Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی …..تحریر:تقدیرہ خان

شیئر کریں:


ایسی قوموں میں کشمیری، افغانی اور فلسطینی سرفہرست ہیں۔ فلسطینیوں نے اسرائیل کی نسبت اپنے محسن عرب ممالک سے ہمیشہ بے وفائی کی اور کبھی دین اسلام کا نام تک نہ لیا۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ یاسر عرفات اور لیلیٰ خالد کی سوانح حیات پڑھ سکتا ہے۔ ہم جسے اسلام کا مجاہد اور مجاہدہ سمجھتے رہے وہ سوشلزم کی پرچارک، لینن، سٹالن اور کارل مارکس کے پیروکار تھے۔ انسان ایک دوسرے کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر خدا کو نہیں۔ فلسطینیوں کی غلامی کی سب سے بڑی وجہ دین سے دوری اور مادی خداؤں پر بھروسہ ہے۔


افغانوں پر جب بھی برا وقت آیا پاکستان نے انہیں سر اور آنکھوں پر ہی نہیں بٹھایا بلکہ دل کے دروازے بھی کھول دیے مگر افغانوں کو جب بھی موقع ملا انہوں نے ہمارے سروں پر نفرت کی تلوار چلائی اور آنکھیں بھی نوچ لیں۔ ہمارے دلوں پر زخم لگائے اور بھارت نوازی کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ افغانوں کی وجہ سے ہماری معیشت تباہ ہوئی، دنیا نے ہمیں دہشت گرد قوموں کی فہرست میں شامل کیا اور بدلے میں افغانوں نے بھارت کے ساتھ مل کر ہمارے بچوں کو قتل کیا، بھارتی کونسل خانوں کی آڑ میں دہشت گردی کے کیمپ کھولے۔این ڈی ایس اور رأ سے مل کر ہمارے ملک میں دہشت گرد کاروائیاں کیں اور ملک دشمن عناصر جن میں تحریک طالبان پاکستان، ایم کیو ایم اور بی ایل اے شامل ہیں کی پشت پناہی کی۔


ہماری سادگی کی انتہا ہے کہ آج بھی ایک کروڑ سے زیادہ افغان مہاجرین ہمارے بن بلائے مہمان ہیں اور پاکستانیوں کی نسبت زیادہ خوشحال زندگیاں گزار رہے ہیں۔ ناشکرے پن کی حالت یہ ہے کہ اپنی دکانوں، گھروں اور مارکیٹوں میں بیٹھ کر پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں اور بھارت کے گیت گاتے ہیں۔ افغانستان میں کوئی پاکستانی نظر آجائے تو اسے اغوأ کر لیتے ہیں یا پھر افغانستان کی پولیس پکڑ کر تشدد کرتی ہے اور جیلوں میں ڈال دیتی ہے۔ افغانستان میں یوم یکجہتی کشمیر منانے کی جازت نہیں جبکہ افغانی آزاد کشمیر میں ہر منافع بخش کاروبار پر چھائے ہوئے ہیں۔


حال ہی میں وزیراعظم آزادکشمیر نے قانون ساز اسمبلی سے خطاب میں فرمایا کہ اگر اسلام آباد میں بیٹھے کسی بابو نے ہمارے ساتھ چھیڑ خوانی کی تو چھٹی کا دودھ یاد دلادونگا۔ میں دو کپڑوں کے جوڑے لے کر اسمبلی میں آیا تھا اور اسی میں واپس جاؤنگا۔ میرے ساتھیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ پھر فرمایا گلگت بلتستان ہمارے وجود کا حصہ ہے اور رہے گا۔ میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا کہ ایل او سی کے دوسرے جانب کوئی سخت پیغام جائے مگر مجبور کیا گیا تو یہ بھی کر گزروں گا۔ کوہالہ اور نیلم جہلم پاورپراجیکٹ پر چین اور پاکستان نے دستخط کیئے ہیں ہم نے نہیں۔ ہمیں چین کے ساتھ الگ معاہدہ کرنا ہوگا۔ آخر میں فرمایا کہ بزدل قومیں جنگ سے ڈرتی ہیں ہم نہیں ڈرتے۔ اس سلسلے میں ہمیں خود سوچنا ہوگا۔


راجہ فاروق حیدر کے اقوال زریں پر اسمبلی ممبران نے ڈسک بجا کر اپنے قائد کو خراج تحسین پیش کیا اور مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ راجہ فاروق حیدر کی تقریر سننے کے بعد چوہدری غلام عباس کی سوانح حیات”کشمکش” اور حال ہی میں لکھی جانے کشمیری مصنف اسرار احمد راجہ کی تصنیف “کشمیر کا المیہ” پر ایک بار پھر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ موجودہ کشمیری قیادت کا تحریک آزادی کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ سب کھاؤ پیو اور مال کماؤ گروپ ہے جو پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کمیشن ایجنٹ ہیں۔ آزاد جموں و کشمیر مسلم کانفرنس ہمیشہ سے ہی مسلم لیگ کے زیر سایہ رہی اور اقتدار کے مزے لیتی رہی۔ راجہ فاروق حیدر بھی اسی جماعت کے پیروکار ہیں اور نوازشریف کی نمک خواری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ضلع باغ میں قائم ہسپتال کا نام نواز شریف ہسپتال رکھا گیا۔ تو مشہور صحافی ہارون رشید نے راجہ فاروق حیدر سے سوال کیا کہ نواز شریف کا کشمیر سے کیا تعلق ہے۔ وہ تو ہمیشہ سے ہی بھارت نواز رہا ہے۔ اسے تو یہ بھی پتہ نہیں کہ ہندو صرف آلو کھاتے ہیں گوشت خور نہیں ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی کرنے والے مودی کو نواز شیرف نے گھر پر دعوت دی اس سے تحفے وصول کیئے۔ جو شخص ذاتی کاروبار پر ملک داؤ پر لگا دیتا ہے اس کے نام سے کشمیر میں ہسپتال کو منسوب کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ راجہ فاروق حیدر نے فرمایا کہ نواز شریف ہمارے محسن ہیں۔ ان کے ہم پر بڑے احسان ہیں۔ پھر اپنے وزیر مشتاق منہاس کا نام لیا۔ آخر میں کہا کہ نواز شریف نے جو کچھ کشمیریوں کے لئے کیا وہ پبلک میں نہیں بتایا جاسکتا اور پھر منظر سے ہٹ گئے اور لائن کاٹ دی۔


راجہ صاحب نے سچ کہا کہ نواز شیرف نے کشمیریوں کا سودا جندال سے کیا اور اس کا اثر اب مقبوضہ کشمیر میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر کیا کر رہا ہے۔ اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کو لندن بلا کر مودی کے لیے کیا پیغام دیا ہے وہ واقعی عوام کو بتانے کے قابل نہیں۔ آزاد کشمیر میں جتنے ترقیاتی پراجیکٹ ایرانے شروع کیئے وہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئے۔ مشتاق منہاس مریم میڈیا کا ادنیٰ کارکن ہے اور اسی کے صدقے پر اسمبلی تک پہنچا ہے۔ جہاں تک بزدلی کا تعلق ہے تو ستر سالوں سے آپ لوگ آزاد کشمیر کے بجٹ پر پل رہے ہیں۔ آزاد کشمیر میں جتنی ترقی ہوئی یہ مقامی لوگوں کی ذاتی کمائی اور تارکین وطن کی قربانیوں کا صلہ ہے۔آزاد کشمیر کے سیاستدانوں کی حقیقت پر لکھا جائے درجنوں کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔ سیاسی ٹولے نے جنگلات بیچ کر کھائے، آثار قدیمہ اور قیمتی جڑی بوٹیاں اور قیمتی پتھر بھارت سمگل کر دیے۔ وزیروں نے اسلام آباد میں درجنوں کوٹھیاں تعمیر کیں، کشمیر ہاؤسنگ سکیم سے اربوں کمائے اور ہڑپ کر گئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں دوکپڑوں میں آیا تھا اور ساتھیوں کا بھی یہی حال ہے۔ آپ کا اسلام آباد میں محل اور آپ کے ساتھیوں کے محلات کس لئے ہیں۔ آزاد کشمیر اسمبلی کا ہر ممبر ارب پتی ہے اور مہاراجہ کشمیر جیسی زندگی بسر کر رہا ہے۔ نیلم جہلم پراجیکٹ سے آزادکشمیر کے حکمرانوں نے کتنا کمایا اور جاگراں سے آپ کے دوستوں نے جو آج کل اپوزیشن کے مزے لے رہے ہیں کیسے دولت کمائی اس کا حساب کون دے گا۔ آپ بزدلی کا طعنہ دیتے ہیں۔ ستر سال تک تو آپ نے ایل او سی کے پار ایک پتھر تک نہ پھینکا اور پندرہ سال تک بھارت نے وادی نیلم کے باسیوں کو لاک ڈاؤں رکھا۔ آپ نیلم جا کر جنرل پرویز مشرف کا نام لیں تو آپ کے بیان کی تشریح ہوجائے گی۔


آزاد کشمیر میں بدترین بجلی کی لوڈشیڈنگ ہے مگر آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ میرپور گریڈ واٹر سپلائی سکیم پر قائم علی شاہ نے دھمکی دی اور ساری آزاد قیادت کو سانپ سونگ گیا۔ پچیس سال ہوئے میرپور اور اسلام گڑھ کے درمیان پانچ سو فٹ پل کا ٹکڑا تو آپ بنا نہیں سکے اور دھمکیاں امریکی صدر کی طرح دے رہے ہیں۔


آپ کی تقریر سن کر میں نے شیخ عبداللہ کی کچھ تقریریں پڑھیں تو کافی حد تک مماثلت پائی۔ آپ فرماتے ہیں کہ گلگت بلتستان ہمارے وجود کا حصہ ہے۔ آپ کو مشتاق منہاس، محسن نواز شریف، شہزادی مریم اور دیگر تو یاد ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کرنل حسن مرزا (ایم سی)، کیپٹن بابر اور سپاہی داور علی کون تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ٹائیکر فورس اور آئبیکس فورس سونا مرگ، دراز، لہہ اور گریز میں بیٹھی پونچھ فورس کا انتظار کر رہی تھی تو آپ کے غازی اور مجاہد مری میں بیٹھے عہدے بانٹ رہے تھے۔ جناب راجہ صاحب آپ کی تقریریں زہر آلود ہیں جو محب وطن کشمیریوں اور پاکستانیوں کے سینے چھلنی کرتی ہیں۔ آپ مشتاق منہاس کی لکھی تقریروں پر اکتفا دہ نہ کریں اور نہ ہی شیخ عبداللہ کے الفاظ دہرائیں۔ کشمیر ہمارا ہے اور سارے کا سارا ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے لئے ہی ساری جنگیں لڑی ہیں جن کی ناکامیوں کا سہرا بھارت نواز کشمیریوں کے سر سجتا ہے۔ آپ اپنی تاریخ پڑھیں اور عوام کی خدمت کریں۔


نواز شریف کے احسانات آپ کی ذات پر تو ہوسکتے ہیں کشمیریوں پر نہیں۔ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے زرداری اور نواز شریف کی ایک ہی پالیسی ہے اور وہ بھارت کی بالادستی قبول کرنا اور ذاتی کاروبار کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔ آپ اپنا رویہ اور حالت بدلیں تو قوم کی تقدیر خود بدل جائے گی۔ آپ میر کارواں بنیں اسیر کارواں نہ بنیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔ جناب آپ اپنی ذات کے خول اور ن لیگ کی اسیری سے نکلیں اور دومیل پر کھڑے ہو کر جہلم اور نیلم کے پانیوں کی آواز سنیں۔ پاکستان سے رشتہ کیا لا الا الااللہ کی صدائیں ہر سو گونج رہی ہیں۔ زرداری اور نواز شریف کاروباری لوگ ہیں اور ان کی سیاست تاجرانہ ہے۔ تاجروں کی ماشہ خوری میں نہ حب الوطنی ہے اور نہ ہی قومی خدمت۔ آج کشمیریوں کو کسی شہاب الدین، زین العابدین اور شاہ میر کی تلاش ہے۔ جاتی عمرا اور زرداری ہاؤس کے غلام کی نہیں۔ اپنا خیال رکھیئے گا۔


شیئر کریں: