Chitral Times

Nov 26, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سی پیک جے سی سی میٹنگ میں صوبے کے چھ میگاپراجیکٹس شامل کروائے گئے۔۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:


وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے سی پیک جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی )کے اجلاس میں صوبے کے چھ بڑے منصوبے سی پیک میں شامل کروائے گئے جن میں پشاور ڈی آئی خان موٹروے ، چشمہ رائٹ بینک لفٹ کینال، سوات موٹروے فیز ٹوکے علاوہ پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں ۔ جس کیلئے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کا تہہ دل سے مشکور ہوں ۔ گزشتہ وفاقی حکومت کے دور میںصوبے کے اتنے زیادہ منصوبے کبھی سی پیک میں شامل نہیں کئے گئے کیونکہ وفاق میں ہماری حکومت نہیں تھی اور گزشتہ وفاقی حکومت صوبے کے ساتھ نارواسلوک روارکھا تھا۔ سوات موٹروے فیز ٹو منصوبے کے حوالے سے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اُنہوںنے واضح کیا کہ کسی بھی دوسرے منصوبے کے فنڈز سوات موٹروے کو منتقل نہیں کئے گئے ہیںاور سی پیک کے کسی بھی منصوبے کے فنڈز کسی دوسرے منصوبے کو منتقل ہو ہی نہیں سکتے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ چکدرہ چترال سڑک منصوبے کے فنڈز کی سوات موٹروے فیز ٹو کو منتقل کرنے کی باتیں بے بنیاد ، حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہیں ۔


 وہ منگل کے روز سی پیک منصوبے کے تحت ہزارہ موٹروے کے حویلیاں – تھاکوٹ سیکشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ حویلیاں – تھاکوٹ موٹروے کا یہ منصوبہ 133 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا جس کی کل لمبائی 118 کلومیٹر ہے۔ یہ موٹروے حویلیاں، ایبٹ آباد، مانسہرہ، شنکیاری اور تھاکوٹ کو آپس میں ملاتی ہے۔ اس موٹروے کو علاقے کی ترقی و خوشحالی کے لئے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ یہ منصوبہ پورے علاقے کی ترقی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے علاقے میں سیاحتی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا ، روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے اور لوگوں کو آمدورفت کی معیاری سہولیات دستیاب ہو نگی۔ انہوں نے کہا کہ حویلیاں-تھاکوٹ موٹروے کی بروقت تکمیل کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر مراد سعید کو جاتا ہے جن کی ذاتی دلچسپی سے اس منصوبے کی بروقت تکمیل ممکن ہوئی ہے۔ ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کو سیاحت کے اہم علاقے قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ہر حال میں ان علاقوں میں ٹوارزم انفراسٹرکچر کو ترقی دے کر لوگوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ اس سلسلے میں ملاکنڈ ڈویژن کے سیاحتی مقامات تک رسائی کو آسان بنانے کے لئے رشکئی سے چکدرہ تک موٹروے کا منصوبہ مکمل کر لیا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں چکدرہ سے سوات تک موٹروے تعمیر کیا جائے گا۔ سی آر بی سی لفٹ کینال منصوبے کو صوبے کی زرعی خود کفالت کیلئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑ بنجر اراضی زیر کاشت آجائے گی اور صوبہ زرعی اجناس میں خود کفیل ہو جائے گا۔ محمود خان نے کہا کہ ماضی میں صوبے میں جتنے بھی وزرائے اعلی گزرے ہیں، انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں صرف اپنے آبائی حلقوں کو نوازا ہے جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں صوبے کے تمام علاقوں میں یکساں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کے سپاہی ہیں ان کے دور میں ترقیاتی منصوبوں میں کسی بھی علاقے کے ساتھ ذرا بھی نا انصافی نہیں ہوگی اور ضم شدہ قبائلی اضلاع سمیت صوبے کے تمام علاقوں کو یکساں ترقی دی جائے گی۔ اپوزیشن کی بلا جواز تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا جن لوگوں نے اسلام کے نام پر پانچ سال صوبے میں حکومت کی انہوں نے صوبے کی ترقی کے لئے کچھ کیا اور نہ ہی اسلام کے لئے بلکہ صرف اپنی جیبیں بھریںاور یہی وجہ ہے کہ آج صوبائی اسمبلی میں ان لوگوں کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور وہی لوگ ہم پر بلا جواز تنقید کر رہے ہیں۔ محمود خان نے اپوزیشن کو مخاطب کر کے کہا کہ گذشتہ وفاقی حکومت کے دور میں صوبے میں تین ائیر پورٹ بنانے کے بڑے اعلانات کئے گئے تھے لیکن آج صوبے میں وہ ائیر پورٹ کہیں بھی نظر نہیں آرہے ہیں۔ قبل ازیں وزیر اعلی نے تختی کی نقاب کشائی کرکے حویلیاں-تھاکوٹ موٹروے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو منصوبے کے مختلف پہلوو ¿ں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ہزارہ سے تعلق رکھنے والے منتخب عوامی نمائندوں اور عمائدین علاقہ کے علاوہ نیشنل ہائی اتھارٹی ، ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
<><><><><><><><>

وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور کے سبزہ زار میں پودا لگا کر صوبے میں مون سون شجرکاری مہم 2020 کا باضابطہ اجراءکیا

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور کے سبزہ زار میں پودا لگا کر صوبے میں مون سون شجرکاری مہم 2020 کا باضابطہ اجراءکیا ہے اور عوام سے کہا ہے کہ وہ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، درخت آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ ماحول کے ضامن ہیں ۔ خیبرپختونخوا کے وزیر جنگلات اشتیا ق ارمڑ ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ اورمحکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر شجرکاری کی ضرورت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ درخت قوم کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں ۔ بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی تغیر و تبدل اور گلوبل وارمنگ کے تناظر میں شجرکاری کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ہمیں ماحول پر بڑھتے ہوئے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کیلئے زیادہ سے زیادہ پودے لگانے ہوں گے ۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں وسیع پیمانے پر شجرکاری شروع دن سے صوبائی حکومت کے نمایاں اہداف میں شامل رہی ہے ۔

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پچھلے پانچ سالوں کے دوران ایک ارب پودے لگانے کا ہدف کامیابی سے پورا کر چکی ہے ، جس کو دُنیا بھر میں سراہا گیا ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ قومی سطح پر 10 بلین ٹری سونامی پراجیکٹ کے تحت صوبے میں مزید ایک ارب درخت لگائے جارہے ہیں۔ محمود خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالیں۔ صوبائی سطح پر شجرکاری کے مقررہ اہداف کے حصول کیلئے متعلقہ اداروں ، صوبائی محکموں ، سرکاری و نجی تنظیموں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے رواں پانچ سالوں کے دوران صوبے میں مزید ایک ارب پودے لگانے کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ ہم حسب سابق مقررہ وقت سے پہلے ہی مقرر ہ ہدف عبور کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جنگلات میں اضافے کی وجہ سے ماحول میں مثبت تبدیلی رونما ہو رہی ہے ۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ کو شجرکاری مہم کے تحت مقررہ اہداف اور صوبے میں کامیاب شجرکاری کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی کے حوالے سے بریفینگ بھی دی گئی اور بتایا گیا کہ ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ ، آئی یوسی این ، ورلڈ اکنامک فورم ، بون چیلنج اور دیگر قومی و بین الاقوامی تنظیموں نے شجرکاری کے حوالے سے صوبائی حکومت کے اقدامات اور کارناموں کو سراہا ہے ، جس پر صوبائی حکومت اور عوام مبارکباد کے مستحق ہیں۔ وسیع پیمانے پر شجرکاری کے ذریعے صوبے کے جنگلات کے مجموعی رقبہ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔
<><><><><


دریں اثنا وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سینئر صحافی عارف یوسفزئی کے گھر میں آتشزدگی کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے میں اُن کے بیٹے کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ یہاں سے جاری اپنے تعزیتی بیان میں وزیراعلیٰ نے متاثرہ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہا رکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غمزدہ خاندان کے دُکھ میں برابر کے شریک ہیںاور دُعا گو ہیں کہ اﷲ تعالیٰ متاثرہ خاندان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ عطا فرمائے ۔ وزیراعلیٰ نے واقعہ میںجھلسنے والی عارف یوسفزئی کی بیٹی کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دُعا کی ہے ۔
<><><><><>


شیئر کریں: