Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عید الاضحی کے دوران کانگو وائرس کی چچڑ کے ذریعے انسان میں منتقلی سے بچنے کیلئے ہدایات

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) عید الاضحی کی آمد کے موقع پر اس تہوار سے منسلک جانوروں کی نقل و حمل اور خرید و فروخت کے تناظر میں اس اعلامیے کے ذریعے عوام الناس کو کانگو جیسی مہلک بیماری سے محتاط رہنے کی تلقین کی جاتی ہے۔کریمین کانگو ہیمو رجک بخار (سی سی ایچ ایف) چچڑیوں سے منتقل ہونے والا ایک وائرل مرض ہے۔ یہ وائرس ایک خاص قسم کے کیڑے (چچڑ) کے ذریعے پھیلتا ہے۔ جو جسامت میں جو ں سے بڑا ہوتا ہے۔ یہ کیڑا گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور اونٹ وغیرہ کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ یہ کیڑا /چچڑ اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور کو ذبح کرتے وقت انسان کو کٹ لگ جائے تو اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ وائر س انسان میں منتقل ہو جائے اور کانگو بیماری پھیل جائے۔ جانوروں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ وائرس صرف انسانوں میں بیماری پھیلاتا ہے جبکہ جانوروں میں اس مرض کی کوئی علامت رونما نہیں ہوتی۔اس لئے بچاوٗ اور احتیاطی تدابیر میں اس کیڑے چچڑ کو تلف کرنا سر فہرست ہے۔ کانگو بیماری اس لئے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ یہ نہ صرف وبائی صورت اختیار کر سکتی ہے بلکہ اسکی وجہ سے شرح اموات کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ اسکے بر عکس کانگو سے بچاوٗ اور علاج معالجے کی سہولیات بہت محدود ہیں۔


مقصد
جانور جو بظاہرصحتمند نظر آتے ہیں ان میں بعض اوقات ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو اپنے جراثیم انسانوں میں منتقل کر سکتے ہیں خاص طور پر اگر جانوروں کا احتیاط کے ساتھ نہ سنبھالا جائے۔ ان جراثیموں میں کانگو بخار کا وائرس بھی شامل ہے۔ اس ستاویز کا مقصد عید الاضحی کے موقع پر کانگو کے خلاف حفاظتی اقدامات سے متعلق عوام کی رہنمائی کرنا ہے۔


کانگو بخار سے کن لوگوں کو متاثر ہونے کا خطرہ ہے؟
۱۔چرواہا ۲۔قصاب ۳۔مویشی پالنے والے لوگ ۴۔ مویشیوں کے بیوپاری
۵۔زرعی کارکن،کسان ۶۔کانگو بخار سے متاثرہ مریض کے ساتھ قربت رکھنے والے کانگو بخار کی علامات
۱۔تیز بخار ۲۔جسم میں درد ۳۔منہ اور ناک سے خون بہنا ۴۔متلی اور قے
۵۔ جسم پر سرخ رنگ کے نشانات اور دھبے
جانوروں کیلئے کیڑے مار ادویات کا استعمال


جانوروں میں اس وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ یہ وائرس صرف انسانوں میں بیماری پھیلاتا ہے۔ جبکہ جانوروں میں اس مرض کی کوئی علامات رونما نہیں ہوتیں۔ مزید یہ کہ یہ کیڑے نہ صرف بہت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں بلکہ جانوروں کی کھال کے مختلف حصوں سے چپکے ہوتے ہیں لہذا کیڑے مار ادویات کے ذریعے اس کیڑے /چچڑ کو تلف کرنا ہی بہترین اور آزمودہ طریقہ ہے۔


مویشی منڈیوں میں جانور سے انسان کو کانگو لگنے سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر
جانوروں کے ساتھ عوام کا رابطہ سب سے زیادہ عید الاضحی کے موقع پر ہوتا ہے۔ جب عوام مویشی منڈی سے مویشیوں کی خریداری کیلئے یا قربانی کا گوشت کاٹنے یا بانٹنے میں مصروف ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس جان لیوا بیماری سے بچنے کیلئے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔


۱۔ مویشی منڈی جاتے وقت ایسا لبا س پہنیں جو جسم کے زیادہ حصے کو ڈھانپے تاکہ جسم کے کھلے حصے پر کانگو چچڑ کاٹ نہ سکے۔ مویشیوں کی خریداری، ان کی صفائی، نقل و حمل اور دیکھ بال کے وقت خاص طور پر مکمل آستینوں والی قمیص، دستانے اور پاوٗں تک ٹانگیں ڈھانپنے والی شلوار یا پتلوں پہنیں۔بہتر ہو گا کہ ایسے وقت میں شلوار کے پائخپے جرابوں کے اندر گھسا کر پاوٗں کو مکمل طور پر ڈھانپا جائے تاکہ کانگو /چچڑ کے چمٹنے کا خطرہ نہ رہے۔ یہ احتیاط اس لئے ضروری ہے کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال سے مختلف کیڑے مکوڑے اور کانگو/ چچڑ چپکے ہوتے ہیں جو انسان کا کاٹ سکتے ہیں۔اور کانگو کا باعث بن سکتے ہیں۔


۲۔ مویشی منڈی میں جانے سے پہلے جلد اور کپڑوں پر کانگو/ چچڑیوں، مچھروں اور کیڑے مکوڑوں سے بچاوٗ والے لوشن لگائیں۔


۳۔ کوشش کریں کہ مویشی منڈی میں جاتے وقت یا مویشیوں کی دیکھ بال کے دوران ہلکے رنگ (سفید، ہلکے نیلے وغیرہ رنگ) کے کپڑے پہنیں تاکہ ان پر کانگو کی موجودگی کو نمایاں طور سے دیکھا جا سکے اور انہیں تلف کیا جا سکے۔


4.مویشی منڈی میں مختاط رہیں اور کانگو/ چیچڑیوں کی موجودگی کے لیے اپنی جلد اور کپڑوں کا بار بار معائنہ کریں اگر کانگو چیچڑ موجود ہو تو اسے اختیاط سے تلف کریں۔


5.جسم یا کپڑے پر کانگو چیچڑ کی موجودگی کی صورت میں اسے ننگے ہاتھوں سے تلف نہ کریں.
6.اگر کانگو چیچڑ کو جسم یا کپڑوں سے ہٹانا مقصود ہو تو اپنی انگلیوں یا ہاتھ کا استعمال نہ کریں بلکہ کسی کپڑے یا کسی اور چیز سے جھاڑ دیں


7۔مویشی منڈیوں، ذبح خانوں اور جانوروں کے باڑے میں کانگو چیچڑ کے خاتمے کو یقینی بنائیں.

  1. بچوں کو مویشی منڈیوں میں نہ لے جایا جائے.
    9.ایسے علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں جہاں جانوروں میں کانگو چیچڑ کی بہتات ہو خاص کر ایسے موسم میں جب کانگو چیچڑ خوب پھلتے پھولتے ہیں۔
    قربانی کے دوران جانور سے انسان کو کانگو لگنے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
    1.جانوروں کی نقل وحمل صفائی ستھرائی طبی دیکھ بھال اور ذبح کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں.
    2.جانوروں کی کھال کو چھوتے وقت خاص احتیاط رکھیں اور دستانے پہنے بغیر نہ چھوئیں خواہ ذبح کرنے اور کھال اتارنے میں شریک ہوں یا پھر کھالوں کا کاروبار کرتے ہوں.
  2. جانوروں کے فضلے، اس سے اٹھنے والے تعفن اور بقایا جات کو اختیاط سے ٹھکانے لگائیں کیونکہ ان تمام میں بھی اس کی موجودگی کا خطرہ ہوتا ہے اور جلد میں موجود زخم کے ذریعے جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔
    4۔کوشش کریں کہ جب تک ذبح شدہ جانور کا خون جسم سے مکمل طور پر نہ بہہ جائے جانور پر مزید کارروائی نہ کریں.
    5ذبح خانوں کو صاف کریں اور چوہوں پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کی موجودگی کا تدارک کریں اس کے علاوہ پالتو جانوروں کو ذبح خانوں کے اندر داخل نہ ہونے دیں.
  3. کھال کی تیاری کے مراحل کو ذبح کئے گئے جانور سے دور فاصلے پر سرانجام دے.
    7.جانوروں کے فضلہ جات بقایاجات اور آلائشوں کو ندی نالوں اور ترسیل آب کی سہولتوں میں نہ پھینکیں بلکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مخصوص کردہ جگہوں پر ٹھکانے لگا دیں بصورت دیگر گڑھا کھود کر مٹی میں دبا دیں.
  4. اپنے ہاتھوں کی صفائی کا خاص خیال رکھیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ مرتبہ اور مجوزہ طریقے سے دھوئیں.
    9.ذبح کرنے کے لیے مختص جانوروں پر ذبح کرنے سے کم از کم دو ہفتے قبل کانگو چیچڑ کش ادویات استعمال کریں اور اس کے بعد ذبح ہونے کے وقت تک انہیں باقی جانوروں سے الگ تھلگ رکھیں.
    چیچڑوں سے بچاؤ کا طریقہ
    کانگو بخار کے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کے خطرے کو کم کریں اس بات کا یقین کریں کہ آپ چچڑیوں سے دور رہیں مکمل آستینوں والے کپڑے پہنیں تا کہ چچڑیوں کو دیکھ سکے اور شلوار پہنیں ہلکے رنگوں والے لباس پہن کر مویشی منڈی جائیں اگر آپ کو چچڑ نظر آئے تو آپ انہیں فوراً چمٹی کی مدد سے اپنے جسم سے اتار دیں۔
    چیچڑیوں کو اتارنے کا طریقہ
    چمٹی کی مدد سے چیچڑی کو جسم کے نزدیک سے پکڑے مستحکم دباؤکے ساتھ اوپر کی طرف کھینچیں چیچڑی کو نہ تو موڑیں اور نہ ہی جھٹکا لگائیں کیونکہ ایسا کرنے سے اس کے منہ کے حصے ٹوٹ کر جلد میں رہ سکتے ہیں اگر ایسا ہو جائے تو چمٹے کی مدد سے چیچڑی کے منہ کے حصے جلد سے باہر نکال دیں اگرچچڑ کے منہ کے حصے جلد سے نکالنا ناممکن ہو تو اسے جلد میں ہی رہنے دے اور جلد کے زخم کو بھرنے دیں.
    چچڑی کو جلدسے نکالنے کے بعد زخم والی جگہ اور اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح الکوحل یا صابن اور پانی کے ساتھ دھوئیں زندہ چچڑی کو پکڑ کر الکوحل میں ڈبوئیں یا کسی ڈبے میں ڈال کر مضبوطی سے بند کر دیں یا پھر بیت الخلا میں بہا دیں۔
    فالو اپ
    اگر آپ کو چچڑیاں اتارنے کے کچھ ہفتوں بعد بخار یا خارش ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کرے اور ڈاکٹر کوچچڑیوں کے کاٹنے کے متعلق تفصیلاً آگاہ کریں۔اگر جانوروں کے جسم پر چھڑیاں نظر آئیں تو چچڑی مار ادویات کا استعمال کریں یا پھر ویٹرنری ڈاکٹر سے رجوع کریں اپنے ہاتھ سے چیچڑیوں کو کچلنے سے آپ کو بیماری لگنے کا امکان ہے اسی طرح چیچڑیوں کے اوپر الکوحل کا استعمال کرنے سے اس کالعاب دہن باہر ا ٓجاتا ہے جو کانگو وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے لہٰذا ایسا کرنے سے اجتناب کریں
    ویسٹ منیجمنٹ/ فضلے کو ٹھکانے لگانا
    جانوروں کے فضلے کو مناسب جگہ پرپھینکیں مردہ جانوروں کو بلیچ کا استعمال کرنے کے بعد مناسب جگہ پر گڑھا کھود کر دبا ئیں مردہ جانور کو دفنانے کے بعد اپنے ہاتھ 20 سے 30 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے اچھی طرح دھوئیں تاکہ کوئی بھی جراثیم باقی نہ رہے۔
    انسان سے انسان کو کانگو لگنے سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر
  5. کانگو کے متاثرہ مریض سے جسمانی رابطے سے گریز کریں.
    2.کانگو کے متاثرہ مریض کی دیکھ بھال کے لئے دستانے اور دیگر حفاظتی لباس کا استعمال کیا جائے جس کے بعد باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں جائیں۔
  6. ہاتھوں پر ڈبل دستانوں کا استعمال کریں.
  7. کانگو سے بچاوٗکے لیے جانوروں اور انسانوں کے لیے کوئی ویکسین موجود نہیں.
  8. کانگو مریض کی موت کی صورت میں غسل دینے میں بہت احتیاط برتی جائے جیسا کہ مکمل آستینوں والی قمیص کا استعمال کریں.
    6.لاش پر ایسے بلیچ کا استعمال کیا جائے جس میں ایک نسبت 10 کے تناسب سے کلورین محلول شامل ہو اس کے بعد لاش کو ایسے کپڑے میں لپیٹا جائے جس پر بھی اسی محلول کا سپرے کیا گیا ہو.
  9. موتک لمبی والی شلوار پہنی جائے۔
  10. ربڑ کے بوٹوں کا استعمال کریں
    9.اگر سند یافتہ طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کپڑے کے لپیٹنے کے بعد پلاسٹک کے بڑے لفافے میں لاش کو بند کرنے کے بعد ہر لفافے کو ہر طرف سے سیل کر دیا جائے متاثرہ شخص کے بچے کچھے لباس وغیرہ کو جلا کر ضائع کر دیا جائے اور جس ایمبولینس گاڑی میں متاثرہ شخص کی لاش کو لے جایا گیا ہو اسے کیمیکل کی مدد سے انفیکشن سے پاک کیا جائے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیئر کریں: