Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

احساس پروگرام کے تحت نیا سروے کرنے کیلئے ورک پلان تیار کرنے کا فیصلہ ۔۔۔وزیراعلٰی

شیئر کریں:


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے وزیراعظم کی معاون خصوصی ثانیہ نشتر کی ملاقات۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان کی زیادہ سے زیادہ آبادی کو احساس پروگرام میں شامل کرنے کے لئے نیا سروے کرنے پر اتفاق۔


پشاور میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے تعاون سے لنگر خانے کا افتتاح۔
مستحق لوگوں اور مسافروں کی سہولت کے لئے صوبے میں مزیدلنگر خانے بھی قائم کئے جائیں گے۔ محمود خان


پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے وزیراعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بدھ کے روز اُن کے دفتر میں ملاقات کی اور صوبے میں کورونا وباءکی وجہ سے متاثر ہونے والے مستحق افراد کو نقد امدادی رقوم کی تقسیم کے علاوہ مسافروں اور دیگر مستحق افراد کو مفت خوراک کی فراہمی کے لنگر خانوں کے انتظام و انصرام سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں احساس پروگرام کے تحت مالی امداد کے لئے زیادہ سے زیادہ مستحق آبادی کو پروگرا م میں شامل کرنے کے لئے نیا سروے کرنے میں اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں جلد ہی ورک پلان تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کورونا کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے صوبے کے متاثرہ مستحق خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ریلیف پیکج کی مد میں نقد رقوم کی تقسیم کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے میں اس ریلیف پیکج کی تقسیم انتہائی شفاف اور منظم انداز میں ہوئی ہے اور صرف مطلوبہ معیار پر پورا اُترنے والے مستحق خاندان ہی اس پیکج سے مستفید ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور اس کی پوری ٹیم نے کورونا ریلیف پیکج کی تقسیم کے عمل کو کامیاب بنانے کے لئے جس انداز میں کام کیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، اس کی ٹیم اور تمام اضلاع کی انتظامیہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے صوبے میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کو کامیاب بنانے میں صوبائی حکومت کے تعاون اور اشتراک کار کو مثالی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ آئندہ بھی اس طرح کے تعاون اور اشتراک کار کی اُمید رکھتی ہیں۔


دریں اثناءوزیراعلیٰ نے معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ہمراہ پشاور میں سیلانی لنگر خانے کا افتتاح کیا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں مسافروں سمیت دیگر مستحق افراد کو مفت خوراک کی فراہمی کے لئے لنگر خانوں کے قیام کو وزیراعظم پاکستان کا ایک غریب پرور اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وباءکیوجہ سے صوبے میں لنگر خانوں کے معاملات سست روی کا شکار ہو گئے لیکن چونکہ ہم نے اس وبا ءکے ساتھ رہنا ہے۔ اس لئے لنگر خانوں کو اب مزید فعال بنایا جائیگا۔ صوبے میں اس وقت گیارہ لنگر خانے قائم ہیں اور مزید لنگر خانے بھی قائم کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے اس سلسلے میں سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے منتظمین کا بھی شکریہ ادا کیا۔


بعد ازاں وزیراعلیٰ محمود خان اور معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سٹی نمبر 1 میں قائم احساس کیش ڈیلیوری پوائنٹ کا بھی دورہ کیااور وہاں پر کیش کی تقسیم کار کے کاموں کا جائزہ لیا۔

پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی ) کی نو تعمیر شدہ عمارت کو فی الوقت کورونا سے متاثرہ مریضوں کے علاج کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ


پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )  پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی ) کی نو تعمیر شدہ عمارت کو فی الوقت کورونا سے متاثرہ مریضوں کے علاج کیلئے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا گیاہے اور مذکورہ ہسپتال کوفور ی طور پر فعال بنانے کیلئے محکمہ صحت کو درکار طبی عملے کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پی آئی سی کو کورونا مریضوں کیلئے فوری طور پر فعال بنانے کیلئے واک ان انٹرویو کے ذریعے ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی بھرتی کی بھی منظوری دے دی گئی ہے ۔اسی طرح محکمہ مواصلات ، پی ٹی سی ایل اور پیسکو کو بھی فوری طور پر عمارت میں یوٹیلیٹی کنکشنز کو بروقت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا ، وزیرمحنت شوکت یوسفزئی ، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز،ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر، کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود،انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ڈاکٹر ثناءاﷲعباسی متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔

اجلاس کو کورونا کی تازہ ترین صورتحال ، سمارٹ لاک ڈاﺅن پر عمل درآمد ، کورونا کے مریضوں کیلئے سرکاری ہسپتالوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے سلسلے میں اب تک کی پیشرفت اور دیگر مختلف اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کو مزید موثر بنانے اور بازاروں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے انتظامیہ کو مناسب اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مارکیٹوں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے متعلقہ تاجر تنظیموں کے ساتھ بات چیت کی جائے جس کے بعد جن مارکیٹوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی ہو اُن کو فوری طور پر بند کر دیا جائے ۔ اجلاس میں آنے والی عید الضحیٰ اور محرم الحرام کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر قابل عمل حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اوراس مقصد کیلئے سیکرٹری داخلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ عید قربان کیلئے جانوروں کی خریدو فروخت کیلئے جگہ جگہ مویشی منڈیوں کی بجائے مخصوص ایس او پیز کے تحت منتخب مقامات پر ہی مویشی منڈیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔ 31 مئی 2020 کو صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں آئی سی یو بیڈز کی تعداد 121 تھی جس میں 24 جون تک مزید49 بیڈز کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ 31 جولائی تک آئی سی یو بیڈز کی تعداد 330 تک بڑھا دی جائے گی ۔آئی سی یو بیڈز کی یو ٹیلائزیشن کی شرح 66 فیصد ہے ۔ اسی طرح ایچ ڈی یو بیڈز کی استعداد 490 سے بڑھا کر696 کر دی گئی ہے ۔ 31 جولائی تک ایچ ڈی یو بیڈز کی مجموعی استعداد 1644 تک لے جانے کا پروگرام ہے ۔ صوبے میں دستیاب ایچ ڈی یو بیڈز کی یوٹیلائزیشن کی شرح 50 فیصد ہے۔

صوبے کے تدریسی ہسپتالوں میں ٹیسٹنگ لیبارٹریز کو ہفتہ بھر چوبیس گھنٹے چلانے کی ہدایت بھی کی جا چکی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر مرکزی کنٹرول روم کو دیگر تمام ہسپتالوں سے مربوط کرنے اور ہسپتالوں کے فوکل پرسنز مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ مختلف ہسپتالوں میں مختص آئی سی یو اور ایچ ڈی یو بیڈز کا بروقت اور بہتر استعمال ممکن ہو سکے ۔ اس اقدام سے کسی ایک ہسپتال پر بوجھ بھی نہیں پڑے گا اور مریضوں کو تکلیف بھی نہیں ہو گی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے تعاو ن سے آئندہ ماہ جولائی کے اختتام تک صوبے کے تین ہسپتالوں پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی، ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال رجڑ چارسدہ ، ویمن اینڈ چلڈرن بلاک ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں 450 اضافیبیڈز کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی ۔جولائی کے وسط تک پشاور انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 40 آئی سی یو بیڈز، 110 ایچ ڈی یو بیڈز اور 100 آئسولیشن بیڈز قائم کئے جائیں گے ۔ پشاور کے دو تدریسی ہسپتالوں ایل آر ایچ اور کے ٹی ایچ کورونا کے مریضوں کیلئے کافی بیڈز دستیاب ہیں۔ صوبے میں کورونا ٹیسٹنگ کی مجموعی استعداد ساڑھے تین ہزار یومیہ سے تجاوز کر گئی ہے ، سندھ کے بعد فی ملین آباد ی کے مقابل سب سے زیادہ کورونا ٹیسٹنگ کی جارہی ہے ۔

وزیراعلیٰ کی پولیس کی طرف سے شہری پر تشدد اور اُس کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے واقعے کا سختی سے نوٹس

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے پولیس کی طرف سے شہری پر تشدد اور اُس کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کو اپنے دفتر طلب کر کے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر معطل اور گرفتار کرکے اُن کے خلاف سخت سے سخت محکمانہ کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی پی کو واقعے کی صاف شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کرکے رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے ۔ اس سلسلے میں اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور انسانیت اور انسانیت کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی اور متاثرہ شہری کے ساتھ پورا انصاف کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پولیس کا کام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے ،کسی کو بھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ، مجرم کو سزا دینا عدالت کا کام ہے پولیس کا نہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا پولیس ایک مثالی پولیس ہے اور صوبے میں امن و امان کے قیام کیلئے خیبر پختونخوا پولیس نے قربانیوں کی ایک داستان رقم کی ہے لیکن کچھ عناصر ایسی حرکتوں سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں ایسے عناصر کی پولیس میں کوئی جگہ نہیں ہو گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی کی ملاقات

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ )وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے سابق صوبائی وزیر شہرام ترکئی نے ملاقات کی ہے ۔ ملاقات میں گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں وزیراعلیٰ محمود خان اور شہرام ترکئی کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی کسی کے ساتھ ذاتی رنجش اور لڑائی نہیں ہے ،وہ بحیثیت ٹیم لیڈر حکومت اور پارٹی کے ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے کام کر رہے ہیں اور اس طرح تمام ٹیم ممبران سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ پارٹی کے ایجنڈے کی تکمیل اور حکومتی اصلاحات کی کامیابی کیلئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کریں ۔اس راستے میں جو بھی رکاوٹ بنے گا وہ پارٹی کا وفادار اور مخلص کارکن نہیں ہو سکتااور جو اس ایجنڈے کی تکمیل کیلئے خلوص نیت سے کام کرے گا ہم اُس کو بھر پور عزت دیں گے ۔


شیئر کریں: