Chitral Times

Feb 7, 2023

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اسلام آباد اور ہندو مندر‎۔۔۔۔فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

دارالافتاء بنوری ٹاؤن کا ایک فتویٰ موجود ہے. جس میں حالیہ اسلام آباد مندر بننے کے حوالے سے واضح حکم موجود ہے. پہلے مجھے حیرانگی ہوئی کہ بھلا کیوں ایک مندر بننے کے معاملے کو اتنا پیچیدہ بنایا جارہا ہے. حالانکہ میرا اپنا زاتی تجربہ رہا ہے کہ آج سے دس بارہ سال پہلے تک جنوبی کوریا کے ایک ڈسٹرکٹ کے اندر شاید ایک مسجد ہوا کرتا تھا. وہاں بھی مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہونے کے باوجود آج کے دن گر آپ دیکھیں تو آپ کو سینکڑوں مساجد ایک ہی علاقے میں ملیں گے. ان لوگوں نے کھبی اس چیز کو اشو نہیں بنایا تو ھمیں کیوں ایک مندر بننے پہ اعتراض ہے. لیکن بعد میں جب غور سے اہل علم کو سنا تو لگا کہ واقعی اعتراض بنتا ہے. کیونکہ ھمیں کفرو شرک کی اشاعت و تشہیر اور تقویت بخشی جیسے کاموں سے کوسوں دور رہنے کی تلقین موجود ہے. ایسے معاملات میں مددو نصرت یقیناً اس حکم خداوندی کی خلاف ورزی سمجھی جائیگی. فتویٰ کے متن کا خلاصہ کچھ یوں ہے. 

کہ دارالسلام میں تین قسم کے علاقے ہوتے ہیں:1 ایک وہ شہر جسے مسلمانوں ہی نے آباد کیا ہو اس لئے وہاں مسلمان ہی قیام پذیر ہوتے ہیں وہاں غیر مسلموں کو عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔- دوسرے جو علاقے مسلمانوں نے بزور طاقت فتح کئے ہوں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم ہو گئے ہوں وہ مسلمانوں کا شہر بن گیا ہو وہاں بھی غیر مسلموں کو نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا ممنوع ہو گا اگرلیکن اور وہاں غیر مسلموں کی کافی آبادی ہو جائے اور ان لوگوں کو وہاں کی شہریت بھی حاصل ہو جائے تو پھر انہیں نئی عبادت گاہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔3 تیسرے وہ علاقے جو صلح کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں اور معاہدے کے تحت وہاں کی اراضی کو قدیم آبادی کی ملکیت کا تصور کیا جاتا ہو وہاں انہیں نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق حاصل ہو گا۔ نیز جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہوں وہ نہ صرف باقی رہیں گی بلکہ وہ گر جائیں یا مرمت طلب ہو جائیں تو ان کے لئے دوبارہ تعمیر بھی جائز ہو گی۔ 

اسلام آباد کا مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ اسلام آباد میں اول تو ہندوﺅں کی زیادہ آبادی نہیں ہے۔ یہ شہر ایوب خان کے دور میں یحییٰ خان کی نگرانی میں بنا تھا ۔یہاں زمانہ قدیم سے رہنے والے ہندو موجود نہیں۔ ہاں وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے اور غیر ملکی سفارتی دفاتر اور ان کے عملے کے سبب اب کچھ ہندو بھی آ گئے ہیں. لیکن ان کے لئے پہلے سے کوئی مندر نہیں لہٰذا ہندو آبادی کا ایسا کوئی مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا۔ ہندو دھرم کے شیدائی اپنے گھروں میں بھی بت وغیرہ رکھ لیتے ہیں اور ان کی پوجا پاٹ کر لی جاتی ہے۔ میں اسلام آباد میں مندر کے خلاف نہیں ہوں لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ بھارت میں جہاں  تقریباً اٹھائیس کروڑ مسلمان موجود ہیں وہاں تو سپریم کورٹ آف انڈیا میں یہ درخواست دائر کر دی گئی ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے آر ایس ایس کے انتہا پسند اور متعصب ہندوﺅں کا ہاتھ ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں کیونکہ دہشت گرد زیادہ ہیں اس لئے ہر مسجد کو کنٹرول کرنے کے لئے جو انتظامی کمیٹی بنائی جائے اس میں آر ایس ایس کے بندے بھی رکھے جائیں جو ظاہر ہے کہ ہندو ہوں گے اور وہ بھی کٹر متعصب اس درخواست کی نقل اخبارات میں چھپ چکی ہے۔

ایک بحث یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت بلامعاوضہ زمین کیوں دے اور تعمیر کے اخراجات پاکستانی مسلمانوں کے ٹیکس سے کیوں حاصل کریں۔ میرے خیال میں اگر حکومت خیر سگالی کے طور پر یہ کام کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے بھی صحیح طریقہ اختیار کرے۔ رمیش کمار صاحب تحریک انصاف کے ایم این اے ہیں انہیں یہ پراجیکٹ دیں دوسری پارٹیوں کے ہندو ایم این اے یا سنیٹر بھی اگر ہیں تو ساتھ شامل کر دیا جائے۔ یہ کمیٹی اسی طرح چندہ جمع کرے جس طرح شہروں اور محلوں میں مسجدیں بنتی ہیں یعنی سرمایہ کا انتظام خود وہ کرے اور اس کی نگرانی میں مندر کی تعمیر مکمل ہو جائے۔ پاکستان سب کا ملک ہے ہر مذہب کے پاکستانیوں کا اس پر پورا حق ہے لہٰذا ہندو کمیونٹی مندر بنانا چاہتی ہے تو شوق سے بنائے حکومت سرکاری ریٹ پر جو بہت کم ہوتا ہے انہیں زمین دے وہ اپنے بت وغیرہ لاکر وہاں سجا لیں ۔

اس کے برعکس اگر حکومت نے زمین دی اور حکومت نے سرکاری خزانے سے تعمیر کے اخراجات برداشت کئے تو مجھے یہاں تک ڈر ہے کہ ہائی کورٹ میں رٹ نہ ہو جائے کیونکہ ٹیکس گزاروں کی رقم سے آپ ان کے دینی اعتقادات کے یکسر برعکس خرچہ نہیں کر سکتے ہاں اگر کوئی مندر پہلے سے موجود ہو اور کسی مظاہرے میں مسلمان اسے توڑ دیں تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کی مرمت اور دیکھ بھال کروائے یا اگر صفحہ ہستی سے غائب ہو گیا ہے تو اس کی جگہ اتنا ہی بڑا مندر تعمیر کر کے دے۔اسلام میں اقلیتوں کے بڑے حقوق ہیں۔ آپ ان کی عبادت گاہیں گرا نہیں سکتے ان پر حملے نہیں کر سکتے لیکن آپ وفاقی دارالحکومت میں عوام کے اخراجات سے انہیں مندر نہیں بنا کر دے سکتے۔ جامعہ بنوریہ کے فتویٰ کے علاوہ لاہور کے جامعہ اشرافیہ کے اساتذہ کرام کا بھی یہی فتویٰ اور حکم ہے. کہ سرکاری زمین مفت دے کر اور عوامی ٹیکسوں سے حاصل کردہ رقم کو مندر بنانے پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے ان سے رائے لینے کی ضرورت ہے. یوں بھی جب بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم شروع ہے ہمیں خوامخواہ میں اتنا لبرل نہیں بننا چاہئے لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کر رہی ہے۔


شیئر کریں: