Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہماری درسی کتب میں کشمیر بھارت کے نقشے پر ۔۔۔۔۔پروفیسر عبدالشکور شاہ

شیئر کریں:

کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔اس بات میں نہ پہلے کوئی شک تھا نہ اب ہے۔ کشمیری دہائیوں سے آزادی کے لیے غاصب بھارت کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔کشمیر دنیاکی سب سے بڑی جیل بنادی گئی ہے۔ عالمی طاقتیں بشمول مسلم ممالک اس پر چپ سادھے ہوئے ہیں۔موم بتی مافیا اور دنیا میں امن کے دعویداروں کو کشمیر میں بہتا ہو ا خون کیوں نظر نہیں آتا۔ کشمیری پاکستان کا پرچم سر پر باندھ کر بھارتی فوج کی گولیوں سے چھلنی ہوتے، ہمارے بچوں کو بیلٹ گن سے اندھا کر دیا جاتا ہے۔ ہماری خواتین کی عصمت دری کی جاتی ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کوماورائے آئین اغواء کر کے قتل کیا جا رہا ہے۔ ہزاروں کشمیری لا پتہ ہیں۔ کشمیری پھر بھی کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔

دوسری جانب ہماری 100 سے زیادہ کتب میں کشمیر کو بھارتی نقشے پر دکھانا آزادی کشمیر اور کشمیریوں کی لاکھوں قربانیوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستانی پبلشرز کی شائع کر دہ کتابوں میں کشمیر کو بھارت کے نقشے پر دکھایا جائے۔ حکومت پاکستان نے نوٹس لیتے ہوئے ان کتابوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے مگر کشمیریوں کے لیے یہ اقدام تسلی بخش نہیں ہے۔ کشمیر کو بھارتی نقشے پر دکھائے جانے کی مزموم حرکت نے کشمیریوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔ نہ صرف کشمیر کو بھارت کے نقشے پر دکھایا گیا ہے بلکہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح اور مفکر پاکستان جناب علامہ محمد اقبال کی تاریخ پیدائش بھی غلط درج کی گئی ہے۔ یہ محض ایک غلطی نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ میں بذات خود عرصہ 20سال سے درسی کتب کی تصنیف و تالیف سے وابستہ ہوں۔ میں ذاتی طور پر اس معاملے پر حیرت زدہ ہوں۔ کسی بھی کتاب کا مسودہ لکھنے کے بعد اسے کم از کم دو بار ایڈیٹ کیا جا تا ہے۔

انٹرنل ایڈیٹر کے علاوہ ایکسٹرنل ایڈیٹر بھی ایڈیٹ کر تا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم دو بار یہ مسودہ پروف ریڈ کیا جاتا ہے۔ حتی کے کمپوزنگ کرنے والا عملہ بھی کم از کم انٹرمیڈیٹ یا بی اے پاس ہو تا ہے۔ کمپوزرز کا وسیع تجربہ ہوتا ہے اور وہ کئی سالوں سے یہ چیزیں لکھ رہے ہوتے ہیں۔ مان بھی لیا جائے کے ان کی نظر دھوکا کھا گئی تو تین بار ایڈیٹنگ اور دو تین بار پروف ریڈینگ کر نے والوں کو بھی یہ نظر نہیں آیا۔ ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کے لیے انتہائی ماہر اور تجربہ کار پرفیسرزکو منتخب کیا جا تا ہے جو عرصہ دراز سے اس شعبے سے نہ صرف منسلک ہو تے ہیں بلکہ اس شعبے کے بڑے نامی گرامی لوگ ہو تے ہیں۔ میرے لیے یہ بات انتہائی تکلیف دہ اور باعث حیرت و تعجب ہے کہ اتنے پڑھے لکھے، تجربہ کار لوگوں کے قلم سے اتنی بڑی غلطیاں کیسے بچ نکلیں۔ جب قلم بک جاتا ہے پھر وہ اندھا ہو جا تا ہے۔

جن افراد نے دانستہ طور پر نظریہ پاکستان اور مسلہ کشمیر کو بدلنے کی کوشش کی ہے وہ اپنے تدریسی اداروں میں ہزاروں طلبہ کو نظریہ پاکستان اور مسلہ کشمیر پر گمراہ کرنے کے مرتکب ہیں۔ پرائیویٹ پبلشرز تو مسودے کی بال کی کھال اتارواتے ہیں۔ میں بذات خود ایڈیٹنگ اور پروف ریڈینگ کا کام سرانجام دیتا ہوں اور عموما میرے پاس دوسرا یا تیسرا مسودہ بھیجا جا تا ہے۔ پبلشرز بھی انتہائی احتیاط سے کام لیتے ہیں اور بعض معاملات میں باضابطہ طور پر اشٹام پیپرپر معاہدہ طے پاتا ہے۔ ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جب بھی کوئی ادارہ کسی کتاب کو اپنے سلیبس کا حصہ بنانا چاہتا ہے تو اس ادارے کا اپنا کریکولم بورڈ ہوتا ہے جو کتاب کو فائنل کرنے کے بعد ہی کتاب اپنے سلیبس کا حصہ بناتا ہے۔

یہ بات بھی حیرت سے کم نہیں ہے کہ جن اداروں نے ایسی کتب کو اپنے درسی سلیبس میں شامل کیا انہوں نے کتاب کا بغور مطالعہ کیے بغیر ہی کتاب شامل کر لی یا بھاری رشوت کے عوض ایسا کیا۔ کوئی بھی کتاب سرکاری بورڈ ممبران سے منظوری کے بغیر شائع نہیں ہوتی۔ پھر یہ کتب کیسے شائع ہو گئیں؟نقشے عمومی طور پر کمپوزرز کے پاس بنے بنائے ان کے کمپیوٹر میں موجود ہوتے یا کتاب کے اندر اگر مواد تبدیل کر نا ہو تو عمومی طور پر گراف اور نقشتے تبدیل کرنے کا امکان ایک فیصد ہوتا ہے۔یہ سارا کام سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کو محض اتفاق سمجھنا آبیل مجھے مار والا حساب ہو گا۔

اس سے پہلے بھی درستی کتب میں مذہبی معاملات کو چھیڑا جا چکا ہے۔ اگر ہم نے اس پر کوئی ٹھوس اقدامات نہ کیے تو ہمارے آنے والی نسل نظریہ پاکستان کے ساتھ ساتھ بہت ساری تاریخی حقائق سے محروم کر دی جائے گی۔ جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی۔ نظریاتی، ثقافتی،ادبی، اعتقاداتی، مذہبی جنگیں قلم کے زریعے لڑی بھی جاتی اور ان کا دفاع بھی کیا جا تا ہے۔ بھارت سرحدی خلاف ورزیوں پر منہ کی کھانے کے بعد اب علمی، ادبی اور نظریاتی جنگوں میں کود پڑا ہے۔ ہمارے پڑھے لکھے طبقے میں بھی بھارت کلبھوشن یادیو شامل کر چکا ہے جو ہماری نئی نسل کو نظریاتی محاذ پر شکست دینے کے اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہونے کی کوششوں میں مگن ہیں۔

زرا سوچئیے، کریکولم کی ایک کتاب کی کم از کم ایک ہزار کاپیاں شائع ہوتیں ہیں۔ اگرمانگ بڑھ جائے تو یہ تعداد کئی گنا زیادہ کر دی جاتی ہے۔ ایک سو کتابوں کو ایک ہزار کے ساتھ ضرب دیں اور ان کی مانگ کا اندازہ بھی لگائیں تو زرا غور کریں لاکھوں نونہالوں کو نظریاتی طور پر یتیم کرنے کی یہ منصوبہ بندی کتنی گناؤنی ہے۔ یہ سلسلہ رکنا نہیں تھا، یہ نقشہ اور غلط تواریخ نسل در نسل ایسے ہی چلنی تھیں۔ حکومت ان پبلشرز پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ کتب کے مصنفین، ایڈیٹرز، پروف ریڈرز، کمپوزرز، مارکیٹنگ عملے، ایڈمن سب کو تحویل میں لے کر شفاف تفتیش کر ے تا کہ بھارت نوازلوگوں کو بے نقاب کیا جا سکے اور ہم اپنی پڑھی لکھی صفوں سے بھی قلمی کلبھوشن یادیو ز کوپکڑ کر کیفر کردار تک پہنچائیں۔

حکومت آزاد کشمیر کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی کشمیر کو 100کتب میں بھارتی نقشے پر دکھائے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے اور کشمیریوں کی قربانیوں کو ایسے ضائع ہونے سے بچائے۔ بھارت اور پاکستان مخالف قوتیں ایک بار پھر سے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کروانے لگ گئی ہیں۔ خود کش حملوں کے ساتھ پاکستان مخالف طاقتوں نے پاکستان کی نظریات اور اعتقادات پر بھی حملے کرنے شروع کر دیے ہیں۔ ہمیں ان تمام سازشوں کے خلاف متحد ہو کر لڑنا ہے۔ 


شیئر کریں: