Chitral Times

Feb 23, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجور زیست۔۔۔۔۔۔۔میں کس پہ اعتبار کروں؟ …..تحریر:دلشاد پری بونی

شیئر کریں:

لکھتے لکھتے ہمارے قلم تھک جاتے ہیں مگر نہ یہ درندے سدھر جاتے ہیں نہ ان کا ضمیر جاگتا ہے۔میں کس پہ اعتبار کروں جب ایک ہی گھر کے اندر ایک بیٹی اپنے ہی محافظ محرم باپ یا چچا کے ہوس کا نشانہ بن جاتی ہے۔میں کس پہ اعتبار کروں جب ایک بہن کی عزت ان کے اپنے بھائیوں کے ہاتھ لٹ جاتی ہے۔میں کس پہ اعتبار کروں جس سکول میں بچوں کو ایک اچھا شہری بننے کے لئے اخلاقی و ذہنی تربیت کے لئے بھیجی جاتی ہے اور وہاں ان کا محافظ ہی درندہ نکلے۔میں کس پہ اعتبار کروں جب روحانی تربیت کے لئے جاتے ہوئے اس گلشن کے ننھی کلیوں کو ان کے اپنی روحانی استاد ہی روح تک چھلنی کر دے اور ان کو مسل دے۔کھبی کھبی سوچتی ہوں یہ کرونا کچھ بھی نہی ہمارے اعمال کے سامنے۔خونی رشتہ دار کے گھر بچے کسی کام سے بھیج کے دل میں ہول اٹھتا ہے کہ واپس آئے گا بھی کہ نہی۔


آئے روز معاشرے میں ہم جنس پرستی اور،بچوں کی جنسی استحصال میں اضافہ ہو رہاہے اور میں حیران ہو جاتی ہوں خواتین کے سانس لینے پہ تبصرے کرنے والے میرے معزز بھائیاں کہاں چلے جاتے ہیں؟کیا اس معاشرے کو ٹھیک کرنا صرٖٖف پولیس یا خواتین کی زمہ داری ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو عبرت ناک سزا کھانے کے باوجود اپنی گندی فطرت سے باز نہی آتے اور جیل کاٹنے کے بعد پہلے سے بھی درندے بن کے نکلتے ہیں؟کھبی ہم لوگوں نے سوچنے کی زحمت کی ہے کہ ایسا کیوں ہو تا ہے؟نہی ہمیں تو دوسروں کی بیٹیوں پہ تبصرے کرنے سے فرصت نہی اور ہم ان معاشرتی برائیوں کو دنیا کے سامنے نہی لا سکتے کونکہ ہمیں اپنے نام نہاد شرافت بہت پیاری ہے چاہے کسی کا اکلوتا چھ سال کا بیٹا کسی درندے کی ہوس کا شکار ہو جائے۔پولیس تو اپنا کام کر جاتی ہے اسکو گرفتار بھی کرتی ہے،سزا بھی دلواتی ہے مگر کیا بحیثت شہری ہم اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں؟نہی جی بہت سے معزز لوگ ایسے لوگوں کی خود پشت پناہی کرتے ہیں۔کاش نہ کوئی وکیل ایسے لوگوں کا کیس لڑے نہ گھر کے افراد اس سے کوئی تعلق رکھے تب وہ خود سدھر جائے گا مگر ہماری نظر میں تو یہ معمول کے واقعات ہیں تو ہمیں کیا پرواہ۔ایسے لوگ تو قانونی کسی بھی رعایت کے مستحق نہی۔ان کے اعمال پہ پردہ ڈال کے ہم ان کو مزید شہ دیتے ہیں۔


اس تحریر کی وساطت سے میں والدین سے درخواست کرتی ہو ں کہ مہربانی کرکے بیٹی کی تربیت سے زیادہ بیٹے کی تربیت پہ زور دے۔ کیونکہ جب آپ کا بیٹا غلط راہ پہ نکل پڑتا ہے تو اس کے ہاتھوں پورا معاشرہ برباد ہوتا ہے۔ نہ صرف خواتین ان کی ہوس کا شکار ہوتی ہیں بلکہ بچے بھی ان سے نہی بچ پاتے یہاں تک کہ ان سے گونگے بہرے بھی محفوظ نہی۔۔ شراب،بھنگ یا چرس کے نشے میں دھت میں راہ چلتے ایسی ایسی حرکاتیں کر جاتے ہیں جن کو دیکھ کی ان کے تربیت پہ افسوس ہو جا تا ہے۔ایسے وحشی انسان کے ہاتھوں اس کے سگے رشتے بھی محفوظ نہی رہ سکتے۔ایسے لوگ کھبی بھی قابل اعتبار نہی ہوتے۔ہمیں اپنے بچوں کو ان حالات سے اگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچے ان درندوں کے ہوس سے بچ سکے۔ماں باپ کی زمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو (GOOD TOUCH) اور (BAD TOUCH) کے متعلق سمجھا دے۔ایسے گھناؤنے واقعات پہ پردہ ڈالنے کی بجائے ہمیں child protection organization اور پولیس کو بروقت خبر دینے کی ضرورت ہے۔

میں ایک انکھوں دیکھا واقۂ آپ کو بیان کر رہی ہوں دو۔تین ماہ پہلی کی بات ہے کہ میں ڈیوٹی پہ جا رہی تھی زرگراندہ کے مین راستے پہ جوں ہی گزر رہی تھی میری نظر ایک کرائے کے گھر پہ پڑی جس میں اکثر کرایہ دار رہتے ہیں مت پوچھو ایک تقریبا ببیس بائیس سال کا لڑکا ادھا ننگے ہو کے دروازے پہ کھڑا راہ چلتے ہوئے معصوم بچیوں کو ڈرا رہا تھااور بہت نا زیبا حرکاتیں کر رہا تھا۔یہ تو شکر ہے اس نے مجھے نہی دیکھا میں کچھ دیر کھڑی چپکے سے اس کی حرکاتیں نوٹ کر رہی تھی جب بھی کوئی مرد آجا تاتھا وہ بھاگ کے درواہ بند کرتا تھا جب وہ گزر جاتا تو پھر یہ اسی نازیبا حلیے میں نکلتا تھا۔میں چپکے سے واپس ائی۔یہ شکر ہے کہ زرگراندہ کے لوگ بہت غیرت مند ہیں۔ایک دکاندار بھائی کو بتایا اس نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہم نے مل کے اسکی درگت بنا دی صرف یہی نہی بروقت تھانہ چترال کے S.H.O صاحب کے نوٹس میں لے آئی S.H.O صا حب نے اس وقت ہی اس کو کرائے کے گھر سے نکال دیا۔اس لڑکے نے آئندہ کے لئے توبہ کر لیا۔مجھے حیرت اس وقت ہوئی جب اسکے کمرے سے ملحقہ کرایہ داروں سے اس کا نام پتہ پوچھا تو وہ لوگ اس کو جانتے بھی نہی تھے۔ہم لوگ کرایے پہ لوگ رکھتے ہیں مگر کبھی بھی ان کا کردار جاننے کی کوشش نہی کرتے۔اگر اس دن ہم لوگ نہ دیکھتے تو پتہ نہی وہ کتنے معصوم بچیوں کو اپنے ہوس کا نشانہ بناتا۔ایک نظر ہمیں اپنے اس پاس کے کرایہ داروں پہ بھی رکھنے کی ضرورت ہے۔ہر ایک کام پولیس اور اداروں پہ ڈال کے بری ذمہ نہی ہونا ہے ہمیں۔ہر ایک کو اپنے زمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے۔انکھیں بند کرنے سے کچھ ٹھیک ہونے والا نہی۔جب ہر کوئی اپنی ذمہ داری نبھائے گا تب معاشرے سے ہر برائی کا خاتمہ ہوگا۔

افسوس اس بات پہ ہے کہ ایک انگریز نے بھی ان گھناؤنے جرائم کے خاتمے کے لئے قانون پاس کیا جن کو ہم بحیثیت مسلمان معمولی سمجھتے ہیں۔پاکستان کے قیام کے بعد ان دفعات کو تعزیرات پا کستان کا حصہ بنا دیا گیا جو ا ج تک لاگو ہیں۔ان میں سے کچھ کا زکر اور سزا ذیل ہیں۔
زنا با لجبر۔۔ PPC 375 سزا 376 PPC سزائے موت یا عمر قید
خلاف وضع فطری۔ PPC 377 سزا عمر قید یا دس سال تک قید
فحش حرکات اور فحش گیت کسی مقام میں۔PPC 294 سزا تین ماہ مع جرمانہ۔
حملہ یا جبر مجرمانہ عورت کی عفت میں خلل ڈالنے کی نیت سے۔۔ PPC 354سزا دو سال اسکے علاوہ بھی بہت سے دفعات ہیں جن کی بہت سخت سزائیں ہیں۔ جبکہ Child protection and welfare act no 13 of 2010 کے دفعات ذیل ہیں۔
دفعہ 40۔۔بچے کے اعضاء کے ساتھ چھیڑنا۔۔سزا دفعہ 41 میں سزائے موت یا عمر قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ۔
دفعہ۔48 بچے کی فحش تصویر کشی ۔۔۔سات سال تک قید اور پانچ لاکھ تک

دفعہ 50 ۔بچوں کو جنسی ملاپ کے لئے ترغیب دینا۔سات سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ۔
دفعہ. 53 بچوں کے ساتھ جنسی فحاشی۔۔سات سے چودہ سال تک قید اور دس لاکھ روپے جر مانہ۔
اگر یہی سزا ان درندوں کو ملتی رہے تو شاید ان کے عقل تھوڑے ٹھکانے آجائے۔


شیئر کریں: