Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست۔۔۔۔شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ….تحریر؛دلشاد پری بونی

شیئر کریں:

,, اور نہ کہا کرو انہیں مردہ جو قتل کئے جاتے ہیں اللہ کی راہ میں وہ مردہ نہی بلکہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہی رکھتے۔؛؛(سورہ البقرہ آیات نمبر ۳۵۱)


قانون کی با لادستی ہو یا امن کا قیام،دہشت گردی کا خاتمہ ہو یا سماج دشمن عنا صر سے مقابلہ،ہر محاز پر پولیس کے جوانان نے اپنی زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کرتے چلے آئے ہیں۔اسلئے ہر سال 4اگست یوم شہدائے پولیس کے طور پر منایا جاتا ہے۔

یوم شہدائے پولیس منانے کا مقصد پولیس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرنا ان کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدردی اور ان کی شجاعت کو سلام پیش کرنا ہے جس میں شہداء کے قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہے اور شہداء کے ارواح کے ایصال ثواب کے لئے خصوصی فاتحہ خوانی کی جاتی ہے۔ محکمہ پولیس وہ ادارہ ہے جو کہ ملک بھر میں دہشت گردی،چوری،ڈکیتی،اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین نوعیت کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔


صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بارہ سو سے زیادہ جوانا ن اور افسران شہید جبکہ ڈھائی ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے ہیں جن میں کنسٹیبل سے لیکر اے۔آئی۔جی تک کے افسران شامل ہیں۔4 اگست 2010 کے دن دہشت گردوں نے ایک خود کش حملے میں آئی۔جی ایف سی صفوت غیور کو شہید کر دیا تھا۔اسلئے ایسے بہادر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یوم شہدائے پولیس منایا جاتا ہے۔

پولیس فورس کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔پولیس زرائع کے مطابق اب تک شہید ہونے والوں میں 80 فی صد پولیس کے سپاہی تھے۔ان میں ایسے بہادر جوان بھی شامل تھے جن کو پتہ تھا کہ کہ وہ خود کش حملہ آور کو روکنے کے لئے اگے جا رہے ہیں اور اس میں ان کی جان بھی جا سکتی ہے لیکن انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حملہ آور کو کو روک کے اپنی جان دوسروں کی جان بچانے میں قربان کر دی۔خیبر پختو نخواہ کے اہم پولیس افسران مین صفوت غیور کے علاوہ ڈی آئی جیز عابد علی،ملک سعد،ایس پی خورشید شاہ،ایس پی ہلال غیور اور دیگر اعلی افسران شامل ہیں۔

پاکستان پولیس فورس میں سب سے زیادہ جانوں کا نزرانہ کے پی کے پولیس کے حصے میں آتے ہیں اور چترال پولیس کے کئی جوانان بھی شہادت کے عہدے پہ فائز ہو چکے ہیں جن میں کچھ افسران کا زکر کرنا اپنے لئے فخر سمجھوں گی۔


1.امان اللہ ایس۔ائی آپ 2008 ء میں سوات کبل میں دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہو گیا۔آپ کا بیٹا اج اپنے باپ کی جگہ سینہ تان کے اپنی خدمات انجام دے اور اپ کو اپنے شہید باپ پہ فخر ہے۔
2.۔شہید ایس۔ائی عطاء ا لرحمن ۔آپ 1987ء میں ڈونڈیگار دروش کے نزدیک غیر ملکی دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو روکتے ہوئے ملک و قوم کو بچانے کی خاطر اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا۔اج اس شہید کا بیٹا ڈی۔ایس۔پی کے عہدے پہ فائز کے پی کے پولیس ٹریننگ سنٹر صوابی میں بطور ایڈمن خدمات انجام دے رہا ہے۔

  1. شہید اے۔ایس۔آئی گلسمبر خان ۔آپ بھی ڈونڈیگار دروش میں ایس۔ائی عطاء الرحمن کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔آپ کا بیٹابحیثیت پی۔اے ایس۔ائی چترال پولیس میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

    4,.۔شہید اے۔ایس۔ائی عزیزاللہ ۔آپ 2009 ء میں اوچ دیر لوئر میں دہشت گردوں کے راکٹ لانچر حملے کے سامنے سینہ تان کے کھڑے ہوئے اور شہادت کا رتبہ پا لیا۔آپ کا بیٹا آج چترال پولیس میں بطور اے۔ایس۔آئی خدمات انجام دے رہا ہے۔

    5.۔ شہید H.C اسلام الدین ۔آپ بھی 1987ؒٓ ء میں ڈونڈیگار دروش میں جام شہادت نوش کئے۔آپ کا بیٹا ظفر احمد ابھی ایس۔پی اسپیشل برانچ کے۔پی۔کے عہدے پہ تعینات ہے۔

    6۔شہید H.C ظفر احمد آپ 2009 ء میں بمبوریت کے مقام پر دہشت گردوں کے حملے میں غیر ملکی سیاح کو بچاتے ہوئے شہادت کا رتبہ پا لیا اور اپنی وطن کا نام بھی روشن کیا۔
    اس کا بیٹا اے۔ایس۔ائی کے عہدے پر اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

    7..۔ شہید H.C جنت گل۔آپ 2011ء میں گودیبار چیک پوسٹ اروندو میں ڈیوٹی انجام دینے کے دوران افغان دہشت گردوں کے اچانک حملے میں جام شہادت نوش کئے۔آپ کا تعلق کوہاٹ سے تھا۔

    8۔ شہید F.C حیدر علی ۔۔آپ 2011 ء میں دراشوت چیک پوسٹ ارندو میں دوران ڈیوٹی اٖفغان دہشت گردوں کے اچانک حملے میں اپنی جان کا نزرانہ پیش کیا۔آپ کا بھائی ابھی اے۔ایس۔آئی خدمات انجام دے رہا ہے۔

    9.۔شہید F.C اشرف الدین ۔آپ بھی 2011ء میں کوئتی چیک پوسٹ اروندو میں دوران ڈیوٹی اٖفغان دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہوا۔آپ کی شہادت پر فخر کرتے ہوئے آپ کا بھائی چترال پولیس میں شامل ہوکر بطور اے۔ایس۔ائی اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔

    . 10 شہید FC سریر احمد ۔۔آپ بھی 2011میں بمقام ارندو افغان دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ہمیں اپنے شہداء پولیس کی لازوال قربانیوں پہ ٖفخر ہے۔۔
مہجور زیست۔۔۔۔شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔ ....تحریر۔دلشاد پری بونی

شیئر کریں: