Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاش ویلی کی گرمائی چراگاہ سے ایک سو پچاس سے ذائد بکریوں کے ساتھ چرواہا بھی اغوا

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے کالاش وادیوں سے متصل افغان علاقہ نورستان سے نامعلوم افراد نے منگل کی شب بمبوریت کے چراگاہ پر دھاوا بول کر بکریاں ہانک کر سرحد پار لے گئے جبکہ جاتے ہوئے ریوڑ کی نگرانی پر مامور چرواہے کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پاک افغان بارڈر کے قریب چھوڑ گئے۔ ڈی پی او چترال عبدالحئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ بکریوں کی تعداد ایک سو پچاس کے لگ بھگ تھی جبکہ چرواہا خیروعافیت سے اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مقامی لوگوں کو اس سے قبل وارننگ جاری کی گئی تھی کہ وہ پاک افغان بارڈر کے قریب چراگاہ میں بکریاں چرانے سے باز رہیں جہاں سے ان پر افغان علاقے سے با اسانی حملہ ہوتا رہا ہے۔ چترال میں گرمیوں کے موسم میں جب مال مویشی گرمائی چراگاہوں میں ہوتے ہیں۔ تو اکثر اوقات مال مویشیوں کی چوری اور اغوا کی وارداتیں ہوتی ہیں۔ چار سال پہلے آٹھ جولائی کے دن سینکڑوں مال مویشیاں چوری کی گئیں۔ اور کالاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چرواہوں کو پہلے اغوا اور پھرقتل کیاگیا تھا۔ حالیہ اغواکاروں کی گرفتاری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے نورستان سے تعلق رکھنے والے چند بدقماش عناصر کی کارستانی قرار دی۔ انہوں نے کہاکہ کالاش وادی کے عوام کا نورستان کے عوام کے ساتھ ہمیشہ سے اچھے اور دوستانہ تعلق رہا ہے اور ایسے واقعات سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ نورستان کے معززین چترال سے جانے والی جرگہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بکریوں کی واپسی کو یقینی بنائیں گے۔


شیئر کریں: