Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ٹیلی نار سے پریشان عوام……تحریر: محمدآمین

شیئر کریں:


ٓآج کے ڈیجیٹل دور میں خبر رسانی (communication)کی اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا باالفاظ دیگر اس کے بغیر انسانی ذندگی کی ترقی ممکن ہی نہیں۔کمیونکیش کے اہم نوعیت میں سیل فون کو کلیدی کردار حاصل ہے اور اس حقیقت کے تناظر دنیا کے مختلف نیشنل اور مالٹی نیشنل کمپنیز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے تاکہ اعلی کوالٹی کے سیل فونز (cell phones) معتارف کرادیں جن کی بدولت دنیا کے مختلف ممالک میں ان کی اجادری بھی قائم ہو۔اور بالکل حقیقت کے پس منظر ان کمپنیز کے درمیاں یہ مقابلہ روان دوان ہے۔


گرم چشمہ جو کہ چترال کے انتہائی شما ل مغرب میں واقع ہیں اس کی سرحدین افغانستان کے صوبے بدضشان اور نورستان کے ساتھ متصل ہیں اور یہ علاقہ زمانہ قدیم سے نہایت اہم ثقافتی،اقتصادی اور اسٹریٹیجک اہمیت کا حامل رہا ہے جس کی ذندہ مثال دوراہ پاس ہے جس سے پچھلی سال سر حد پار تجارت کے لیے باقاعدہ طور پر کھول دی گئی ہے اور اگلا منزل واسطی ایشاء کے ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا ہے کیونکہ چترال سے دریا آمو تک کل فاصلہ 178کلومیٹر بنتی ہے۔


گرم چشمہ کی کل ابادی تیس ہزار سے اوپر ہے اور یہ تقریبا ۵۰ چھوٹے بڑے گاون پر مشتمل ہیں گرم چشمہ دراہ دوراہ،دراہ شوئے،گرم پانی،ٹروٹ مچھلی،ٹریکنگ،دلکش نیلے رنگ کے پانی،خوبصورت ہریالی،اعلی قسم کے آلو کے پیداوار،پہاڑ،گلیشیرز،کوو اور یدغا کلچر کے حوالے سے مشہور ہیں۔ یہان کے مختلف مرد اور خواتین تنظیمات کے حوالے سے منظم اور اشتراقی ترقی کے اُصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں۔جہان تک کمیونکیش کے عمل نہایت نقص ہے پی ٹی ایل کی رسائی صرٖف چند دفترات تک ممکن ہے اس کے علاوہ یو فون اور ٹیلی نار واحد زریعہ ابلاغ ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دونون محکموں کے غلط اور غیر سنجیدہ فیصلہ جات کی بناء گرم چشمہ کے عوام تا حال مشکلات سے دوچار ہیں۔


کچھ عرصے قبل ٹیلی نار پاکستان نے اپنی سروس کو بہتر بنانے کی غرض سے علاقے کے مختلف حصوں میں نئے بوسٹرز نصب کی تاکہ شاہ سیلم سے لیکر موغ اور بیگوشٹ منور تک لوگوں کو صحیح معنوں میں سروس ڈیلور کرسکیں لیکن خدا جانے کہ ان اداروں کے اپنے لوگ ہی چند مراعات کے عوض غلط فیصلے کر بیٹھ جاتے ہیں مثال کے طور پرعلاقے کا کا ہید کوارٹر گرم چشمہ ہے لیکن سٹیلائٹ کا انتظام مژیگرام میں نصب کیے ہیں جو زیادہ سے زیادہ چار گاوں کو سہولیت مہیا کر سکتی ہے اس سٹیلائٹ کی خوبی یہ کہ بارش اور برف باری کے دنوں بھی اس کی سروس متاثر نہیں ہو سکتی۔ اس کے بر عکس بوسٹر سسٹم برف باری کے دنوں متاثر ہوتی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس ادارے کے اندرہی لوگ ادارے کے مفاد میں نہیں ہے۔


اس کے ساتھ ٹیلی نار سے اکثر سگنل کا مسلہ ہوتا رہتا ہے اور جہاں سگنل ہوتے ہیں وہاں کمیونکیش اتنی موثر نہیں ہوتی جو ہونی چاہئے لیکن سب سے بڑا مسلہ کئی دنوں سگنلز کا غائب ہونا ہوتا ہے جس سے صارفین کو بہت پریشانی ہوتی ہے کیونکہ گرم چشمہ کے گرد نواح (vicinity)کے علاوہ باقی دیہاتوں میں یو فون کی سروس میسر نہیں ہے۔لہذا ان مشکلات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر چترال کو اس معاملے میں علاقے کی سماجی و اقتصادی اور اسٹریٹجیک اہمیت کے مد نظر میں دلچسپی لیکر اس مسلے کو حل کریں، کیونکہ ان زرائع ابلاغ کے بغیر انسانی ذندگی بہت مشکل بلکہ ناممکن بن جاتی ہے۔


شیئر کریں: