Chitral Times

Apr 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کمراٹ مداکلشٹ چئیر لفٹ منصوبہ! ضرورت یا پاگل پن؟ …. اقبال ابوعاطف بیگال

شیئر کریں:

سیاحت کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلی محمود نے انکشاف کیا کہ کمراٹ دیر اپر سے مداکلشٹ لوئر چترال تک سیاحوں کی سہولت کے لئے دنیا کی بلند ترین پلس طویل ترین چئیرلفٹ نصب کرنے کا ارادہ ہے جس کا پی سی ون تیار کیا جارہا ہے اور اس پر 32 ارب روپئے کا تخمینہ لاگت ہے.

قارئین!منصوبے کے جزیات اسی طرح مبہم ہیں جس طرح بی آر ٹی کے جزیات کو مبہم رکھا گیا تھا. اس پر چترالی زبان کی ایک کہاوت یاد آگئی ” کڑاکا پائیو پو نکی شیتو کورار گوئی” مطب؟ یوں سمجھئیے کہ بکریوں کے ریوڑ کا دور دور تک نام ونشان نہیں تو لسی مکھن کہاں سے آئے.بابا جی! آپ کے بجٹ میں دیر چترال شاہراہ کی توسیع و مرمت کے لئے پیسے نہیں ہیں تو چئیر لفٹ جیسے میگا پراجیکٹ کے لئے پیسے کہاں سے آئیں گے؟خیر…… لمبی چھوڑ نا اب پی ٹی آئی کے عام ورکر سے لیکر اعلی قیادت تک سب کا مرغوب مشغلہ بن چکا ہے ….. چئیر لفٹ لگائیں بلکہ سو دفعہ لگائیں مگر پہلے سیاحوں کو کمراٹ اور مداکلشٹ تک پہنچانے کے لئے “سڑک” تو بنائیں…سیاح ہوا کے دوش کے ساتھ کمراٹ  پہنچنے سے تو رہے…..

اپنے بیانیوں سے یو ٹرن,  اپنی تھو چاٹ کر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے ورزاء کی جھک ہنسائی کو رکھیں ایک طرف . اب ان کے عقل وخرد پر بھی ترس آنے لگا ہے.چکدرہ چترال اور چترال شندور شاہراہ کھنڈات کا منظر پیش کر رہا ہے اس پر ستم یہ کہ اس روڈ کو آپ سی پیک سے بھی بہ یک جنبش قلم نکال دیا ہوا ہے.. لواری ٹنل اپروچ روڈ فنڈز کی محدود فراہمی کے باعث سست روی کا شکار ہے. اور آج کی اخباری خبر کے مطابق لواری ٹنل الیکٹرونیکل الات کی عدم فراہمی کی وجہ سے اب بھی باقاعدہ آپریشنل نہیں ہے. سینٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ٹنل کو باقاعدہ آپریشنل بنانے کے لئے مزید 46 ارب روپے درکار ہیں.دیر کمراٹ روڈ. تیمرگرہ شاہی براول روڈ ,  دروش مداکلشٹ روڈ, چترال بمبوریت روڈ, چترال لوٹکہو روڈ, چترال بونی, بونی مستوج ,مستوج شندور اور بونی تورکہو روڈز گزشتہ کئ سالوں سے آپ کی ترجیحات کے منتظر ہیں.

صحت کے حوالے سے ڈکٹرز  اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ‘ دروش تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال,  ڈی ایج کیو لوئر اور اپر چترال بھی منصف اعلی کے نظر التفات کی راہ تک رہے ہیں ………ایسے میں آپ کی طرف سے 32 ارب روپے 8500 فٹ بلند برفیلے چوٹیوں میں جونھکنا آپ اور آپ کے منصوبہ سازوں کے پاگل پن کی دلیل ہے یا پھر “ملم جبہ چئیر لفٹ” اور “بی آر ٹی” کی طرح کرپشن کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا منصوبہ ہے.

حضور!آپ واقعی میں دیر چترال کے عوام اور وہاں آنے والے سیاحوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو ان 32 ارب روپوں سے وہاں کی کھنڈر سڑکوں کو بحال کجئیے وہاں کے ہسپتالوں اپ گریڈ کریں…..پھر بیشک جہاں چئیر لفٹ بنانا چاہیں  بنائیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا…..


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامین
38096