Chitral Times

Jul 3, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سوچنا منع ہے….سید اولاد الد ین شاہ

شیئر کریں:

 یہ سوچ ہی ہے جو حضرت انسان کو ترقی کے اعلی مقام تک پہنچایا۔ جہاں سوچنے پہ پابندی عائد ہوتی ہے وہاں سے انسان کا زوال شروع ہو جاتا ہے۔ سوال ایسے لوگ کرتے ہیں جن کے دماغ میں کچھ ہو۔ ورنہ معاشرے میں ایسے ہستیاں پیدا ہوتے ہیں جن کو ترقی کا جھانسہ دے کر ٹرک کی بتی کے پیچھے آسانی سے بھگایا جا سکتا ہے۔ اور وہ اس بتی کی روشنی کو منزل مقصود سمجھ کر بھاگتے بھی ہیں۔

کیوں، کیا اور کیسے دیکھنے میں بہت آسان الفاظ ہیں۔ لیکن ان الفاظ کے استعمال کرنے والے فرد یا افراد کو اتنی آسانی سے قائل نہیں کیا جا سکتا۔ اور ایسے لوگ ہی دنیا میں انقلاب لائے ہیں، لاتے ہیں اور لاتے رہیں گے۔ فرض کریں ہم کشش ثقل کے قانوں کو ہی لے لیتے ہیں۔ ۱۶۶۶ میں نیوٹن نے کشش ثقل کا قانوں وضع کیا۔ جس کا تعلق جسم کی کمیت سے ہے۔ شے جتنا بڑا ہو گا اس کا اثر بھی اتنا زوردار ہوگا۔ ہوا یوں گھر کے سامنے درخت سے سیب زمیں پر گرا۔ اس کو نیوٹن نے محسوس کیا۔ بات سوچنے کی ہے۔ سیب نیچے کیوں گرا اوپر بھی تو جا سکتا تھا۔ نتیجہ یہ نکالا کہ زمین میں وہ قوت ہے جو ارد گرد کے اشیا کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس عمل کو کشش ثقل کہتے ہیں۔ ہمارا جیسا آدمی ہوتا اُٹھا کر کھا لیتا سوچ کر کیا کرنا، پاگل تھوڑی ہے۔ اوپر جائے نیچے آۓ  پیٹ بھر جائے بات ختم۔

 اب آتے ہیں موضوع کی جانب، ہم لوگوں میں اختلاف رائے کو برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ جو ہم سے مختلف سوچتے ہیں ان کو یا تو کافر یا تو غدار قرار دے کر تنگ کرنے کے مختلف حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں کچھ اساتذہ کو اُن کے سوچ کی بنیاد پر یا تو ہراساں کیا گیا یا نوکری سے فارع کردیا  گیا۔

 یہ لوگ ہمارے اثاثے ہیں۔ ان کی قابلیت کی پوری دنیا معترف ہے۔ لیکن ایک ہم ہیں جو ان کی قدر نہیں کرتے۔ ہمیں ترقیافتہ سوچ چاہئے ہی نہیں۔ لوگ پرویزہود بائی کے بارے میں کہتے ہیں۔ سائنس کے بارے میں اں کی کیا خدمات ہیں۔ جو سماجی معاملات پر بات کرتا ہے۔ آج کل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ بس ہمیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کرنا بس سب کچھ اُن کے منہ سے سننا ہے۔ محمد حنیف لکھاری ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے گیارہ سال پہلے چھپنے والے exploding mangoes کا اردو تر جمعہ پھٹے آم حال ہی میں شائع ہوا۔ جرنیل ضیا الحق صاحب کے بیٹے کی اعجاز الحق کی طرف سے مترجم سید کاشف رضا صاحب کو ایک قانونی نوٹس بیجھا گیا۔پھر کتابیں مارکیٹ سے اٹھالی گئی۔ اب اس کے مصنف محمد حنیف صاحب کو بھی حبیب یونیورسٹی میں مزید پڑھانے کا موقع دینے سے معذرت کیا گیا۔ خیر جان ہے تو جہاں ہے۔

باقی عمار علی جان صاحب پولیٹیکل سائنس میں کمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ اور پاکستان آکر کرسچن کالج فارمن میں پڑھا رہے تھے۔ اسسٹنٹ پروفیسر تھے ۔ اس کو بھی وزٹنگ فیکلٹی کا جاب آفر کیا گیا ہے۔ جو اس نے رد کر دی۔ یہ رہا ہمارے قابل اساتذہ کا انجام۔

اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا

 رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا 

لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا 

ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا  (حبیب جالب)


شیئر کریں: