Chitral Times

Aug 9, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سنت ابراہیم علیہ السلام اور اس کی معراج …..محمدآمین

شیئر کریں:


دنیا میں کچھ ایسے واقعا ت ہوتے ہیں جنہیں تاریخ نے لازاول بنا دیا ہے اور قیامت تک انہیں تقدس اور احترام سے یاد کیا جائے گا۔ان واقعات میں ایک اہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کی وہ اہم قربانی ہے جس نے اپنے پیارے فرذند جناب اسماعیلؑ کو حکم الہی سے ذبح کرنے کی حکم کا دل و جان سے اطاعت بجالیا تھا تھا اور رب العزت آپ کی قربانی قبول فرماتے اس کی جگہ جنت سے ایک مینڈھا نازل فرمایا اور رب کریم کو یہ قربانی اتنا پیارا لگا کہ یہ رہتی دنیا تک جاودان بنا اور بہت سے اولعزم انبیاء آپ کے نسل سے منتخب ہوئے جس کی کڑی اخری نبی محمدﷺ تھا جو جناب اسماعیلؑ کی نسل پاک سے تھا۔


جناب ابراہیم ؑ کی پیدائش عراق میں ہوا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب مخلوق خدا مختلف توہمات اور کفر سے دوچار تھے ایک روایت کے مطابق آپ کے والد محترم کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ آذر اپ کا منہ بولا باپ تھا جبکہ دوسرے روایت کے مطابق آذر ہی اپ کا اصل باپ تھا جو بڑے بت خانے کا نگران تھا۔آپ کے قوم میں تین قسم کے لوگ موجود تھے یعنی ستارہ پرست،بت پرست اور شخصیت پرست۔ستارہ پرست لوگوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ستارے رب النوع میں زمین کی تمام مخلوقات کی زندگی کا انحصار ان کی شعاعوں کے اثرات اور ان کی چمک پر منحصر ہے اور اگر یہ نہ ہو تو تمام کارخانہ عالم درہم برہم ہوجائے گا انسانی زندگی پر ان کے مختلف اثرات ہوتے ہیں جس کسی سے یہ خوش ہوتے ہیں ان کو معاملات زندگی میں پوری کامیابی حاصل ہوتی ہیں۔اس عقیدے کے تحت ان لوگوں نے ساتوں سیارے کے نام سات ہیکل (مندر) تعمیر کیے تھے اور اپنے عقیدے کے مطابق ہر ستارے کی ایک مورتی بناکر ہیکل میں پوجا کرتے تھے،سب سے بڑا مندر زحل ستارے کا تھاجس سے قربان گاہ بھی کہتے تھے۔اس زمانے میں جن لوگوں کوزحل ستارے کی تقرب حاصل کرنا تھاوہ حمل کی حالت میں اپنے خواتین سے یہ منت مانگواتے تھے کہ بیٹا پیدا ہونے کی صورت میں وہ اسے مندر لاکر زحل کے سامنے زبح کرینگے۔چنانچہ جب بیٹا پیدا ہوتا توبارہ سال کی عمر کے بعد اسے قربانی کے لیے تیار کرکے خوب سجاتے اور بڑے جشن کے ساتھ اسے ہیکل لے جاکر ستارہ زحل کے سامنے زبح کیا کرتے۔ہیکل میں زحل کی گردن میں ایک خنجر لٹکا ہوتا تھا اور جب یہ بد نصیب لڑکا وہاں جاتا تو وہاں کی پجاری سنگ مر مر کی ایک سیل پر اسے لٹاتا اور اس متبرک خنجر سے اس کا گلہ کٹ دیتا اور نکلنے والی خون کو بڑی تبرک سمجھا جاتاتھا جیسے ہندو تلک لگاتے ہیں اور اس خون کو لوگ انگلی میں لگا کر اپنے ماتھے پر لگاتے تھے،یہ تھی اس زمانے کی رسم جن پر بے شمار لوگوں کی جانین بھنٹ چڑھ گئی۔


جناب ابراہیم علیہ الاسلام جب دین الہی کی تبلیغ کرتے اور لوگوں کو اللہ پاک کی واحدنیت کی تعلیم دیتے تو وہ لوگ یہ کہہ کر رد کردیتے کہ ہم اس دین کو کس طرح سچا دین مانتے جس میں انسانی قربانی روا نہیں۔ان حالات میں حضرت ابراہیم علیہ الاسلام سخت پریشان تھے کہ ان بد بخت لوگوں کو کس طرح راہ راست پر لے سکیں۔جب اس غورو فکر میں ایک رات سوئے تو خواب میں اپنے پیارے بیٹے جناب اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم سے زبح کرنے کا حکم ملا۔چنانچہ جب آپ یہ خواب اپنے بیٹے جناب اسماعیل کو بتادیا تو وہ خوشی سے کہا کہ بابا جان اللہ کے لیے اگر ہمیں ہزار جان بھی قربان کرنا پڑے تو تب بھی کچھ نہیں۔روایت میں اتا ہے کہ جب جناب ابراہیم اپنے بیٹے جناب اسماعیل کو لے کر منی جانے لگا اور قوم کو یہ خبر لگی کہ ابراہیمؑ نے ہمارا عقیدہ تسلیم کیا ہے تو اس قربانی کا تماشہ دیکھنے کے لیے وہ لوگ بھی مقام منی پہنچ گیے ان کے سامنے جناب اسماعیل کو لٹادیا گیا چھری گردن پر رکھ دی گئی اور جب چلی تو مینڈھے کی گردن پر اور جانب اسماعیلؑ صحیح سالم ان کے پہلو میں کھڑا تھا اور یہ ہوتا ہے رب کا اپنے مخصوص بندون سے احساں،جیسا کہ ارشاد تعا لی ہے؛


جب آذر نے ابراہیم ؑ کو نکال دیا تو انہوں نے فرمایااچھاتو میں اپنی رب کی طرف جا رہا ہوں وہ مجھے درست راستے پر لگا دے گا (پھر خدا سے دعا کی)پالنے والے مجھے ایک نیکوکار بیٹا عطا کر۔پس ہم نے انہیں ایک بردباد لڑکے کی (ولادت) کی خوشخبری دی جب اسماعیل اپنے باپ کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے لگا تو ابراہیم نے (اسماعیل سے)کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے میں تجھے زبح کر رہا ہوں پس تمہاری اس معاملے میں کیا رائے ہے انہوں نے کہا اباجان جو حکم اپ کو دیا گیا ہے اس ے بجا لائے آپ انشاء اللہ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔پس انہوں نے جب یہ ٹھاں لی انہیں ماتھے کے بل لٹایا۔ہم نے ندا دیااے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کر دیکھایا،ہم نیکی کرنے والوں کو یوں ہی جزا دیتے ہیں اس میں شک نہیں یہ بڑی ازمائیش تھی ہم نے اس کا فدیہ ایک زبح عظیم کو قرار دیا اور ہم نے اس کا چرچا بعد میں انے والوں میں باقی رکھاابراہیم پر سلام ہو ہم نیکی کرنے والوں کو ایسے ہی بدلہ دیتے ہیں،وہ ہمارے نیک بندوں میں سے تھا ۔


موقع پر موجود لوگ یہ حال دیکھ کر حیرت میں اگئی اور یہ ہدایت کرنے کا موقع تھا۔آپ نے اپنے قوم کے لوگوں سے فرمایا کہ اے قوم:سمجھ لو کہ اگر خدا کو کسی انسان کی قربانی کی ضرورت تھی تو میرے بیٹے سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی تھی اور اس کا بچانا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ انسان کی قربانی کو جائز قرار نہیں دیتا چونکہ قوم کے سربراوردہ لوگوں نے یہ واقعہ اپنی انکھوں سے دیکھے تھے لہذا اپنے عقیدے کو باطل سمجھ کر ائیندہ اس بدتریں رسم سے پرہیز کرنے لگے اور اس کے بعد کوئی بھی بچہ ہیکل میں زبح نہیں ہو سکیں اور اس فعل بد سے ہزاروں جانیں بچ گئے۔لہذا قدرت کو یہ منظور ہوا کہ اس اہم واقعے کی یادگار قیامت تک کے لیے قائم کر دی جائے اور ہر سال دنیا کے مسلمان اس یاد کو بڑی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں۔پس یہ قربانی اس عمل کی یاد گار تھی جو نوع انسان پر بہت بڑا ظلم تھا اور قرآن فرماتا ہے کہ ابراہیم نے اپنا خواب سچا کر دیکھایا۔اس اہم قربانی کا معراج جناب خاتم انبیاء محمد مصطفی ﷺکی ذات اقدس پر ہوا جب 680؁ء میں آپکے چہتے نواسے جناب امام حسین ؑ نے مقام کربلہ میں اپنے بہتیر آہل بیت اور اصحاب کے ساتھ ظلم کے خلاف لڑتے شہید ہوئے۔ان دونوں قربانیوں میں نمایاں اشتراک ظلم کو مٹانا اور حق کا پرچار تھااور دونوں قیامت تک زندہ رہیں گے۔


شیئر کریں: