Chitral Times

May 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کچھ اور کے چکر۔۔۔۔۔۔اجمل الدیں

شیئر کریں:

کتنا دکھ اور افسوس ہوتا ہوگا ایک عام شہری کو جب اپنے ملک و قوم کی حالت پر غور کرتا ہوگا۔ جہاں انصاف کے نام پہ ناانصافی، آزاد میڈیا کے نام پہ مکمل فحش اور عریانی، تعلیم و تعلم کے نام پہ کاروبار، پاک و صاف اور حلال کمائی کے نام پہ حرام خوری، کام چوری اور زخیرۂ اندوزی، صدقہ، خیرات اور زکواۃ کے نام پہ دکھاوا، ریا اور نمو، عرض ہر نیک اور فلاحی کام کے پیچھے چھپ کر دو ٹکے کی بےغیرتی اور ذلالت کے کام انتہائی غیرتمندانہ انداز اور جذبے سے کرنے کو اپنا شیوہ بنایا گیا ہو۔انصاف ملتی ہے لیکن تب ! جب انصاف کا متلاشی ظلم و ستم اور ناانصافی کی نذر ہوچکا ہوتا ہے۔ اول تو نچھلے طبقے کیلئے منصف تک رسائی اور پھر انصاف ایک خواب بن چکی ہے۔ دنیاوی لحاظ سے جو بڑے طبقے ہیں انکو ظلم و ستم، حرام خوری اور الزام قتل کا ثبوت ہوتے ہؤے بھی جرم کا بدلہ انصاف کی صورت میں انکی دہلیز پر ملتی ہے۔

گویا ادارے کھلے ہوں یا بند، دن ہو کہ رات کے بارہ بجے انصاف کی صورت میں انکے لئے ناانصافی کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ پانچ دن قید کی سزایافتہ مجرم محض چھ سال میں اور تصدیق شدہ عمر قید بلکہ تین دفعہ سولی پر چڑھانے کا حکم پانے والا بھی بمشکل ساٹھ منٹ میں رہا ہوکر آزاد پنچھی کی طرح اڑنے لگتا ہے گویا اس نے زندگی میں زرہ برابر بھی کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ واہ رے تیری انصاف اور اسکے تقاضے۔ امیرشہر اور اسکے پجاریوں کیلئے جیل بھی محل خانہ جبکہ غریب اور اسکی اولاد کیلئے ان کے گھر بھی کال کوٹھڑی۔دسری طرف آزاد میڈیا، حق رائے دہی اور فیشن کے نام پہ فحش گوئی، لغویات، تہمت، جھوٹ اور بدزبانی کا جو پرچار ہورہا ہے اسکے منفی اثرات روز بروز عیاں ہوتے جارہے ہیں۔

بچے بچیاں تو دور کی بات ہمارے اکابر بھی انہی کے گڑ گاکر اپنی وقار کھونے لگے ہیں۔ اور تو اور آجکل ایسے افراد بہت آگے نکل چکے ہیں جو جھوٹ اور لغو کو گھما پھراکر اسطرح پیش کرتے ہیں کہ گویہ نہ ماننے والا مذہب سے نکلنے کا اندیشہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ تعلیم و تعلم کا رخ بھی آگے ترقی کرنے کے بجائے پیچھے ہے۔ نئی تحقیق اور ایجادات تو دور کی بات ہم میں دوسروں کی ریسرچ کو دوبارہ کرنے کی بھی صلاحیت بھی مدہم ہے۔ ڈاکٹرز، انجنئیرز، ساینسدان، پائلٹس، بیوروکریٹس، ٹیکنوکریٹس اور قابل سیاستدان کے بجائے ملکی اداروں سے اکثر نہایت قابل، ہنرمند اور پیشہ ور غنڈے، نوسرباز اور بدمعاش نکل رہے ہیں۔ جو جہاں بھی قدم رکھتے ہیں اس ادارے کا بیڑہ غرق کر دیتے ہیں۔ حوس اور لالچ نے سب کو اپنے فرائض منصبی سے نہ صرف جدا کیا ہے بلکہ ہر جائز اور ناجائز کمائی کو حلال کا درجہ دے کر استعمال کرنا معمول بن گیا ہے۔ اوپر سے امید یہ باندتے ہیں کہ اولاد نیک، صالح اور فرمانبردار ہونی چاہئے۔ دوسرے ایسے لوگ ہیں جو بس صرف حلال کی کماتے ہیں، حلال کی کھاتے ہیں اور حلال ہی سے اپنے بال بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ تو اولاد کس کی کیسے ہونگے یہ آپ خود ہی اندازہ لگائیں۔ کیونکہ مصلحت کی خاطر کچھ فیصلے اور انصاف کے تقاضے اللہ پاک خود دنیا میں ہی پورا کردیتے ہیں. باقی آخرت میں چکھا دیتے ہیں۔اکثروبیشتر کی نیت کچھ اور ہوتی ہے لیکں کرتے کچھ اور ہیں۔ مطلب دکھاتے کچھ اور ہیں لیکں پیٹ پیچھے مقاصد کچھ اور ہوتے ہیں۔

اسی کچھ اور کے چکر نے سب کو چکراکر رکھدیا ہے۔ رنج و غم کی انتہا اس وقت ہوتی ہے جب معاشرے کے سلجھے ہؤے مہذب سمجھے جانے والے لوگ بھی دو نمبر کے فضول کاموں اور باتوں کو ٹول مٹول کر خوبصورت اور دلکش انداز میں پیش کرتے ہیں۔تو عرض یہ کررہا تھا کہ ہمارہ معاشرہ اں تمام برائیوں کے علاوہ اور بھی بہت سی خرابیوں میں گرا ہوا ہے۔ حق و سچ اور انصاف پسند لوگ بھی ہیں لیکں آٹے میں نمک کے برابر۔ جو معاشرے کی اصلاح کی خاطر دن رات لگے ہؤے ہیں۔ ایک بات ضرور یاد رکھیں کہ جس دن سو [100] میں سے اکاون [51] بندون نے اپنی اصلاح کی اسکے بعد انچاس [49] کی نحوست سے ضرور بچ سکتے ہیں۔ ورنہ اگر یہ تناسب الٹا ہی رہا اس معاشرےکو دبنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔یقین کریں ہم آزمائش کے قابل نہں لیکن سب کو اپنے کارنامے اور کارتوت کا بخوبی اندازہ ہے۔ کہ کس قدر عذاب اور مصائب کو اپنی طرف راغب کر رہے ہیں۔ لہذا قرآن و حدیث سے ثابت ہے. مفہوم. کہ تم لوگ پناہ مانگو اس بوجھ سے جسکو آپ اٹھا نہیں سکتے۔ اس آزمائش سے جس میں آپ پورا نہیں اتر سکتے۔ اوراللہ تبارک وتعالی سے معافی، مغفرت، رحم اور کافروں[بشمول شیطان] کے خلاف مدد مانگتے رہا کرو۔انشاءاللہ۔ بہت جلد معاشرے کی اصلاح ہوگی، اچھائی غالب آئیگا اور برائی مغلوب ہوگی۔


اجمل الدیں لیکچررزرعی یونیورسٹی پشاور


شیئر کریں: