Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فلسفۂ قربانی…..سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

قربانی کے معنی ہیں تقرب الہی حاصل کرنے میں کوشش کرنا اور سعی کرنا یا ایسی نیکی بجالانا جس کی بنا پر خدا سے قربت حاصل ہوجائے اور شریعت اسلام میں اصطلاحاََ عبادت کی نیت سے ایک خاص وقت میں حیوان (ذبیحہ اور حلال) کو ذبح کرنے کو کہتے ہیں۔           ( اسلامی انساکلوپیڈیا  ، سید قاسم محمد، ص 1242)

قربانی کے اس فلسفے کو سمجھنے کے لئے یہ سوال ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ کیا خدا کی قربت حاصل کرنے کے لئے  کوئی بھی چیز اللہ کی راہ میں قربان کیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلے میں  قرآن کا فیصلہ یہ ہے ۔لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ۔ (3.92)  ترجمہ:تمہیں اس وقت تک نیکی نہیں مل سکتی جب تک کہ تم اپنی عزیز ترین شئے کو اللہ کی راہ میں نہ خرچ کرو۔

اس آیت سےیہ حقیقت عیاں ہے کہ قربانی کے لئے کسی محبوب اور قیمتی چیز کو ہی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاسکتا ہےجس کے لئے عشق اور محبت کا جزبہ ہونا انتہائی ضروری ہے گویا عشق قربانی کے لئے پہلی منزل ہے جس کے بغیر منزل تک پہنچنا نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے۔یہ عشق ہی تو ہے جس کے لئے اپنا تن، من ،دھن سب کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے عشقِ حقیقی سے سرشار ہوکر اپنے پیارے بیٹے  حضرت اسماعیل ؑکو اللہ کی راہ میں قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ محبت اور عشق حقیقی  جب اپنے انتہا کو پہنچتی ہے تو وہاں اللہ کی طرف سے آزمائشیں اور امتحانات کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ان امتحانات میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو حق الیقین کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خداوندِ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکو دین کے دیگر اعمالِ صالحہ سے نہ آزماتے ہوئے صرف  بیٹے کی قربانی سے کیوں آزمایا؟ کیا خداوندِ تعالیٰ کو حضرت اسماعیل ؑکے خون ، گوشت اورپوست  کی ضرورت تھی؟  نہیں ہرگز نہیں کیونکہ خداوندِ تعالیٰ بے نیاز ہے اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ قربانی کے فلسفے کا مقصد یہ ہے کہ مومنین کے قلوب سے دنیوی اور مادی آشیاء کی چاہت اور محبت کم کردی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کی مقدس محبت اس کے دل میں جاگزین ہو۔ جیسا کہ خداوندِ تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے۔ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ (22.37)

ترجمہ: اللہ تعالٰی کو قربانیوں کے گوشت نہیں پہنچتے نہ ان کے خون بلکہ اسے تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔

اہلِ دانش کو معلوم ہے کہ تقویٰ اور پرہیزگاری سے ہی عشقِ الہی میں پختگی اور ایمان کی مضبوطی حاصل ہوتی ہے۔جس سے مشاہدۂ باطن اور علمِ حقیقت کی راہیں کھل جاتی ہیں۔جسطرح حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ دونوں علمِ معرفت کے بلند درجے پر فائز تھے۔گویا اللہ اور اس کے دو عظیم پیغمبروں کے درمیان حقیقت کی راہیں کھل چکی تھیں اور وہ بےحجابانہ طور پر اللہ کی مشیت کا ادراک فرمارہے تھے۔ تبھی تو  قرآن اس بات کی گواہی دے رہا ہے۔

 وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ  ٘ (6.75)

ترجمہ:اور اسی طرح ہم نے ابراہیمؑ کو آسمانوں اور زمین کی ملکوت کا مشاہدہ کراتے رہےتاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔

یہ آیت بتارہی ہے کہ “حضرت ابراہیم ؑحق الیقین کے بلند ترین مقام پر فائز تھے، اور آپ نورِ یقین میں ارض و سموَات کے ملکوت کا مشاہدہ کرتے تھے۔ اس صورت میں  یہ بات ذہن نشین ہونا نہایت ضروری ہے کہ انسان کی جسمانی آنکھ مشاہدۂ باطن اور عین الیقین کے مقابلے میں بےحقیقت ہے۔ جسمانی آنکھ بہک سکتی ہے، مگر عین ایقین سے غلطی نہیں ہوتی، اس کامطلب یہ ہوا کہ حضرت ابراہیمؑ ذبح کی حقیقت سے ناواقف نہیں تھے۔ ویسا بھی انبیاء جو خواب دیکھتے ہیں انہیں وحی کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور وحی شک اور گمان سے پاک ہوتی ہے۔ اور یہ بات قرآن حکیم سے ثابت ہے کہ منصب امامت پر فائز ہونے کے لئے آپ ایک اور عظیم امتحان سے بھی گزرے تھے”۔ (کتاب الھدایۃ ، ڈاکٹر عزیز اللہ نجیبؔ، ص 75 )

حضرت ابراہیم ؑکی اس شاندار قربانی سے بہت سی حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کو اللہ تعالیٰ نے آزمائیش کے بعد امامت کے عظیم عہدہ ٔجلیلہ پر فائز کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا  وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ  (2.124)

ترجمہ:اور وہ وقت یاد کرو جبکہ ابراہیم کے ربّ نے اُس کا امتحان لیا چند کلمات سے تو اس نے انہیں پورا کردیا تو خدا نے فرمایا کہ میں کہ میں تمہیں سب انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔

دوسری حقیقت یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے حضرت  اسماعیلؑ کوذبح کرتے وقت ہاتھ اور پاؤں باندھے تھے اور اسماعیلؑ بار بار یہ فرماتے تھے ۔ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ٘ (37.102)   

ترجمہ: بیٹے نے کہا  اے آبا جان! آپ کو جو حکم ہوا ہے آپ کیجئیے انشا اللہ آپ مجھکو صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔

غور کرنے کی بات ہے  کہ یہاں  نہ صرف باپ اور بیٹے کے درمیان ایک رشتہ ہے بلکہ ایک عظیم پیغمبر اور اس کے امتی کے درمیان ایک عہدو پیمان ہے ۔ اگر ایک پیغمبر اپنے ایک مرید سے اس کی جان کا نذرانہ بھی طلب فرمائے تو ہادیٔ برحق کی خوشنودی کی خاطر  مرید کو اپنی جان دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ یہ ہے ایمان اور عشق کی انتہا جس کا عملی مظاہرہ حضرت ابراہیمؑ نے اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل ؑکو قربان  کرکے پوری دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔

اس قربانی کا ایک راز یہ بھی ہے  کہ ہمیں اپنی اولاد کو یہ تعلیم دینی ہےکہ وہ ایاّمِ جوانی  ہی سے حضرت اسماعیل ؑ کی طرح اپنے ماں باپ کے تابعدار بنیں۔ اُن کا کہنا مانیں اور ان کے ہر امر پر لبیک کہیں۔اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ پہلے والدین اپنے بچوّں کو آوائلِ زندگی سے ہی دینی اور دنیوی دونوںمیدان  میں مکمل اور پختہ تربیت کے ساتھ عملی زندگی میں  قربانی کے لئے تیار کریں۔ تاکہ وہ بڑے ہوکر احترامِ انسانیت، رواداری، مساوات، عدل و انصاف اور بھائی چارہ جیسے اعلیٰ اصولوں پر عمل کرنے کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔

حضرت ابراہیمؑ کی اس قربانی میں اس حقیقت کوبھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملتِ ابراہیمی میں تکثریت ہے جس میں تمام اہلِ کتاب شامل ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل  ہے کہ ہمیں اسلام کے آفاقی اور عالمگیر اُصول پر قائم رہتے ہوئے تکثریت کا احترام کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی کا یہ فلسفہ ہمیں تکثریت پر عمل کرنے کی ہدایت کرتاہے کہ دوسروں کی ذات ،پات، رنگ نسل، ثقافت، زبان  اور مذہب کا احترام  کیا جائے، مہرو محبت کا ہاتھ بڑھاکر  غریب اور نادار لوگوں کی مددکی جائے ۔اور معاشرے کےامن اور اصلاح کے لئے  کوشش  کی جائے  کیونکہ قربانی کا یہ فلسفہ ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ  آج    ہم غریبوں کے دکھ درد میں شامل ہوں، ان کا سہارا بنیں اور ان کے تکالیف کو دور کریں۔ کیونکہ حضرت ابراہیمؑ کی زندگی تمام مسلمانوں کے لئے ایک نمونۂ عمل کی حیثیت رکھتی ہے جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے

 قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ۔ (60.4)

ترجمہ:بےشک تمہارے لئے ابراہیم اور ان لوگوں میں جو ان کے ساتھ تھے ایک بہترین نمونہ ہے۔

حضرت ابراہیمؑ کی زندگی ہمارے لئے اس لئے نمونہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیل ؑپر اللہ کی طرف سے جو آزمائشیں آئیں، جس قوت اور صبر و تحمل سے  آپ نے انہیں برداشت کیا ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی کی بشارت دے دی اور اُن دونوں کی قربانی کو ذبحِِ عظیم کا نام دے کر عالمِ اسلام کے لئے قیامت تک  کے لئےایک دستور ٹھہرایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی امتِ مسلمہ ان دو عظیم پیغمبروں کی اس قربانی کو  ہر عیدالاضحیٰ کے موقع پر ایک جانور ذبح کرکے  اپنے رشتہ داروں،ہمسایوں، نادار لوگوں، مسکینوں، مسافروں اور غریبوں میں تقسیم کرکے اس کی یاد تازہ کرتی ہے۔

مختصر یہ کہ آج ہماری دنیا  کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ چیلینچیز کا سامنا ہے ۔غربت افلاس، بڑھتی ہوئی بےروزگاری اور دیگر مسائل، انسانی زندگی کو اپنی گرفت میں لے چکی ہیں۔ اُس پر طرہ یہ کہ اس سال عالمِ دنیا میں کورونا کی وبا عروج کو پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی ذہنی، عقلی، علمی، سماجی، معاشی اور مذہبی طور پر متاثر ہے۔ کئی انسان اس وبا میں جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ کئی متاثر ہیں اور ہسپتالوں اور اپنے گھروں میں آئسولیٹ ہوکر موت و حیات کی کشمکش میں زندگی کی بازی لڑ رہے ہیں۔

ایسے حالات میں دینِ اسلام ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم عید الاضحی کے اس مبارک دن کے موقع پر ایسے نادار ، بےسہارا، غریب، ناتوان اور بےیارو مددگار لوگوں پر خصوصی طور پر توجہ دیں۔ تاکہ عید کی ان خوشیوں میں اُن کو بھی شامل کرکے دینِ ابراہیمی کے اس مقدس مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے خدا کی رضا حاصل کر سکیں۔کیا خوب فرمایا ہے الطاف حسین حالیؔ نے

یہی ہے  عبادت  یہی  دین و  ایمان

 کہ کام آئے دنیا میں انسان کے انسان


شیئر کریں: