Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں! ۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نجی شعبے کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دیدی ہے تاکہ مارکیٹ میں لوگوں کو گندم اور آٹا پورا سال مناسب قیمت پر دستیاب رہے۔ نجی شعبہ پر گندم کی درآمد کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی جائے گی اور حکومت گندم اور آٹے کی دستیابی کے معاملے کی براہ راست مانیٹرنگ کرے گی صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر گندم جاری کرنے کی پالیسی کا اعلان کریں پنجاب 9لاکھ ٹن گندم آئندہ دو ماہ میں فلور ملوں کو جاری کرے گاپاسکو کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی گندم کی ضروریات کا تعین کرکے دونوں صوبوں کو ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے پنجاب سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے درمیان گندم کی نقل وحمل کو آسان بنایا جائیگا بلاتفریق گندم کی آزادانہ نقل وحمل کو ضلعی او ر صوبائی سطح پر بھی یقینی بنایا جائیگا اگر نجی شعبہ گندم درآمد نہیں کرتا تو حکومت خود درآمد کرے گی تاکہ ملکی ضروریات کے مطابق گندم کا وافر سٹاک موجود رہے، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے آٹے کی کسی بھی چیک پوائنٹ سے افغانستان سمگلنگ کی سختی سے ممانعت کردی۔پنجاب گندم پیدا کرنے والا سب سے بڑا صوبہ ہے جو خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور آزاد کشمیرکو بھی گندم اور آٹا فراہم کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گندم کی مقامی پیداوار صوبے کی مجموعی ضرورت کے ایک چوتھائی سے بھی کم ہے۔ پنجاب سے ہر سال ایک سے زائد مرتبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو گندم اور آٹے کی ترسیل میں تعطل پیدا ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے آٹے اورروٹی کی قیمت میں اضافہ معمول بن گیاہے۔ اگر وفاق، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں مختلف جماعتوں کی حکومتیں ہوں تو اس معاملے کو سیاسی رنگ بھی دیا جاسکتا ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ایک ہی پارٹی یا اتحادی جماعتوں کی حکومت کے ادوار میں بھی آٹے کا بحران سر اٹھاتا رہا ہے۔ 1998میں مسلم لیگ اور اتحادی جماعتوں کی مرکزاور صوبے میں حکومت قائم ہونے کے باوجود آٹے کا سنگین بحران پیدا ہوگیا اور پشاور کے تندوروں پر روٹی کی قیمت سات روپے سے بڑھا کر اٹھارہ روپے کردی گئی، لوگوں کو آٹے کے نام پر چوکر کھلایاگیا۔موجودہ حکومت کے دور میں بھی گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران خیبر پختونخوا میں بار ہا آٹے کا بحران سر اٹھاتا رہا۔آج بھی پشاور کی اوپن مارکیٹ میں بیس کلو گرام آٹے کے تھیلے کی قیمت آٹھ سو روپے سے بڑھ کر بارہ سو روپے تک پہنچ گئی ہے۔روٹی ہر گھر کی روزمرہ کی ضرورت ہے ہر امیر اور غریب، بوڑھا، جوان، خواتین، مرداور بچے دن میں تین بار روٹی کھاتے ہیں آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط اور غریب طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ آج تک کسی بھی حکومت نے گندم کی نئی فصل کی بروقت خریداری، محفوظ کرنے اور بلارکاوٹ نقل و حمل کے حوالے سے جامع پالیسی نہیں بنائی، جس کی وجہ سے گندم اور آٹے کی صوبوں کے درمیان نقل و حمل میں تعطل پیدا ہوتا رہتا ہے۔ آٹے کی افغانستان سمگلنگ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے حکومت نے آٹے کی قانونی طور پر برآمد اور سمگلنگ پر پابندی تو لگادی ہے مگر اس پابندی پر عمل درآمد کروانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئی۔ طور خم، نواس پاس اور غلام خان بارڈر کے معروف راستوں کے علاوہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے دو درجن سے زیادہ غیر روایتی اور پہاڑی راستوں سے آٹے، دودھ کی مصنوعات، گوشت، چکن اور دیگر اشیائے خوردونوش کی افغانستان سمگلنگ کا سلسلہ سال بھر جاری رہتا ہے۔ اور یہ سارا کام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناک کے نیچے کھلے عام ہوتا ہے سمگل کیا جانے والا مال
پشاور سے تین گنا زیادہ قیمت پر کابل، قندہار، جلال آباد، کنٹر، بری کوٹ اور افغانستان کے دیگر شہروں میں فروخت کیا جاتا ہے اس میں سمگلنگ کی سرپرستی کرنے والے سرکاری اداروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔سمگلنگ کے اس دھندے میں ہزاروں افراد ملوث ہیں اس سے نہ صرف مقامی سطح پر اشیائے خوردونوش کی قلت پیدا ہوتی ہے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے بلکہ ڈیوٹیوں کی عدم ادائیگی سے قومی خزانے کو بھی سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔چھوٹے صوبوں کی ضروریات کے مطابق گندم اور آٹے کی بلاروک ٹوک نقل و حمل یقینی بنانے کے حوالے سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کا فیصلہ خوش آئند ہے لیکن جب تک نقل وحمل میں رکاوٹیں پیدا کرنے، ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ میں ملوث عناصر کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، گندم اور آٹے کا بحران سر اٹھاتا رہے گا اور غریب طبقہ استحصال کا شکار ہوتا رہے گا۔


شیئر کریں: