام رہے- جو اس علاقے میں ترقی کی شاہراہ کے طور پر کام کرتا- یا ایسا ادارہ وجود میں لانے میں ناکام رہے- جو نو جوانوں کو پیشہ ورانہ تعلیم و ہنر سے اراستہ کرتا

اس میں کوئی شک نہیں اغا خان ایجوکیشن نے رسمی  تعلیم کو عام کرنے اور پسماندہ جگہوں میں سکول بنانے میں نمایان کردار ادا کیا ہے- اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ابھی باقی ہے-

اس تمہید کے بعد امدم بر سر مطلب- یعنی دور حاضر میں ترقی کا انحصار سڑکوں پر ہے- کیونکہ ترقی کی دوسری شاخیں سڑک سے وابستہ ہوتی ہیں- خصوصا یہاں کی ترقی کا انحصار سیاحت پر ہے- اور سیاحت کا انحصار سڑکوں پر ہے- تجارت کی ترقی بھی سڑکوں سے وابستہ ہوتی ہے- تاہم گذشتہ بیس تیس سالوں سے علاقے کی اہم سڑک جو ایک طرف شمال کی جانب یار خون سے ہو کر   بروغل تک جاتی ہے- اور مستقبل میں تاجکستان سے لنک ہونے کی امید بھی موجود ہے- تو دوسری طرف مشرق کی جانب لاسپور سے گزر کر گلگت پھر مشرقی ترکستان کی طرف نکلتی ہے- ابھی تک کچی ہے- ایک طبقے کا خیال ہے کہ بعض طاقت ور افراد کا فایدہ اسی میں ہے کہ یہ سڑک کچی ہی رہے- بہرحال  وجہ جو بھی ہو- اس کے منفی اثرات عوام پر پڑتے ہیں- عوامی حلقوں نے ارباب بست و کشاد کی توجہ حاصل کرنے کیلیے جلسے جلوس نکالے- دھرنے دیے- اور رہنماوں نے وہی پورانی چال چلی کہ دھرنا ختم کریں – فلان مہینے میں کام شروع ہونے والا ہے- اور یہ مہینہ کہوار محاورے کے مصادق “ڑاے ادینہ” ثابت ہوا- اور اب سی پیک کا خواب بلکہ لولی پاپ دیکھانے کی کوشش کی جارہی ہے-

کیا اس سڑک کو اپنی مدد اپ کے ذریعے پختہ کرنا نا ممکن ہے- بالکل نہیں- مشکل ضرور ہے- چیلنجیز حایل ہیں- وسایل کی کمی ہے- ان مشکلات پر قابو کیسے پایا جا سکتا ہے- بنیادی سوال ہے- ایک جملے میں اس سوال کا جواب یہ ہے- کہ ارادے کی پختگی اور قربانی کا جذبہ درکار ہے- یہ دو عناصر ہر مشکل کو اسان بنانے میں مدد دیتے ہیں-

اگر پرواک سے لیکر بروغل اور سور لاسپور تک عوام کی اکثریت اس خواب کو حقیقت بنانے کیلیے پر عزم ہو- تو  رکاوٹین خود بہ خود دور ہو جاییں گی- وسایل دستیاب ہونگے- اور کام حقیقت  بنتا جائے گا- یقینا ہمارے معاشرے میں باہمی بھروسے کا فقدان ہے- کرپشن کی کہانیاں موجود ہیں- غربت کا بہانہ سر دست دستیاب ہے- سب سے بڑھ کر، حکو مت جس کام کو نہیں کر سکتی- ہم کیسے کرینگے- کی بات اکثر سننے میں اتی ہے- اس کا مختصر جواب یہ ہے- کہ حکومت بھی ٹیکسوں پر چلتی ہے- اورٹیکس بھی لوگ دیتے ہیں-

                                                                                    ابھی سے پاوں کے چھالے نہ دیکھو—ابھی یارو، سفر کی ابتدا ہے

اگر موثر منصوبہ بندی کے ذریعے اس نعرے کو عام کرنے میں کامیاب ہوجاییں کہ مستوج روڈ بلیک ٹاپ- اپنی مدد اپ – اور  علامتی طور پر ایک دو کلو میٹر روڈ کو پختہ بنانے میں کامیاب ہوجاییںگے – تو مشکلات پر قابو پانے میں اسانی ہوگی- اگے کا راستہ ہموار ہوتا جاے گا- دوسرے مخیرخواتین و حضرات اور ادارے اس کار خیر میں اپنا حصہ   ڈالتے جاییں گے- اور ایک نیی تاریخ رقم ہوگی-

اس تاریخ کو رقم کرنے کیلیے ضروری ہے- کہ علاقے کو تین حصوں یا یو سیز میں تقسیم کیا جائے- اور ہر ایک یوسی ایک فوکل پرسن اور چار یا پانچ افراد پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل کا انتظام کرے- اور یہ پندرہ بیس لوگ اپنے اہداف حاصل کرنے کلیے مشاورت کریں- اور  ایک اوقات کار کے مطابق اپنا  کام جاری رکھیں- ہر ایک یو سی والے اپنے کام کی ذمہ داری خود لیں- تاکہ خور برد یا الزام تراشی کی باتیں رکاوٹ نہ بن سکیں- شفیافیت میں اسانی ہو-

اس سلسلے میں چند اجلاسوں میں شرکت کے بعد جو نتیجہ سامنے ایا وہ انتہایی حوصلہ انگیز ہے- جن تجارت پیشہ افراد سے میں نے انفرادی حیثیت میں بات کی- ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کی- ملازمت پیشہ افراد نے بھر پور تعاون کا وعدہ کیا- پنشنر حضرات بھی پیچھے نہیں رہے-

لوگ کہتے ہیں کہ بدلتا ہے زمانہ سب کو

مرد وہ ہیں جو زمانے کو بدل دیتے ہیں

(اکبر الہ ابادی)


شیئر کریں: