Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وادی لاسپور کے عوام کی روایتی رسم غاری نیسک اور شندور….تحریر:عابد تقی

شیئر کریں:

غاری نیسک ( مال مویشیوں کو کچھ مہینوں کے لیے شندور لے کے جانا) وادی لاسپور کے عوام کی روایتی رسم ہے جو کہ انگریزوں کے دورِ حکومت سے لیکر اب تک جاری ہے ۔ جب یہ لوگ مال مویشیوں کو لے کر گرمائی چراگاہ شندور جاتے تو وہاں دو تین دنوں کے لیے تفریح کا موقع فراہم کرتے تھے جو پولو کھیل کی صورت میں ہوتا جسکا خرچہ عوام خود برداشت کرتے تھے۔


لاسپور کی مختلف پولو ٹیمیں اس ٹورنمنٹ کا حصہ ہوتے اور سیروسیاحت کے شوقین ، علاقائی نمائندے اور وادی غذر کے عوام بھی اس فیسٹول میں بحیثیت تماشائی شرکت کرتے تھے


ہر سال عوام شندور فسٹیول کا انعقاد غاری نیسک کے نام سے کرتے تھے جبکہ بعد میں غذر پولو ٹیم کو بھی کھیل کے لیے مدعو کیا گیا اور دونوں ٹیموں ( لاسپور اور غذر) کے درمیان پولو ٹورنامنٹ کی روایت نے جنم لیا جس کی وجہ سے شندور قومی اور بین الاقوامی سطح پر مقبول ہوتا گیا۔


اس سال موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر شندور فیسٹیول نہیں ہو سکا مگر علاقے کے لوگوں نے 32 سال بعد اپنی پرانی روایت کو محنت اور لگن کے ساتھ بے غیر کسی حکومتی تعاوں کے محدود انداز میں کرنے میں کامیاب ہوگیے۔

سب ڈویژن مستوج کی چار ٹیموں بشمول لاسپور پولو ٹیم نے پولو مقابلے میں حصہ لیا۔ فسٹیول کا انعقاد لاسپور پولو ایسوسی ایشن کے صدر سید ناصر علی شاہ پیرزادہ ،چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر اور کیپٹن شہزادہ اسکندرالملک کی بھر پور تعاون اور رہنمائی میں کر رہے تھے . اس فیسٹیول میں خاص مہمان کی حیثیت سے منسٹری اف فوڈ گلکت بلتستان کے سیکرٹری راجہ فضل خالق تشریف لائے تھے۔ ناصر علی شاہ پیرزادہ نے اپنے انتھک محنت اور غیر متزلزل اردے سے نہ صرف روایتی رسم کو دوبارہ بحال کیا بلکہ محدود انداز میں بڑے پیمانے پر سیروسیاحت کو فروخت دینے کی مثال قائم کی کہ انتظامی امور میں لاسپور کی شمولیت کس قدر اہمیت کے حامل ہے۔


اس فسٹیول کو کامیاب کرنے میں لاسپور کے عوام کا شہزادہ اسکندر کا، راجہ فضل خالق کا محمد وزیر، پریزیڈنٹ لوکل کونسل ذوالفقار کا اور تمام پولو پلئر کا ہاتھ ہے اور ائندہ بھی اس غاری نیسک کے رسم کو بر قرار رکھنے پر سب نے یکسو ہوکر حمایت کی۔


اخر میں ناصر علی شاہ پیرزادہ نے سب کا شکریہ ادا کیا اور انعامات تقسم کیے۔


شیئر کریں: