Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اکیسویں صدی کے بنارسی ٹھگ …..پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

کہاں قاتل بدلتے ہیں، فقط چہرے بدلتے ہیں
عجب اپنا سفر ہے، فاصلے بھی ساتھ چلتے ہیں


 شادی اور الیکشن سے وابستہ توقعات ان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد کم ہی پوری ہوتی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ جھوٹ شکار کرنے کے بعد، جنگ کے دوران اور الیکشن سے پہلے بولا جا تا ہے۔ الیکشن میں لوگ کسی کے حق میں ووٹ دینے سے زیادہ کسی کے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ایکشن اور الیکشن  میں بس لام کا فرق ہے۔ ہمارے ہاں الیکشن تو ہوتا ہے مگر کوئی ایکشن نہیں ہوتا۔ الیکشن کا انتظار کرنے والی قومیں قیادت پیدا نہیں کر سکتیں۔ ہم جتنا انتظار اور تیاری اگلے الیکشن کے لیے کرتے،اگر اتنی تیاری اگلی نسل کے لیے کریں تو ہماری تقدیر بدل جائے۔سیاسی آقا بننے کا بڑا آسان طریقہ ہے، آپ اپنے آپ کو خدمت گار، اور خادم ظاہر کریں۔گھر گھر جا کر فاتحہ پڑھیں،الیکشن کے بعد عوام بھی آپ کو فاتحہ ہی پڑھے گی۔ لوگوں کے بچوں کو اٹھا کر سیلفیاں بنائیں، نوجوانوں کو نوکری کالالچ دے کر مہم چلوائیں، برسراقتدارحکومت کی عیب خوئی کر کے نجات دہندہ بننے کا دعوی کریں اور میلے کچیلے کپڑوں والوں کے گلے ملیں۔ جیتنے کے بعد گیٹ پہ گارڈ کو کہہ دیں اندر نہ آنے دینا۔ اگر کوئی اپنے علاقے کے مسائل آپ تک پہنچانے میں بضد ہو،اسے سیکورٹی کے زریعے ڈنڈے پڑوا دیں۔ہمارے ہاں الیکشن بھی T-20 طرز کے ہوتے، T-20 کا آخری آور اور پولنگ سے پہلی رات فیصلہ کن ثابت ہوتی۔ووٹ آپ کاقانونی حق ہے۔ اسے اپنے ضمیر اور عقل کے مطابق استعمال کریں۔انگریزی کہاوت ہے ballot is powerful than bulletووٹ گولی سے زیادہ طاقتور ہے۔مگر کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو ووٹ نہیں دیتے۔اگر آپ کو کوئی بھی پارٹی یا امیدوار پسند نہیں ہے آپ کم ناپسند یدہ پارٹی یا امیدوار کو ووٹ دے دیں۔ اگر آپ ووٹ نہیں دیں گے پھرزیادہ ناپسندیدہ جیت جائے گا۔اگر انسان ووٹ دے کر بھی پچھتائے اور نہ دے کر بھی پچھتائے اس صورتحال میں کیا کیا جائے؟ جی ہاں ہم دہائیوں سے اس صورتحال میں مبتلا ہیں۔ہم ووٹ دے کر بھی پچھتاتے اور نہ دیں تب بھی پچھتاتے۔ووٹ دیں تو جواب ملتا اتنے ووٹوں پہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔ اگر ووٹ نہ دیں تو جواب ملتا جس کو ووٹ دیئے اس سے جا کر کام کروائیں۔ووٹ لیتے وقت دس ووٹوں کے لیے کروڑوں کے منصوبوں کے وعدے اور جیتنے کے بعد کہتے اتنے ووٹوں کے لیے منصوبہ نہیں دے سکتے۔ عوام نے تو ووٹ دیے ہیں کوئی جیتے یا ہارے اس میں بھلا عوام کا کیا قصور ہے؟ جو بھی ایم ایل اے بنتا ہے وہ اس کے حق میں اور خلاف ووٹ دینے والے دونوں کے ٹیکسوں سے تنخواہ اور مرعات لیتا ہے۔ہمارے ہاں ووٹ لینے کے لیے ویژن کے بجائے، مالے، سیلفیاں، گروپ فوٹو، اور فاتحہ خوانی کے زریعے رام کیا جا رہا ہے۔کسی زمانے میں بنارسی ٹھگ مشہور ہوا کرتے تھے۔کسی کو ان کی چال سمجھ نہیں آتی تھی۔وہ ہر بار الو بنا کر اپنا کام نکلواجاتے تھے۔جدید دور میں ٹیلی پیتھی اور ہپناٹائزم کے زریعے لوگوں کے حواس قابو میں کر لیے جاتے۔ پھر لوگ وہی کرتے جو علم نومیات کا ماہر ان سے کروانا چاہتا ہے۔ہماری عوام دہائیوں سے ان کا شکار ہے۔ہمارے ساتھ ایسی نوٹنکی کھیلی جارہی جس کی ہمیں آج تک سمجھ ہی نہیں آئی۔پتہ نہیں کونسا جنتر منتر پڑھتے اور عوام کا حافظہ ہی چھین لیتے۔دماغ پر ایک مخصوص جگہ چوٹ لگنے سے یاداشت چلی جاتی ہے اوردوبارہ اسی جگہ چوٹ لگنے سے واپس بھی آجاتی ہے۔ہمیں اتنی چوٹیں لگی ہیں کے یاداشت واپس آنے کا نام ہی نہیں لیتی۔عوام مرتی رہی، 3000 سے زیادہ لوگ شہید اور  5000 سے زیادہ زخمی ہوئے، ہمارے موصوف سابقہ وزیر حکومت جہاز میں کیل جاتے تھے۔ہمارے ایک وکیل جن کو عوام نے اپنا کیس لڑنے کے لیے منتخب کیا انہوں نے کیس لڑنے کے بجائے وکالت کرنا ہی چھوڑ دی۔عوام نے ایک مفتی صاحب کو چنا کے شاید وہ عوام کے حق میں فتوی دیں مگر امیدیں دم توڑ گئیں۔عوام نے ہمت نہ ہاری اور وزارت عظمی کے چکر میں شاہ صاحب کو چنا مگر دم نہ چل سکا۔ ناخواندگی، بے روزگاری،افلاس اور صحت کے مسائل کا جن بے قابو ہو گیا۔مگر ہماری یاداشت کام کرنا چھوڑ چکی، ہم نے پھر سے انہی آزمودہ لوگوں کو جو دہائیوں سے برسراقتدار رہ کر علاقے کے لیے کچھ نہیں کر سکے ان کے گلے میں مالے ڈالنے شرو ع کر دیے ہیں۔آمد ہ الیکشن کے ایک امیدوار جو ایک پارٹی کے مرکزی نائب صدر بھی ہیں اور ماضی میں ایک عہدے پر برجمان بھی رہ چکے ہیں۔ موصوف اپنے عہدے کے دوران عوامی مسائل پر لوگوں کی بات سننا تو درکنار، گاڑی کا شیشہ بھی نیچے نہیں کرتے تھے۔ اب وہ بھی گھر گھر ووٹ مانگتے نظر آرہے۔سابقہ اور موجودہ حکومت کے مختلف عہدوں اور منصوبوں کا حصہ رہنے والے افراد بھی اپنے آپ کو مسیحا ظاہر کر رہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے جب آپ حکومت کا حصہ تھے تب عوام کے لیے کیا کیا تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں بنتا۔ کچھ چہرے نئے پرچم اور انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اترنے کی تیاری کر رہے۔ اگرچہ ابھی تک ان کواپنے مستقبل کا خود بھی پتہ نہیں ہے۔اگر وہ ایک سیاسی پارٹی میں انتظامی عہدوں پر رہ کر پرفارم نہیں کر پائے تو کیا وہ کسی دوسری پارٹی میں پرفارم کرپائیں گے؟غیر جمہوری طریقے سے،برادری ازم کے کارڈ پر اعلی عہدے حاصل کرنے والے قائدین سے امیدیں لگانا بھی عبس ہے۔ ضروری نہیں یکم اپریل کو ہی فول ڈے کے طور پہ منایا جائے، ہمارے ہاں تو الیکشن ڈے کسی یکم اپریل سے کم نہیں رہا۔ووٹ گولی سے زیادہ طاقتورہے مگرہمیں ووٹ کے بعد گولی کروائی جاتی۔ایک شخص نے کسی سیانے سے کہا، ہم سیاستدانوں کے جھوٹے وعدوں سے تنگ آگئے ہیں بتائیں سیاستدانوں کو کیسے چنا جائے؟ سیانا شخص مسکرایا اور بو بالکل ایسے ہی چنیں جیسے اکبر بادشاہ نے انارکلی کو چنا تھا۔
یہ عجب صوت حال ہوئی جاتی ہے
رات کے بعد یہاں رات ہوئی جاتی ہے۔


شیئر کریں: