Chitral Times

Sep 30, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چکدرہ چترال ایکسپریس وے کو منصوبے سے نکالنا دیر چترال کے ترقی کو روکنا ہے۔ عنایت اللہ

شیئر کریں:

دیر چترال کو دوبارہ ایکسپریس ووے میں شامل کرانے کے لیے ہرفورم پر آواز بلند کریں گے اور ہر آپشن استعمال کریں گے۔


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) نائب امیر جماعت اسلامی و ممبرصوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا عنایت اللہ خان نے کہا ہے کہ دیر چترال کو ایکسپریس ووے میں دوبارہ شامل کرانے کے لیے دیر چترا ل میں تحریک چلائیں گے۔ قومی اسمبلی ممبران صوبائی اے ڈی پی کے بجائے قومی اسمبلی کے پبلک سیکٹر ڈیوپلمنٹ پروگرام سے دیر کے لیے منصوبے منظور کرائے۔ قومی اسمبلی میں دیر چترال ایکسپریس ووے کے لیے آواز اٹھائیں۔

صوبائی حکو مت نے لڑم غر کی فزیبلیٹی پہلے تیار کی تھی اب دیر چترال کو ایکسپریس ووے سے نکالنا دیر کے عوام کے ساتھ زیادتی اور دیر چترال کو ترقی سے محروم کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے لیے اسمبلی کے اندر اور باہر ہر فورم پر آواز بلند کریں گے اور ہر آپشن استعمال کریں گے۔ وہ دیر بالا میں مختلف اجتماعات سے خطاب کر رہے تھے۔ اجتماعات سے سابق ممبر قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ، سابق ضلع ناظم صاحبزادہ فصیح اللہ اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔

عنایت اللہ خان نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہی رووٹ شندور گلگت کے راستے چین تک اور سنٹرل ایشیاء تک جا کر علاقے کے لیے ترقی وخوشحالی کا راستہ ہے۔ اس سے سیاحت کو فروغ ملے گا علاقے کے عوام کوروزگار ملے گا۔ چکدرہ تا چترال اور چترال تا گلگت ایکسپریس ووے کا خاتمہ کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کے پراجیکٹس کی بندش ان علاقوں کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔دیر اور چترال کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے دیں گے اور نہ ان کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ کریں گے۔ ان علاقوں کے عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے اور ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے۔ایک بیان میں عنایت اللہ خان نے کہاکہ مستقبل میں یہ رووٹ سنٹرل ایشیاء تک سب سے آسان اور مختصر راستہ ہوگا جس سے نہ صرف اس علاقے میں سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار کے مواقعے بھی بڑھے گا۔ انہوں نے کہاکہ سوات ملاکنڈ کے ماتھے کا جھومر ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ سوات ترقی یافتہ ہو لیکن دیر اور چترال کے عوام کو بھی ان کے حقوق سے محروم نہ کیاجائے۔ جماعت اسلامی دیر کو نظرانداز نہیں ہونے دے گے اور دیر کے عوام کے حقوق کے حصول کے لیے ہر آپشن استعمال کریں گے۔


شیئر کریں: