Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کے علاقے لوٹ اویرمیں غیرت کے نام پردوہرے قتل کا معمہ ۔۔۔۔ سید اولاد الدین شاہ

شیئر کریں:

چترال کے علاقے لوٹ اویر (ژوڑیاں سور) میں ۱۹ جون ۲۰۲۰ کو ایک دوہرے قتل کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق لڑکے کی عمر ۲۳ سال اور لڑکی کی عمر ۱۸ سال ہے۔ دونوں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ورثاء کے حوالے کیا گیا ہے۔ اور دفنایا بھی جا چکا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لڑکے کو دو اور لڑکی کو ایک گولی لگی ہے۔ لاشوں کے پاس سے ایک روسی ساختہ بندوق اور پسٹل بھی ملا ہے۔ پولیس نے لڑکے کے موبائل سمیت برآمد شدہ ہتھیاروں کو قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اور پولیس کی مدعیت میں نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ 


بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کو دبانے کے لئے اس علاقے کے معروف سیاسی رہنما کی جانب سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جس کا تعلق حکمران جماعت سے ہے۔ اور لوگوں سے اس کیس کے حوالے پروپیگنڈہ کروایا جا ریا ہے۔ تاکہ قتل کو خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔ ڈی پی او چترال کے  مطابق یہ غیرت کے نام پر قتل ہے، لیکن اس کو خود کشی کا رنگ دیا جا رہا ہے۔ 


اس گاؤں میں ایک صاحب نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس کیس کے حوالے سے بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے۔ ان دونوں کو قتل کرکے جنگل میں پھینکا گیا ہے۔ جہاں سے لاشیں ملی ہیں وہاں نہ خون کے نشانات تھے اور نہ ہی کوئی اور نشان جس سے یہ بات ثابت ہو سکے کہ انھوں نے وہاں خودکشی کی ہیں۔  لڑکی اور لڑکے کی لاش ترتیب سے رکھے ہوۓ تھے۔ ان کے درمیاں لگ بھگ ۱۸ انچ کا فاصلہ تھا۔ ان کا کہنا تھا۔ اویر ایک چھوٹا گاؤں ہے۔ یہاں سب کو ایک دوسرے کے بارے میں خبر ہوتی ہے۔ ہم نے کبھی ان دونوں کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں سنی۔ آٹھ بجے کے قریب لڑکی کے گھر والے لڑکی کو ڈھونڈ رہے تھے۔ لگ بھگ اُسی ٹائم لڑکے کو گاؤں میں گھومتے ہوۓ دیکھا گیا تھا۔ نو یا دس بجے کے قریب فائرنگ کی آوازین سنی گئی۔ پھر پتہ چلا دونوں کی لاشیں جنگل میں پڑے ہوۓ ہیں۔

ایک مقامی وکیل جو اس کیس کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے رابطے میں ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ پولیس اس کیس کے حوالے سے اپنی جدوجہد کر رہی ہے۔ گاؤں والے اس حوالے سے تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ اس کیس کے حوالے سے پورے گاؤں والے متحد ہیں۔ کہ اس قتل کو خود کشی قرار دینا ہے۔ مزید اس کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے بھی اسی علاقے میں خاتوں کا سر کاٹ کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اور ملزماں شواہد کی عدم دستیابی کی بنیاد پر بری ہو گئے تھے۔  اس مسلے پر این جی اوز کے کردار کے حوالے سے ایک مقامی این جی او کے سربراہ سید حریر شاہ سے بات کی  اُن کا کہنا تھا کہ چترال میں این جی اوز برائے نام ہیں۔ ۲۰۱۰ کے بعد ان کا کردار چترال میں  انسانی حقوق کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر ہے۔ جو اس سلسلے میں بات کرتا ہے۔ اسی کے حقوق ہی چھین لئے جاتے ہیں۔ ایسے کیسز کے حوالے معروف قانون دان عبدول ولی اںڈوکیٹ کا کہنا تھا۔ کہ ایسے بہت سے قتل کے کیسز ہوتے ہیں جن کو خود کشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔ جو بہت تشویشناک بات ہے۔  اگر ٹھوس شواہد ہوں جیسا کہ الہ قتل برآمد ہو اور انگوٹھوں کے نشانات میچ کرے، اور اس کے علاوہ چشم دید گواہ ہو اور وہ کورٹ میں آکر گواہی دے۔ تو مجرم کو سزا دی جا سکتی ہے۔ شک کی بنیاد پر کسی کو تختہ دار پر لٹکایا نہیں جا سکتا۔ اور حالیہ کیس کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا۔ جسم پر زخموں کے نشانات ہیں یہ قتل کا کیس لگتا ہے۔


شیئر کریں: