Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سمارٹ لاک ڈاون اور کووڈ -19 …محمدآمین:

شیئر کریں:


جب سے کورونا وایئرس (covid 19) نے دینا میں عالمی وباو (pandemic) کی تباہ کن شکل اختیار کرلی اور عالمی ادارہ صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی اور ایشاء سے نکل کر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرف اپنے اثرات دیکھانے دیئے تو ابتدائی مرحلے میں ان ملکوں کے رہنماوں طنزیہ طور پر اس چائینا جراثیم کا نام دیکر کوئی خاص توجہ نہیں دیئے۔تاہم تھوڑے عرصے میں اس جراثیم نے دنیا کے معاشی اور اقتصادی نظام ذندگی کو یکسان طور پر بدل کر ڈالا۔ساتھ ہی دنیا میں قیاس ارائیاں شروع ہوئے کہ فلان مہینے میں کورونا وائرس علاج کے لئے ویکسن تیا ر ہوگا لہذا اس دوران احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہئے اور ان احتیاطی تدابیر میں لاک ڈاوں بھی تھا جیسے چین نے کامیابی سے تجربہ کرچکا تھا لیکن یہ بھی قابل ذکر ہوگا کہ لاک ڈان اس مسلے کا اخری حل ہے جب لوگ دوسرے احتیاطی تدابیر جن میں سماجی فاصلے،ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کو صابن یاسنٹائزرز کے اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔
لاک ڈان کے مختلف اقسام زیر غور ائے ہیں جن میں مکمل،جزوی اور سمارٹ لاک ڈان اہم نوعیت کے ہیں یہ ایک حقیقت ہے کہ جن ممالک نے صحیح معنوں میں ابتدائی دنوں میں عمل کیے ان میں بیماری کے اثرات کم ائے مثال کے طور پر چین اور ایران جو ابتداء میں اس بیماری کے مرکز اور سب سے زیادہ متاثر ریاستیں تھے اور تاثر یہ دی جاتی تھی کہ یہ دونوں ممالک اس مہلک مرض سے برباد ہوجائینگے لیکن انہوں نے ایک جامع منصوبہ بندی کے تحت اپنے حکمت عملی میں کسی حد تک کامیاب ہوئے اس کے برعکس اٹلی اور اسپین ابتداء میں اس سے بہت ہلکا لیے جن کے نتیجے میں ان ممالک میں انفیکشن اور آموات بہت خوفناک مناظر پیش کیے۔اور حالت زر یہ تھا کہ وہاں مرنے والوں کی تدفین بھی مشکل تھا۔لیکن ان ممالک نے فورا اس تباہی سے نکلنے کے سخت لاک ڈان کے اصولوں کو اپنائے جن سے ان ممالک میں کورونا سے اموات کی شرح میں بہت کمی انے لگی۔دوسری طرف جنوبی امریکہ میں ارجنٹائین نے لاک ڈاون کو ماننے سے انکار کردیا اور جب وہاں کے وزیر صحت نے جزوی لاک ڈاون کے حق میں بیان دیا تو صدر بلسورینیا نے فورا اسے برطرف کردیااور صدر خود بغیر ماسک کے لوگوں میں ملنے لگا اور جلسے اور جلوس کی ہمت افزائی کردی تاکہ بغیر لاک ڈاون اور ایس او پیز کے کورونا کو شکست دے سکیں جس کا نتیجہ برازیل کو یہ بگھتنا پڑا کہ ان دونوں امریکہ کے بعد انفیکشنز اور آموات کے لحاظ برازیل دوسرے نمبر پر ہے اس کے ساتھ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مثال بھی ہمارے سامنے ہیں جو کہ ابتداء ہی سے لاک ڈاون کے حق میں نہیں تھا اور اس کی غیر دانشمندانہ فیصلوں کی وجہ سے امریکہ میں تباہی پھیلی ہوئی ہے اور وہ ان ریاستون جہاں ڈیموکریٹ پارٹی کے گورنر ہیں وہاں اعلانان لو گوں کو اکسا رہا ہے کہ لاک ڈاون کے خلاف احتجاج کریں تاکہ ہماری اقتصادیت کو ڈوبنے سے بچا جاسکیں اور اپنی نااہلی بچانے کے لیے ڈبلیو ایچ او پر نہ صرف الزام لگانے کی کوشش کر ہا ہے بلکہ عالمی ادارے کو فنڈگی میں کمی کرنے د کی ھمکی بھی دے رہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت چین کی زبان بولتی ہے۔

لیکن عالمی ادارہ صحت نے واضح الفاظ میں ان الزامات کو مسترد کردی اور واضح کردی کہ کورونا وائرس ایک قدرتی عمل ہے۔
اگر پاکستان کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اقتصادی طور پر کمزور ہونے ساتھ ہمارے متعلقہ ادارے بھی اتنے مضبوط نہیں ہے کہ ہم کووڈ 19مقابلہ کرسکیں لیکن ان تمام منفی حالات کے باوجود پاکستان میں واقعات اتنے گھمبیر نہیں ہیں جس طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیں مثال کے طور پرپاکستان نے اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لیے 8بلین ڈالر کا امدادی پیکیج دیا جو ملک کی تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج ہے اس کے برعکس امریکہ نے 2200بلین ڈالرز کا امدادی پیکج دیا تاہم اتنے بڑے امداد کیباوجود امریکہ میں کوروناٹھرنے کا نام ہی نہیں لیتا جس کی سب سے بڑی وجہ (SOPs)کی دھجکیان اڑانا ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے واضح الفاظ میں مکمل لاک ڈاوں کی مخالفت کر دی ہے کیونکہ بقول ان کے ملک معاشی طور پر اتنی مضبوط نہیں کہ وہ مکمل لاک داون کا متحمل ہو سکیں اور اس سے مزدور اور دیہاڑی طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہونگے کیونکہ ملک کی نصف ابادی غربت سے نیچے لکیر میں رہتی ہے۔
حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان نے ملک کی معاشی اور اقتصادی تناظر کے تحت ملک میں سمارٹ لاک ڈاون کا اعلان کردیا جس سے ملک کے تمام صوبون نے اپنانے پر راضی ہوگئے۔اس نئے پالیسی کے تحت ایس او پیز پر عمل درامد کو لازمی قرار دی گئی اورجن علاقوں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو گی اور کیسز بڑھیں گے انہیں ہاٹ سپاٹ قرار دیکر مکمل طور پر سیل کر دیں گے اور اس وقت ملک میں 560سے زیادہ علاقے سیل کر دیے ہیں۔گلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے کیمطابق ملک میں سمارٹ لاک ڈاوں کے بدولت کورونا کے نئے کسیز میں تقریبا 21فیصد کمی ائی ہیں اور اس کے اچھے اثرات سامنے ارہے ہیں لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ احتیاطی تدابیر اپنانے کی نہ صورت میں اگست کے درمیان تک آسی ہزار سے ذائد لوگ اس جراثم سے مر جانے کے امکانات ہیں،یہاں یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ ہم بحثیت شہری حکومت کے ساتھ تعاون کرنے میں ناکام رہے ہیں جہاں حکومت نے ماسک کی استعمال کو لازمی قرار دیا ہے وہاں اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہورہی ہے اور ریاستی اداروں کے لوگ اس میں برابر کے شریک ہیں اس کی ایک مثال کہ چند روز پہلے مجھے ایک حکومتی بنک میں جانے کا اتفاق ہوا بنک کے اہلکار جب بنک سے باہر ارہا تھا تو ماسک اس کے واسکٹ کے جیب میں لٹکا ہوا تھااس سے کتنی دل دکھتاہے کہ ان افعال سے عام شہری کیاخاک سکھیں گے جب تک حکومت کے اپنے لوگ عام شہریون کے لئلیے مثال نہ بن سکیں، وگر ہم کورونا سے نجات حاصل کرنا ہے تو حکومت کے دیے ہوئے اُصولوں پر سختی سے عمل کرنا چاہئے اور ان معاملات کے بارے میں ایکدوسرے کو ایجوکیڈ کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ ہماری صورت حال بھی امریکہ اور برازیل سے بد تر ہوگی۔


شیئر کریں: