Chitral Times

Jan 23, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا تولیدی صحت کے حقوق کی ایکٹ 2020 کی منظوری دیدی گئی

شیئر کریں:

یہ ایکٹ پورے صوبے میں فی الفور نافذالعمل ہوگا۔اس ایکٹ کے تحت میاں بیوی کو بچے پیدا کرنے کی تعداد اور وقفہ کرنے کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔۔احمد حسین شاہ

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے منگل کے روز صوبے میں تولیدی صحت کی سہولیات کی فراہمی اور تولیدی صحت کے حقوق کے فروغ کے لئے خیبر پختون خوا تولیدی صحت کے حقوق کے ایکٹ 2020 کی منظوری دے دی ہے۔یہ ایکٹ پورے صوبے میں نافذ ہوگا۔اور یہ فی الفور نافذالعمل ہوگا۔ وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی احمدحسین شاہ نے صوبائی اسمبلی میں یہ ایکٹ پیش کیا جسے منظور کیا گیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ اس ایکٹ کے تحت میاں بیوی کو بچے پیدا کرنے کی تعداد اور وقفہ کرنے کا آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔ خواتین کو حمل یا زچگی کے دوران سماجی،گھریلو یا ملازمت کے دوران بلا امتیاز حق دیا گیا ہے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ نسل، رنگ، جنس، مسلک یا کسی دوسرے امتیازی سلوک کی بنیاد پر خدمات اور معلومات میں کوئی کسی بھی فرد تولیدی زندگی میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کرے۔ معاون خصوصی نے مزید کہا کہ نصاب میں تولیدی صحت سے متعلق ثانوی اور اعلی تعلیم میں مضامین لازمی قرار دینے سمیت خواتین کو قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ انہیں جنس کی بنیاد پر حمل ضائع کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔ ہیلتھ کئیر سروسز میں خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کو یقینی بنایا جائیگا جبکہ والدین کو معیاری خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق مختصر، طویل اور مستقل دورانیہ سے متعلق طریقے اور معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اسکے علاوہ محکمہ بہبود ابادی مضر صحت مانع حمل اشیاء و ادویات کی ٹیسٹنگ اور ذخیرہ کرنے، چاہے ملکی یا بین القوامی کمپنیاں ہوں، کی روک تھام کے لئے سخت اقدامات اٹھائے گا۔ ایکٹ کے مطابق کسی بھی شخص اور تنظیم کو خاندانی منصوبہ بندی یا تولیدی صحت کی خدمات فراہم کرنے اور اشتہار دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایکٹ کے مقاصد کے حصول کے لئے انسپکٹرز کی تعیناتی عمل میں لائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ پرائیوٹ سیکٹر میں تولیدی صحت سے متعلق کام کرنے والے تمام اداروں کے لئے رجسٹریشن سے پہلے این او سی کی شرط لازمی ہوگی جو بل کی منظوری کے بعد دو ماہ کے اندر اندر ایسے تمام اداروں کے لئے این او سی حاصل کرنا ہوگا بصورت دیگر متعلقہ اداروں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائیگی۔


شیئر کریں: