Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عیدالاضحی پر صفائی کے مسائل اور ہماری ذمہ داریاں….پروفیسرعبدالشکور شاہ

شیئر کریں:

دروازے کی گھنٹی بجی تو بچہ دروازہ کھولنے کے لیے گیا۔ ماں نے آواز دی بیٹا کون ہے؟ بچے نے جواب دیا ماں جی کوڑے والاآیا ہے۔ ماں نے بیٹے کو بلایا اور پیار سے سمجھایا بیٹا کوڑے والے تو ہم ہیں وہ تو کوڑا صاف کرنے والا ہے۔ماں کے اس جملے نے بچے کے رویے میں کتنی تبدیلی لائی اس کا ندازہ لگانا مشکل ہے۔ ہمیں بھی اس عید اپنے رویوں کو بدلنا ہے تاکہ یہ عید ہمارے ملک کی سب سے شاندار، صاف ستھری اور خوشیوں سے بھر پور عید ہو۔ یہ تہورا سعید ہمارے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔عید ہمیں غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے۔ عید الاضحی ہمیں قربانی کے علاوہ بھی بہت سارے درس دیتی ہے۔ ہم عید کے موقعہ پر قربانی کے علاوہ باقی سارے اسباق بھول کر گوشت سے گوشت تک محدود ہو جاتے ہیں۔ہمار ا دین ایک کامل دین ہے اور قربانی کے ساتھ ساتھ صفائی کا درس بھی دیتا ہے۔ حتی کہ یہاں تک فرمایا گیا ہے صفائی نصف ایمان ہے۔ عید سے پہلے ہی ہمارے گلی محلوں میں جانوروں کے فضلے کی بدبو شہریوں کے ناک میں دم کر دیتی ہے۔ جہاں ہم قربانی کے جانور کا خیال رکھتے ہیں وہاں ہمیں اپنے ارد گرد بسنے والے انسانوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ ہم ہزاروں لاکھوں روپے صرف کر کے جانور خریدتے ہیں اگرتھوڑے سے پیسے مزید خرچ کر کے قربانی سے پہلے انکو گلیوں میں باندھ کر سارے علاقے کو گوبرزدہ کرنے کے بجائے ہم انہیں کسی محفوظ جگہ پر باندھیں اور ان کی دیکھ بھا ل کا خیال رکھیں تو ہم زیادہ نیکیاں حاصل کرسکتے ہیں۔ اس ضمن میں حکومت کو کوئی ایسی جگہ مختص کرنی چاہیے جہاں پر لوگ قربانی سے پہلے کچھ پیسے ادا کر کے اپنے جانور رکھیں اور ان کی دیکھ بھال کا انتظام کریں۔ اس اقدام سے نہ صرف قربانی کرنے والوں کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھنے میں مدد ملے گی۔ گلی محلے میں موجود گندگی انسانی صحت کے لیے مضر ہونے کے ساتھ ساتھ اس عظیم تہوار کی خوشیوں کا بھی ماند کر دیتی ہے۔ ہم خود سجتے سنورتے، گھروں کو صاف کر تے، خوشبولگاتے، صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہم اپنی گلیوں محلوں میں صفائی کا خیال بھول جاتے ہیں۔ ہم اس تہوار پر سادگی اور میانہ روی کے اسلامی اصولوں کو بھی پس پشت ڈال کر مزے مزے کے کھانے پکاتے اور کھاتے ہیں جبکہ ہمارے گردونواع میں موجود بہت سارے لوگ بڑی مشکل سے گزر بسر کر تے ہیں۔ اگر ہم گوشت کے علاوہ باقی چیزوں کی قربانی بھی دیں تو کیا ہی بہتر ہو۔ ہم اضافی گوشت کسی غریب کو دینے کے بجائے فریج میں رکھ لیتے۔ عید کے دوران تقریبا ہر گھر کا فریج گوشت سے بھر جا تا ہے مگر ہم نے کبھی ان لوگوں کے بارے نہیں سوچا جن کے پاس فریج بھی نہیں ہے۔مجھے یاد ہے ایک حاجی صاحب نے ایک غریب کو بلا کر کہا جتنا گوشت چاہیے لے لو۔ پہلے تو وہ اسے مذاق سمجھا مگر جب اسے یقین دلایا گیا تو اس نے محض دو کلو کے قریب گوشت لیا۔ اس سے پوچھا گیا اتنا کم کیوں لیا تو بولا حاجی صاحب رکھوں گا کہاں فریج نہیں ہے خراب ہو جائے گا اس سے بہتر ہے کسی فریج والے کو دے دیں تا کہ ضائع نہ ہو۔ ہم اس کے برعکس چلتے اگر ہمارا فریزر بھر جائے تو پڑوسی کے فریزر میں جمع کر لیتے۔ہم سیخ کباب، کڑاہی، روسٹ وغیرہ سے لطف اندوز ہوتے اور ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی رہتے جن کو دو وقت کا کھانا دستیاب نہیں ہوتا۔ قربانی صرف گوشت کا نام نہیں ہے۔ہمیں عیدسے قبل اس با ت پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم کس طرح اپنے ماحول کا صاف ستھرا رکھ سکتے ہیں۔قربانی کے جانوروں کے لیے خریدا جانے والا چارہ جو جانوروں کے کھانے کے بعد بچ جاتا ہے ہم اپنا قربانی کا جانور سنبھالتے مگر وہ چارہ اور جانور کا گوبر گلیوں میں ہی پڑا رہتا جو ماحولیاتی آلودگی کا باعث بنتا۔ جانوروں کا چارہ عموما پلاسٹک کے شاپروں میں لا یاجا تا ہے اور یہ پلاسٹک کسی بیماری سے کم نہیں ہیں۔اگر ممکن ہو تو پلاسٹک کے شاپر استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ عید کے موقعہ پر خاندان پارکوں یا صحت افزاء مقامات کارخ کرتے ہیں۔ اگر چہ کرونا کی وجہ سے اس بار یہ منظروسیع سطح پر تو دیکھنے کو نہیں ملے گا، پھر بھی ہمیں پارکوں اور صحت افزاء مقامات کی صفائی کا خاص خیال رکھنا ہے۔ اگر ہم صحت افزاء مقامات اور پارکوں کو گنداکر دیں گے تو پھر ہم گھر سے باہر کہاں جائیں گے۔ ہماری ان چھوٹی چھوٹی لاپرواہیوں کی وجہ سے اس وقت دنیا کو ماحولیاتی آلودگی کے مسلے کا سامنا ہے۔ ہمیں اس تہوار پر اپنے رویوں کو بدلنا ہے اور ماحول دوست روش اختیا ر کرنی ہے۔ عید کی خوشیوں میں مگن ہم اپنے ماحول اور صفائی کو بھول جا تے ہیں۔ خوشی اورتفریح ہماری آنکھوں کو بند کر دیتی ہے۔عید سے کچھ دن پہلے جانوروں کی منڈیاں سج جاتیں ہیں۔ منڈیوں میں نہ تو صفائی کو کوئی نظام ہو تا ہے اور نہ ہی ایس او پیز پرعمل درآمد ہو تا ہے۔ منڈیوں میں جانور لانے والے اکثر صفائی کے ناقص نظام، پانی کی عدم دستیابی اور ناکافی سہولیات کی شکایات کر تے ہیں۔ عید کے بعدیہ منڈیاں گندگی اور غلاظت کا ڈھیر نظر آتیں ہیں۔ ان منڈیوں کے علاوہ شہر میں چلتی پھرتی منڈیوں کی بھی بھر مار نظر آتی۔ ہر چوک، ہر نکڑ اور ہر چوراہے پر افراد ٹولیوں کی شکل میں قربانی کے جانور لیے گھوم رہے ہوتے۔ یہ جہاں جاتے وہاں ماحول کو آلودہ کرتے جاتے۔ ان کا کوئی ایک ٹھکانہ نہیں ہوتا اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ان افراد پر پابندی لگائے اور منڈی کے علاوہ جانوروں کو فروخت کر نا غیر قانونی قرار دے۔ یہ گھومتی پھرتی منڈیاں ٹریفک کے نظام کو بھی درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ قربانی کے جانور چوری ہونے کے ڈرسے انہیں گھروں کے اندر یا باہر گلی میں باندھ دیے جاتے ہیں مگر ہم اس حقیقت سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں کہ اگر کسی بھی جانور کو کانگو وائرس ہوا تو یہ اس جانور سے انسانوں تک منتقل ہو سکتا ہے۔کانگو وائرس بہت خطرناک اور جان لیوا ہے۔ مگر اس سے بھی سنگین معاملہ قربانی کے جانوروں کو ذبح کرنے کا فریضہ انجام دینے کے بعد شرو ع ہو تا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں ذبح کیے جانے والے جانوروں کا خون ہم نالیوں میں بہادتے ہیں جو پانی کے زیر زمین زخیرے کے ساتھ شامل ہو کر ہماری صحت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی کے جانور یا تو ذبح خانے لے جا کر ذبح کر وائیں اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کم از کم جانور کا خون پانی کے ساتھ دھو کر نالیوں میں بہانے سے اجتناب کریں۔ قربانی کا جانور ذبح کر نے کے بعد ہم جانوروں کی آلائیشیں اور دیگر بے کار اجزاء کھلے عام پھینک دیتے ہیں جو تعفن کے ساتھ ساتھ بے شمار بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کے ان اشیاء کو خود پھینکنے کے بجائے حکومت کی مقرر کر دہ ٹیم کے حوالے کریں تا کہ وہ انہیں تلف کر دیں۔ کھلی جگہوں پر پھینکنے سے چوہیے، گدھ، کتے اور دیگر جانور اور پرندے ان کو کھاتے ہیں اور پھر ہمیں بہت سی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کچھ لوگ آلائیشوں کو اپنے قریبی کھلی جگہ یا کسی خالی پلاٹ میں پھینک دیتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ حکومت کی مقرر کر دہ ٹیم وہاں سے اٹھا لے جائے گی۔ ہمیں ایسا کرنے سے اجتناب کر نا ہے تبھی ہم اپنے ماحول کو آلودہ ہونے سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر غیر ملکی ممالک میں قربانی کا فریضہ انتہائی صاف ستھرے مقام پر بڑے منظم انداز میں ادا کیا جا تا ہے۔ مگر ہمارے ملک میں اس طرح کا تصور ابھی تک ناپید ہے۔ ہمارے ہاں نام نہاد موسمی قصائی بھی قربانی کے گوشت کا ستیاناس کر دیتے ہیں۔ بعض معاملات میں تو انہیں صحیح طریقے سے ذبح کر نا بھی نہیں آتا اور ان کی طہارت کے بارے بھی میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کے مالک قربانی کا جانور خود ذبح کرے۔ قصائی جانوروں کی کھال بھی خراب کر دیتے ہیں جس سے کھال لینے والوں کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عید کے بعد ہمارے ہاں وعید والا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ لوگ تو ان آلائیشوں کی بدھو سے اتنا متنفر ہو کر گوشت کھانے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ ہم اس ساری صورتحال کر تبدیل کر سکتے اگر ہم میں سے ہر کوئی ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔قربانی کے گوشت کو فریج میں کئی ہفتوں تک فریز رکھنے کے بعد کھانے سے بھی بہت سی بیماریاں لاحق ہو تی ہیں جن میں دل کے امراض، بلڈ پریشر، شوگر اور دیگر بیماریوں قابل ذکر ہیں۔صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں اپنی صحت کے ساتھ ماحول کو صاف رکھ کر دوسروں کی صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔ ملک کو صاف رکھنا صرف محکمہ صفائی کا کام نہیں ہے بلکہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہم سب کا ملک ہے۔


شیئر کریں: